03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذبیحہ سے متعلق ایک حدیث کی وضاحت(يا رسول الله ، إن قوما يأتوننا باللحم لا ندري اذكروا اسم الله عليه أم لا؟)
87110حدیث سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ قَوْمًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَنَا بِاللَّحْمِ لاَ نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لا،َ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم :‏ "‏ سَمُّوا اللَّهَ عَلَيْهِ وَكُلُوهُ.

حدیث کی وضاحت کریں اور فتویٰ بھی دیں کہ اگر کوئی اس کا حوالہ دیتا ہے اس مسئلے میں تو کیا جواب ہوگا؟کیونکہ شیخ عاصم نے اس کو بیان کیا ہے، جو کہ حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ بالا حدیث بخاری شریف  میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے  منقول ہے۔حدیث کا ترجمہ یہ ہے:

"حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے"کچھ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں، اور ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے اس پر اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم اس پر اللہ کا نام لو اور اسے کھا لو۔"(الصحیح للبخاري:159/3،رقم الحدیث:(2066

تمہیداً یہ  بات سمجھ لیں کہ کسی بھی مسئلہ میں حدیث سے براہ راست  استدلال کرنا اور اس کا حوالہ دینا مجتہدین کا کام ہے ،الا یہ کہ کوئی حدیث بہت ہی واضح  ہو یا کوئی جدید مسئلہ ہوتوفقہ اور فن حدیث کے ماہر علماء کرام   بھی براہ راست  حدیث سے استدلا ل کرتے ہیں ، ورنہ مفتی اصل میں اس حکم کےلیے ناقل ہوتاہے،جو  حکم مجتہد نے حدیث سےنکالا ہوتاہے ،لہذا   عام بندے کےلیے جائز نہیں کہ وہ حدیث سے براہ راست کسی چیز کی حلت یا حرمت پر استدلال کرے ، کیونکہ بہت ساری احادیث ایسی ہیں جو ظاہر پر محمول نہیں ،بلکہ شان ورود کے اعتبار سے مختلف  حالتوں پر محمول ہوتی ہیں ۔

مذکورہ مسئلے  میں اگر کوئی اس حدیث کو بطور حوالہ پیش کرتاہے تو اس کا   تفصیلی جواب مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ  نے اپنی  کتاب " فقہی  مقالات"میں   اسی مسئلہ  کو بیان کرتے ہوئے  کچھ یوں تحریر فرمایا ہے:

"اس طرح بعض شوافع نے صحیح بخاری کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:

أن قوماً قالوا للنبي صلى الله عليه وسلم:إن قوماً يأتوننا بلحم لا ندرى أذكروا اسم الله عليه أم لا فقال : سموا عليه انتم وكلوه.قالت: وكانوا حديثي عهد بالكفر . (الصحیح للبخاري:159/3،رقم الحدیث:(2066

یعنی ایک قوم کے لوگوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بعض لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں، لیکن ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ آیا انہوں نے ذبح کرتے وقت اس پر اللہ کا نام لیا تھا یا نہیں؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم اس پر اللہ کا نام لے کر کھا لو۔" حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ لوگ زمانۂ کفر سے قریب تھے۔

لیکن اس حدیث سے اس جانور کی حلت پر مکمل استدلال نہیں کیا جا سکتا، جس کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو کہ ذبح کرنے والے نے "بسم اللہ" چھوڑ دی ہے۔ زیادہ سے زیادہ، اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان کے فعل کو ظاہری طور پر درست سمجھا جائے گا۔ یعنی اگر کوئی مسلمان گوشت یا کھانے کی کوئی چیز لے کر آئے، تو ظاہر یہی ہے کہ وہ مشروع طریقے پر ذبح شدہ حلال جانور کا گوشت ہوگا اور اسے ظاہری حالت پر محمول کیا جائے گا۔ ہمیں ہر مسلمان کے ساتھ حسنِ ظن رکھنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، لہٰذا ایک مسلمان کے لائے ہوئے گوشت کے بارے میں غیر ضروری تحقیق اور تفتیش واجب نہیں، جب تک کہ یہ واضح نہ ہو جائے کہ وہ غیر مشروع طریقے سے ذبح کیا گیا ہے۔

جس قوم کے گوشت کے بارے میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا تھا، وہ مسلمان ہی تھے، اگرچہ وہ زمانۂ کفر سے قریب تھے، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی صراحت فرمائی ہے۔ اسی لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فعل کو ظاہری طور پر درست سمجھنے کا حکم دیا، اور یہی ظاہر تھا کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے انہوں نے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا ہوگا۔

اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ اگر کسی شخص کو یقین ہو کہ کسی جانور کو ذبح کرنے والے نے جان بوجھ کر بسم اللہ نہیں پڑھی، تب بھی وہ جانور حلال ہوگا۔ یہ ایک بدیہی بات ہے کہ یہ حدیث اس صورتِ حال کے بارے میں صریح ہے، جب کسی مسلمان کو ذبح کرنے والے کے بارے میں یقین نہ ہو کہ آیا اس نے بسم اللہ پڑھی تھی یا نہیں؟

یہ وہی صورتِ حال ہے جو مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اُس گوشت کے بارے میں پیش آتی ہے، جو مسلمانوں کے بازاروں میں فروخت ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جو لوگ ان جانوروں کو ذبح کرتے ہیں، ان کے عمل کا ہم مشاہدہ نہیں کرتے کہ آیا انہوں نے بسم اللہ پڑھی ہے یا نہیں؟ لہٰذا، یہ حدیث اس مخصوص صورتِ حال پر روشنی ڈالتی ہے۔ لیکن اگر یقینی طور پر معلوم ہو کہ ذابح نے جان بوجھ کر بسم اللہ کو ترک کیا ہے،  اس  کا اس حدیث سے  کوئی دور کا بھی   تعلق نہیں،لہذا اس دوسری صورت کو  پہلی صورت پر قیاس نہیں  کیا جا سکتا کہ وہ جانور بھی حلال ہوگا۔"(فقہی مقالات:(200/4

حوالہ جات

(فقہی مقالات:(200/4

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:(قوله: رسم المفتي) أي العلامة التي تدل المفتي على ما يفتي به وهو مبتدأ، وقوله أن إلخ خبره. قال في [فتح القدير] : وقد استقر رأي الأصوليين على أن المفتي هو المجتهد، فأما غير المجتهد ممن يحفظ أقوال المجتهد فليس بمفت، والواجب عليه إذا سئل أن يذكر قول المجتهد كالإمام على وجه الحكاية، فعرف أن ما يكون في زماننا من فتوى الموجودين ليس بفتوى، بل هو نقل كلام المفتي ليأخذ به المستفتي. وطريق نقله لذلك عن المجتهد أحد أمرين: إما أن يكون له سند فيه، أو يأخذه من كتاب معروف تداولته الأيدي نحو كتب محمد بن الحسن ونحوها؛ لأنه بمنزلة الخبر المتواتر أو المشهور انتهى ط.

(الردعلی الدر:(69/1

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم                                                                                                                                               

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

6رمضان المبارک 1446ھ                              

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب