| 87560 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
ایک کمپنی کسی دوسری کمپنی سے مال خریدتی ہے اور وہ مال لکڑی کے تختوں پر آتا ہے، جنہیں بائع مال سمیت خریدار کے حوالے کر دیتا ہے، ان تختوں کی قیمت الگ سے وصول نہیں کی جاتی(جیسا کہ بعض کمپنیاں کاٹن یا ڈبوں میں مال بھیجتی ہیں اور وہ ڈبے خریدار کی ملکیت سمجھے جاتے ہیں)تو ایسی صورت میں اگر خریدار کمپنی کے ملازمین ان لکڑی کے تختوں کو کمپنی کی اجازت کے بغیر بیچ دیں، تو کیا یہ بیچنا شرعاً جائز ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت نے صرف اپنا مال بیچنے کی اجازت دی ہے ،کسی دوسرے مسلمان کا مال اس کی اجازت کے بغیر فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں،لہٰذا اگر مالک کی طرف سے ملازمین کو صراحتًا یا دلالتًا یہ لکڑیاں بیچنے کی اجازت ہو، یایہ ایسی معمولی لکڑیاں ہوں کہ وہ مالک کے لئے ناقابل استعمال ہوں تو پھر یہ لکڑیاں بیچنا درست ہے ، اور اگر مالک کی طرف سے اجازت نہ ہو یا قابل استعمال اور قیمتی لکڑیاں ہو ں تو بیچنا جائز نہیں ، نہ اپنے لئے بیچنا جائز ہے اور نہ کمپنی کے لئے بیچنا جائز ہے۔اپنے لئے بیچنے کی صورت میں فروخت کرنے والا اورخریدنے والا دونوں گناہ گار ہوں گے، اور یہ لکڑیاں واپس کرنا لازم ہے، اگر وہ ضائع ہوگئی ہوں، تو ان کا تاوان دینا ضروری ہے، البتہ خریدنے والے کو اگر معلوم نہ ہو، تو اسے گناہ نہ ہوگا۔
حوالہ جات
مسند أحمد (34/ 299 ط الرسالة):
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(1/ 96):
لايجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار.... والإذن إما أن يكون صراحة وإما أن يكون دلالة.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (5/ 346):
المبطخة إذا قلعت وبقيت فيها بقية فانتهب الناس ذلك إن كان تركها ليأخذها الناس لا بأس بذلك وهو بمنزلة من حمل زرعه وبقي منه سنابل إن ترك ما يترك عادة ليأخذه الناس فلا بأس بأخذه.
فقہ البيوع:(2/1196)
- 199الفضولي من تصرف في حق الغير نيابة عنه بغير إذنه. وبيعه موقوف على إذن من له الإجازة. فإن باع فضولي مال غيره، فالبيع موقوف على إجازة المالك. فإن أجازه نفذ البيع من وقت العقد.
-202الإجازة من قِبل المالك قد تكون قولا بما يدل على رضاه بالبيع، مثل قوله: "أجزت". وقد تكون فعلا، مثل أن يقبل الثمن أو بعضه، أو يهبه للمشتري. أما إن كان حاضرا وقت البيع وسكت، فالسكوت لا يعتبر إجازة
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص613):
وحكمه الاثم لمن علم أنه مال الغير ورد العين قائمة والغرم هالكة ولغير من علم الاخيران) فلا إثم لانه خطأ، وهو مرفوع بالحديث.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
21/ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


