03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کے ہوتے ہوئے بیوی کا نامحرم سے تعلقات رکھنااور ان کی اصلاح کا طریقہ
87108معاشرت کے آداب و حقوق کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

میری بیوی سوشل میڈیا پر دوستوں کے ساتھ دوستی قائم کرکے لمبی لمبی باتیں کرتی ہے۔ منع کرنے کے باوجود نہیں مان رہی۔ اس نے موبائل پر پاس ورڈ لگایا ہوا ہے۔ ایک مرتبہ میں نے زبردستی اس کی کال ہسٹری چیک کی، جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ طویل گفتگو کرتی ہے، اور اس سے میرے شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے۔

وہ کہتی ہے کہ مجھے فلاں فلاں بیماری ہے، آپ کےپاس بات کرنے کے لیے وقت نہیں ۔ حتیٰ کہ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر تمہیں کوئی مسئلہ ہے تو مجھے چھوڑ دو، جو کچھ کرنا ہے کر لو، لیکن میں یہ سب کچھ کرتی رہوں گی۔اس صورت حال کے پیش نظر بیوی کی اصلاح کے لیے شریعت کی روشنی میں رہنمائی درکار ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں جب بیوی اپنی بیماری بتا کر یہ سب کچھ کرتی ہے تو سب سے پہلے آپ کے اوپر لازم ہے کہ کسی اچھے ڈاکٹر سے بیوی کا علاج کرائیں ، اگر واقعی بیماری ہو تو علاج کے بعد وہ ان حرکتوں سے خود بخود باز آجائےگی۔اگر بیمار نہیں ہے تو مندرجہ ذیل تفصیل کی روشنی میں آپ اصلاح کی کوشش کریں:

واضح رہے کہ زوجین کے رشتے اور تعلقات کو خوشگوار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کریں اور بدگمانی سے گریز کریں۔ نیز، ایسے تمام امور سے بچنا چاہیے جو شک و شبہ کو جنم دے سکتے ہوں اور باہمی بداعتمادی کا باعث بن سکتے ہوں۔

البتہ یہ اس وقت ہے جب بیوی کے نامحرم کے ساتھ روابط کے بارے میں یقینی معلومات نہ ہوں، لیکن اگر یہ یقینی طور پر معلوم ہو کہ بیوی کوئی غیرشرعی کام کر رہی ہے یا کسی نامحرم کے ساتھ رابطہ رکھتی ہے، تو شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کی نگرانی کرے اور اسے ان کاموں سے باز رکھے، تاکہ گناہ سے بھی حفاظت ہو اور میاں بیوی دونوں کی عزتِ نفس بھی مجروح نہ ہو۔

مذکورہ صورت میں اگر بیوی کسی نامحرم کے ساتھ سوشل میڈیا یا کسی بھی ذریعے سے رابطہ قائم کرتی ہے اور طویل گفتگو کرتی ہے، تو یقیناً یہ ایک انتہائی قبیح فعل ہے، جس پرآپ کو خاموش نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کی اصلاح ضروری ہے۔البتہ اصلاح کے لیے درج ذیل طریقہ اختیار کریں تاکہ یہ موثر ثابت ہو اور صورتِ حال مزید بگاڑ کا شکار نہ ہو۔

 پہلا درجہ اصلاح کا یہ ہے کہ نرمی سے اس کو سمجھائے ۔

 اگربیوی  محض سمجھانے سے باز نہ آئے تودوسرےدرجہ میں شوہر اپنا بستر علیحدہ کر دے، تاکہ وہ اس علیحدگی سے شوہر کی ناراضگی  کا احساس کر کے اپنے فعل پر نادم ہو جائے، قرآن کریم میں(فِي الْمَضَاجِعِ)  کا لفظ  آیا ہے، اس کامطلب  فقہاءِ  کرام  نے  یہ لکھا ہے کہ جدائی صرف بستر میں ہو، مکان کی جدائی نہ کرے کہ عورت کو مکان میں تنہا چھوڑ دے اس سےفساد بڑھنے کا اندیشہ   زیادہ ہے۔ چنا نچہ  ایک صحابی سے روایت ہے:

اور جوعورت  اس سزا  سے بھی متاثر نہ ہو تو  تیسرے درجہ میں  اس کو معمولی مار مارنے کی بھی اجازت ہے، جس سے اس کے بدن پر اثر نہ پڑے، نیز  ہڈی ٹوٹنے یا زخم لگنے تک نوبت نہ آئے اور چہرہ پر مارنے کو مطلقاً منع کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں خاندان کے بڑوں  یا کسی ایسے محرم کے ذریعہ بیوی کو شوہر کی اطاعت و فرماں برداری کا سبق پڑھوایا  جائے، جن کی بات کا اس پر اثر ہو، امید ہے کہ مذکورہ بالا طرقِ اصلاح سے  بیوی کے رویے میں بہتری آ جائے گی۔

حوالہ جات

ارشادِ  باری تعالٰی ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا﴾(الحجرات(12:

ترجمہ:اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں،  اور کسی کی ٹوہ میں نہ لگو  اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔(آسان ترجمہ قرآن:(1574/3

ارشادِ  باری تعالٰی ہے:

﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ﴾( النساء: 35(

ترجمہ:اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو تو (پہلے) انہیں سمجھاؤ، اور (اگر اس سے کام نہ چلے تو) انہیں خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دو ، (اور اس سے بھی اصلاح نہ ہو تو) انہیں مار سکتے ہو۔ (آسان ترجمہ قرآن:(263/1

و في مشكاة المصابيح :967/2رقم الحدیث:3268

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «استوصوا بالنساء خيرا فإنهن خلقن من ضلع وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه فإن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل أعوج فاستوصوا بالنساء.

و في مشكاة المصابيح :968/2رقم الحدیث:3242

وعن عبد الله بن زمعة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يجلد أحدكم امرأته جلد العبد ثم يجامعها في آخر اليوم.

و في مشكاة المصابيح :971/2رقم  الحدیث:3252

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي، وإذا مات صاحبكم فدعوه.

و في السنن لأبي داؤد:479/3

عن إياس بن عبد الله بن أبي ذباب، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "لا ‌تضربوا ‌إماء ‌الله" فجاء عمر إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال: ذئرن النساء على أزواجهن، فرخص في ضربهن، فأطاف بآل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - نساء كثير يشكون أزواجهن، فقال النبي - صلى الله عليه وسلم -: لقد طاف بآل محمد نساء كثير يشكون أزواجهن، ليس أولئك بخياركم.

    جمیل الرحمٰن  بن محمد ہاشم                                                                                                                                               

 دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

6رمضان المبارک 1446ھ                                    

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب