03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر اولاد اور والدین کے درمیان وراثت کی تقسیم
87031میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری ایک ہمشیرہ کا انتقال ہوا ہے۔ان کے ورثاء میں شوہر، ایک بیٹی،دو بیٹے اور والدین ہیں ۔ترکہ میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں:

  1. مال تجارت جس کا نفع بھی آتا ہے۔

زیورات،جہیز کا سامان،موبائل فون،ضرورت کے سامان ادویات ،کپڑے وغیرہ۔ ان کی وراثت کا  کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ نے جو کاروبار، مال تجارت اور دیگر اموال چھوڑے ہیں، وہ تمام ان کا ترکہ ہے۔ اس ترکہ میں موجود کاروبار، مال تجارت اور اس سے حاصل ہونے والا  نفع،اور دیگر اموال میں تمام ورثاء اپنے اپنے شرعی حصص کے مطابق شریک ہوں گے۔ لہذا مذکورہ صورت میں آپ کی ہمشیرہ کی تمام جائیداد اور اس سے حاصل ہونے والا نفع شرعاً تمام ورثاء کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومہ کی تجہیز و تکفین کےاخراجات نکالے جائیں گے،بشرطیکہ کسی نے اپنی طرف سے خوشی سے یہ اخراجات نہ کئے ہوں۔ اس کے بعد اگر مرحومہ کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر مرحومہ نے کسی غیر وارث کے حق میں جائز وصیت کی ہو تو اسے ترکہ کے ایک تہائی حصے سے ادا کیا جائے گا۔ باقی ترکہ موجود ورثاء کے درمیان درج ذیل طریقے سے تقسیم کیا جائے گا:

کل ترکہ کے 12 حصےکر لیے جائیں اس میں سے 3حصےشوہرکو ،2حصےوالدکواور2حصے والدہ کواور ایک حصہ بیٹی کو  باقی دو دو  حصے ہر ایک بیٹے کو دے دیے جائیں ۔

آسانی کے لیے ترتیب وار نقشہ ملاحظہ فرمائیں۔

ورثہ کی تفصیل

کل حصص:12

فیصد:100%

شوہر

3

25%

والد

2

16.6666666%

والدہ

2

16.6666666%

بیٹی

1

8.3333333%

بیٹا

2

16.6666666%

بیٹا

2

16.6666666%

حوالہ جات

قال اللہ تعالی : ﵟوَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٰجُكُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٞ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۚﵞ [النساء: 12] 

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:( جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها ولا لورثته بعده إن سلمها ذلك في صحته ) بل تختص به ( وبه يفتى ) (الدر المختارمع رد :3 / 155)

في الفتاوى الهندية :لو جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها وعليه الفتوى. (الفتاوى الهندية:1 / 327)

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :فإن كل أحد يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذ طلقها تأخذه كله ،وإذا ماتت يورث عنها. (رد المحتار :3 / 585)

في كنز الدقائق : يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ فللأب السّدس مع الولد. (كنز الدقائق ،ص:696)

قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ :والعصبةأربعة أصناف: عصبة بنفسه وهو جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده الاقرب. (البحر الرائق : 567/8)

شمس اللہ

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

/5 رمضان ،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شمس اللہ بن محمد گلاب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب