| 87666 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
میں سید داؤد شاہ جان 1990 ء میں مزدوری کے سلسلے میں قطر گیا تھا اور 2009ء تک وہاں رہا اور 1995ء میں میرے بھائی سید مکمل شاہ جان بھی اس سلسلے میں قطر آئے، 2021 تک محنت کرتے رہے اور ہم دونوں بھائی کاروبار میں شریک تھے۔ پھر چھ (6) مہینے کے لئے ہم نے اپنے چھوٹے بھائی سید جہانگیر شاہ جان کو ویزٹ پر لایا ،پھر ہم دونوں نے یعنی داؤد شاہ اور سید مکمل شاہ جان نے چھوٹے بھائی جہانگیر شاہ جان کو د ولاکھ چالیس ہزار (240,000) درہم ہبہ کے طور پر دیے، اس کے باوجود اس نے میری تین (3) دکانیں دوبئی میں بغیر اجازت کے فروخت کیں، جن کی قیمت پانچ لاکھ چالیس ہزار (540,000) درہم بنتے ہیں، جو کہ ابھی تک اس کے ذمہ بقایا ہیں ۔پھر اس نے (یعنی جہانگیر شاہ جان نے) مجھ سے دولاکھ اسی ہزار (280,000) درہم لئے کہ آپ کے لئے ٹریلر گاڑی خرید وں گا جو کہ آپ کو مہینے میں تیس ہزار (30,000) درہم کما کر دے گی ۔ پھر اس نے مزید تین لاکھ (300,000) درہم مجھ سےلےکر سکریپ مال خرید کر آگے منافع پر فروخت کیا ،اس تین لاکھ (300,000) درہم میں سے ایک لاکھ تیس ہزار (130,000) درہم واپس کیا اور ایک لاکھ ستر ہزار (170,000) درہم باقی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ہم دونوں نے یعنی داؤد شاہ اور سید مکمل شاہ نے چھوٹے بھائی سید جہانگیر شاہ کی 2006 ء میں شادی کروائی جس کا مہر ساٹھ (60) تولے سونا ہم نے ادا کیا اور ساتھ ساتھ ولیمےکا خرچہ بھی ، سید جہانگیر شاہ دولاکھ چالیس ہزار (240,000) درہم اور شادی کے خرچے کے علاوہ ہمارا نولاکھ نوے ہزار (990,000) درہم کا مقروض ہے ،2007ء میں وہ اپنے بال بچوں کو لے کر بغیر اجازت دبئی میں عرصہ تیرہ (13) سال تک قیام پذیر ر ہا ۔اس دوران اس نے ہمیں ایک درہم بھی ادا نہ کیا۔ پورا خاندان اس بات کا گواہ ہے کہ یہ بھائی ہم سے الگ رہا ہے اور ہمارے ساتھ کسی بھی طرح سے شراکت دار نہیں رہا ہے۔جتنی بھی پراپرٹی ہے ہر بھائی کے نام پر الگ الگ ہے۔ ہم بھائیوں نے اپنی آمدنی سے اس کو کوئی حصہ کبھی نہیں دیا ۔ اب 2024ء سے جہانگیر شاہ صاحب یہ دعوی کر رہےہیں کہ میں آپ دونوں یعنی داؤد شاہ جان اور سید مکمل شاہ جان کے ساتھ باقی محنت اور ہاتھ کی کمائی میں شریک ہوں۔
- کیا شریعت کی رو سے ہمارا بھائی جہانگیر شاہ دو لاکھ چالیس ہزار (240,000) درہم ، ساٹھ (60) تولے سونا، ولیمہ کاخرچہ کے علاوہ نقد در اہم، تین عدد دکانیں ، گاڑی و غیرہ ( نو لاکھ چالیس ہزار (940,000) درہم ) کا مقروض بنتا ہے یا نہیں؟
- کیا شریعت کی رو سے جہانگیر شاہ کا ہم سے حصہ مانگنا درست ہے؟
کیا شریعت کی رو سے والد صاحب کے ترکہ کے علاوہ ہمارے ہاتھ کی کمائی میں جہانگیر شاہ کی شراکت بنتی ہے یا نہیں؟ حالانکہ ہم تینوں بھائیوں کی کمائی الگ الگ ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ اگر حقیقت پر مبنی ہےتو آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:
- قرض کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ :
