| 87671 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
ہماری ایک مشترکہ جائیداد( joint property) تھی ،جس کو ہمارے ایک فیملی ممبرنے تقریباً آج سے پندرہ سال پہلے بیچ دیا ۔اس کی اس وقت کی قیمت بیس لاکھ روپے تھی ۔آج وہ مانتے ہیں کہ وہ جائیداد مشترک تھی اور وہ کہتے ہیں کہ بیس لاکھ کی میں نے بیچی تھی، لہذا بیس لاکھ اس میں شامل کر لیں۔ اب مجھے اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں بتائیں کہ کیا وہ صحیح کہہ رہے ہیں ؟
وضاحت: جائیداد وراثت میں ملی تھی اور فروخت کرنے والا خود بھی جائیداد میں شریک تھا۔ جائیداد 20لاکھ کی بیچی تھی اور اب وہ چاہتا ہے کہ وہ 20 لاکھ ترکہ میں شامل کر لئے جائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر مذکورہ جائیداد سب کے درمیان بطورِ وراثت مشترک تھی اور اس شخص نے باقی شرکاء کی اجازت کے بغیر وہ جائیداد بیچ دی ہے ،تو اس کا یہ فعل جائز نہیں تھا، لہذا بیچنے والے شخص پر اس جائیداد کا ضمان آئے گا، یعنی اگر مذکورہ جائیداد کی اس وقت قیمت 20 لاکھ تھی تو یوم الغصب کی قیمت کا اعتبار کرتے ہوئے 20 لاکھ روپے ترکہ میں شامل ہوں گے۔
حوالہ جات
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص362):
ولو كانت الدار مشتركة بينهما باع أحدهما بيتا معينا أو نصيبه من بيت معين فللآخر أن يبطل البيع.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 65):
فأما شركة الأملاك فحكمها في النوعين جميعا واحد، وهو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبي في نصيب صاحبه، لا يجوز له التصرف فيه بغير إذنه لأن المطلق للتصرف الملك أو الولاية ولا لكل واحد منهما في نصيب صاحبه ولاية بالوكالة أو القرابة؛ ولم يوجد شيء من ذلك وسواء كانت الشركة في العين أو الدين لما قلنا.
فقہ البیوع(2/973)
أما إذا أراد الغاصب أن ينقل المغصوب إلى الآخر ببيع، فيختلف حكمه في العروض والنقود. فإن كان المغصوب عرضاً، وهو قائم بيد الغاصب، فلا يجوز لآخر أن يشتريه منه، ولو اشترى، فالبيع موقوف عند الحنفية على إجازة المالك، فلو فسخ المالك البيع، انفسخ، ووجب على المشتري أن يرده، وعلى البائع أن يردّ الثمن.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (5/ 119):
وإن غصب ما لا مثل له فعليه قيمة يوم الغصب بالإجماع كذا في السراج الوهاج
المحيط البرهاني (5/ 474):
فإن كان غير مثلي فهلك في يد الغاصب بآفة سماوية أو بفعل الغاصب، أو بفعل غيره وجب عليه قيمته يوم الغصب،
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 106):
(قوله حتى ينفذ بيع الغاصب إذا أدى الضمان) هذا إذا أدى قيمته يوم الغصب أما إذا ضمن قيمته يوم البيع لا ينفذ بيعه. اهـ.
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
29 /ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


