| 87721 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں نے ایک شخص کو 550,000 روپے میں گاڑی بیچی تھی اور 3 ماہ میں سارے پیسہ دینا طے ہوا تھا۔ آج 18 ماہ گزر چکے ہیں ، لیکن اس شخص نے صرف200,000 روپے ہی دیے ہیں اور اب مجھے لگتا ہے کہ وہ شخص میرا پیسہ نہیں دےگا ۔ وہ گاڑی میرے نام پر ہی ہے تو کیا میں وہ گاڑی ضبط کر کے بازار میں فروخت کر کے اپنا پیسہ وصول کر سکتا ہوں؟ پیسہ وصول کرنے کے بعد جو بھی اضافی پیسہ بچےگا میں اس شخص کو لوٹا دوں گا، کیا ایسا کرنے کی گنجائش ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر گاڑی کی فروخت کا سودا مکمل ہو چکا تھا اور قیمت بعد میں ادا کرنا طے پایا تھا تو شرعا گاڑی خریدار کی ملکیت میں داخل ہو چکی ہے، اگرچہ ابھی تک وہ کاغذات میں بیچنے والے کے نام پر ہے۔ اب بیچنے والا صرف باقی ماندہ رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے ۔ اگر خریدار ادائیگی سے مسلسل انکاری ہو تو فریقین باہمی رضامندی سے سودا ختم کر سکتے ہیں، جسے "اقالہ" کہتے ہیں، اس صورت میں گاڑی واپس لے کر خریدار سے وصول کی گئی رقم لوٹانا واجب ہو گا۔ اگر اقالہ پر اتفاق نہ ہو اور خریدار قیمت بھی ادا نہ کر رہاہو تو ایسی صورت میں اصل طریقہ تو یہی ہے کہ اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے، لیکن اگر کسی وجہ سے ایسا کرناممکن نہ ہو تو مارکیٹ کے دو دیانتدار تاجر حضرات کو ثالث بنا کر ان سے یہ فیصلہ کروائیں کہ آپ گاڑی اس خریدار کی طرف سے فروخت کرنے کے مجاز ہیں ، لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اپنے حق سے زیادہ وصول کرنا ہرگزجائز نہیں ، لہذا جو گاڑی خریدار کے پاس ہے تو آپ کے لئے جائز ہے کہ آپ وہ ضبط کر کے بیچ کر اپنا حق وصول کر یں مگر بقیہ رقم وصول کرنے کے بعد جو رقم بچےوہ خریدار کو لوٹانا لازمی ہو گا۔
حوالہ جات
القرآن الکریم: (الأسراء، الایة: 34)
وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا
سنن أبي داود (3/ 274 ت محيي الدين عبد الحميد):
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا حفص، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أقال مسلما أقاله الله عثرته»
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 55):
الإقالة جائزة في البيع بمثل الثمن الأول" لقوله عليه الصلاة والسلام: "من أقال نادما بيعته أقال الله عثرته يوم القيامة" ولأن العقد حقهما فيملكان رفعه دفعا لحاجتهما
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (3/ 157):
وشرط صحة الإقالة رضا المتقائلين
المبسوط للسرخسي (5/ 188):
لأن صاحب الحق إذا ظفر بجنس حقه كان له أن يأخذه
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص668):
ليس لذي الحق أن يأخذ غير جنس حقه، وجوزه الشافعي وهو الاوسع.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 422):
(قوله وجوزه الشافعي) قدمنا في كتاب الحجر: أن عدم الجواز كان في زمانهم، أما اليوم فالفتوى على الجواز (قوله وهو الأوسع) لتعينه طريقا لاستيفاء حقه فينتقل حقه من الصورة إلى المالية كما في الغصب والإتلاف مجتبى، وفيه وجد دنانير مديونه وله عليه دراهم، فله أن يأخذه لاتحادهم جنسا في الثمنية اهـ.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (4/ 95):
مطلب يعذر بالعمل بمذهب الغير عند الضرورة (قوله وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس) أي من النقود أو العروض؛ لأن النقود يجوز أخذها عندنا على ما قررناه آنفا. قال القهستاني: وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا، فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي. اهـ. قلت: وهذا ما قالوا إنه لا مستند له، لكن رأيت في شرح نظم الكنز للمقدسي من كتاب الحجر. قال: ونقل جد والدي لأمه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم للعقوق
الموسوعة الفقهية الكويتية (4/ 153):
وقال أبو حنيفة: له أن يأخذ بقدر حقه إن كان نقدا أو من جنس حقه، وإن كان المال عرضا لم يجز، لأن أخذ العوض عن حقه اعتياض، ولا تجوز المعاوضة إلا بالتراضي، لكن المفتى به عند الحنفية جواز الأخذ من خلاف الجنس.
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
03 /ذی الحج/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


