03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بغیر گواہوں کے نکاح کا حکم
87561نکاح کا بیاننکاح صحیح اور فاسد کا بیان

سوال

اگر ایک لڑکا لڑکی ایک ہی مجلس میں بغیر گواہوں کے ایجاب وقبول   کریں ،توكيا یہ نکاح درست ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح کے صحیح  ہونے کے لئے شرط یہ ہے کہ کم از کم دو عاقل بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہو،لہٰذا اگر بغیر گواہوں کے موجودگی کے کسی نے ایجاب و قبول کر لیا تواس سے نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ اور  بغیر نکاح کے آپس میں میل ملاپ رکھنا  ناجائز اور حرام ہے۔

حوالہ جات

الھدایۃ : (1/185  ):

و لا ینعقد نکاح المسلمین إلا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین أو رجل و امرأتین .

(فتح القدیر : 3/199):

ولا ینعقد نکاح المسلمین إلا بحضور شاہدین عاقلین بالغین مسلمین رجلين ،أو رجل وامرأتين، عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف) اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله  صلى الله عليه وسلم "لا نكاح إلا بشهود".

المبسوط للسرخسي (5/ 35):

 (قال:) ‌ولو ‌تزوج ‌امرأة ‌بغير ‌شهود ‌أو ‌بشاهد ‌واحد ‌ثم ‌أشهد بعد ذلك لم يجز النكاح؛ لأن الشرط هو الإشهاد على العقد، ولم يوجد، وإنما وجد الإشهاد على الإقرار بالعقد الفاسد، والإقرار بالعقد ليس بعقد، وبالإشهاد عليه لا ينقلب الفاسد صحيحا.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 21/ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب