| 86875 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
مالِ زکوٰۃ پر سال گزرنا جو شرط ہے مجھے اس کی واضح تشریح چاہیے۔ درمیان سال میں مال کم زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ فرق پڑتا ہے یانہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مال زکوٰۃ پرسال گزرنے کا مطلب یہ ہے کہ سال کے آغاز اور اختتام پر آدمی صاحبِ نصاب ہو،سال کےدرمیان مال کا نصاب سےکم یازیادہ ہونے سےکوئی فرق نہیں پڑتا۔البتہ اگردورانِ سال کسی کی ملکیت سے مال مکمل طور پر ختم ہوجائے تو ایسی صورت میں آدمی کے پاس جب دوبارہ نصاب کے بقدر مال آئے گا تو اسی وقت سے اس کا زکوٰۃ کا سال شروع ہوگا۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:(وشرط كمال النصاب) ولو سائمة (في طرفي الحول) في الابتداء للانعقاد وفي الانتهاء للوجوب (فلا يضر نقصانه بينهما) فلو هلك كله بطل الحول.(الردعلی الدر:(302/2
قال العلامۃ علي الزيلعي الحنفي رحمہ اللہ:ونقصان النصاب فی الحول لا یضر إن کمل في طرفیہ، أي: إذا کان النصاب کاملاً فی ابتداء الحول وانتھائہ فنقصانہ فیما بین ذلک لا یسقط الزکاة،…… إلا أنہ لا بد من بقاء شیٴ من النصاب الذي انعقد علیہ الحول لیضم المستفاد إلیہ؛ لأن ھلاک الکل یبطل انعقاد الحول؛ إذ لا یمکن اعتبارہ بدون المال.(تبیین الحقائق:(280/1
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
18شعبان المعظم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


