| 87610 | زکوة کابیان | عشر اور خراج کے احکام |
سوال
اس سال کا عشر گزشتہ سال کے فصل سے نکالنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زمین کی پیداوار جب تیار ہوکر کاٹنے کے قابل ہوجائے تو عشر کا اصل تعلق اسی پیداوار سے ہوتا ہے، البتہ عشر دینے میں مالک کو شرعاً اختیار حاصل ہے، چاہے تو اسی پیداوار میں سے عشر دے دے اور چاہے تو اس کی قیمت دے دے،تو خلاف جنس سے جب قیمت دینے کا اختیار ہے تو اسی جنس سے عشر ادا کرنے کا اختیار بطریق اولی ہوگابشرطیکہ اس سال اورگزشتہ سال کی فصل کی قیمت ایک ہو۔
اگر قیمتوں میں فرق ہو ں تو پھرموجودہ سال کی فصل کی جو قیمت پک جانے کے بعد کٹائی کے وقت ہوگی،اسی کا اعتبار ہوگا یعنی موجودہ سال کی فصل کی قیمت کے حساب گزشتہ فصل سے عشر ادا کرنا پڑے گا۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 63):
وأما صفة الواجب فالواجب جزء من الخارج؛ لأنه عشر الخارج، أو نصف عشره وذلك جزؤه إلا أنه واجب من حيث إنه مال لا من حيث إنه جزء عندنا حتى يجوز أداء قيمته عندنا وعند الشافعي الواجب عين الجزء ولا يجوز غيره وهي مسألة دفع القيم وقد مرت فيما تقدم.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
23/ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