- جو رقم آپ نے چھوٹے بھائی جہانگیر صاحب کو بطور ہبہ دی ہے (یعنی دولاکھ چالیس ہزار (240,000) درہم ) ،چونکہ یہ ہبہ تھی اور جب آپ نے یہ رقم ہبہ (گفٹ) کر کے باقاعدہ اپنے بھائی کے حوالہ کردی تھی ، تو اب اسے واپس لینا جائز نہیں ،لہذا جہانگیر صاحب اس رقم کے مقروض نہیں۔
- جو رقم اور سونا آپ نے بھائی کی شادی پر خرچ کیا تو اگر یہ آپ نے بطور قرض دیا تھا تو واپس مانگنا شرعا آپ کا حق ہے اور جہانگیر صاحب اس رقم اور سونے کے مقروض ہیں، البتہ اگر آپ نے بھائی کو بطور ہبہ(گفٹ) دیا تھا تو اس کا بھی وہی حکم ہے اوپر گزرا۔
- اس کے علاوہ جو نقد رقم آپ نے بھائی کو بطور قرض دی تھی اور جو دکانیں بھائی نے آپ کی اجازت کے بغیر بیچ دی تھیں تو آپ کا بھائی ان کا ضامن (مقروض)ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ آپ کو یہ ساری رقم جو نو لاکھ نوے ہزار (990,000) درہم بنتی ہے ، واپس کرے۔
- اسی طرح اگر سید جہانگیر شاہ صاحب نے کبھی باقاعدہ کسی تحریری یا قولی معاہدے کے تحت شرکت نہیں کی، نہ نفع و نقصان میں شریک رہا، پورا خاندان اس بات کا شاہد ہے کہ وہ مستقل طور پر الگ رہا اور جائیداد ہر بھائی کے نام الگ الگ ہے، تو شرعاً اسے اس کمائی میں کسی بھی طرح کا حصہ طلب کرنے کا حق حاصل نہیں۔ شرکت محض دعوے سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ معاہدہ کیا جانا ضروری ہے۔
- نیز والد صاحب کے ترکہ میں سید جہانگیر صاحب بطور وارث حق دار ہیں، مگر آپ کی ذاتی اور محنت کی کمائی، جو آپ کی ملکیت میں رہی اور جس میں ان کا کوئی عملی کردار نہ ہو، اس میں ان کا کوئی حق یا شراکت نہیں۔ شریعتِ مطہرہ کے مطابق ذاتی کمائی کا مالک خود انسان ہوتا ہے، الا یہ کہ وہ کسی کو شریک کرے یا بطورِ تبرع کچھ دے دے۔
حوالہ جات
سنن الترمذي (4/ 209):
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " مثل الذي يعطي العطية، ثم يرجع فيها كالكلب أكل حتى إذا شبع قاء، ثم عاد فرجع في قيئه"
موطأ مالك - رواية محمد بن الحسن الشيباني (ص285):
قال محمد: وبهذا نأخذ، من وهب هبة لذي رحم محرم، أو على وجه صدقة، فقبضها الموهوب له، فليس للواهب أن يرجع فيها، ومن وهب هبة لغير ذي رحم محرم وقبضها فله أن يرجع فيها،
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 226):
قال: "وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها"؛ ولأن المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 17):
(سئل) في ابن كبير له عيال وكسب مات أبوه عنه وعن ورثة يدعون أن ما حصله من كسبه مخلف عن أبيهم ويريدون إدخاله في التركة فهل حيث كان له كسب مستقل يختص بما أنشأه من كسب وليس للورثة مقاسمته في ذلك ولا إدخاله في التركة؟
(الجواب) : نعم. (أقول) وفي الفتاوى الخيرية سئل في ابن كبير ذي زوجة وعيال له كسب مستقل حصل بسببه أموالا ومات هل هي لوالده خاصة أم تقسم بين ورثته أجاب هي للابن تقسم بين ورثته على فرائض الله تعالى حيث كان له كسب مستقل بنفسه .
الموسوعة الفقهية الكويتية (26/ 33):
عرف الحنفية شركة العقد بأنها: " عقد بين المتشاركين في الأصل والربح "
درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 319):
(وهي) أي شركة العقد (ثلاثة) الأول (شركة بالأموال و) الثاني (شركة بالأعمال وتسمى) هذه الشركة اصطلاحا (شركة الصنائع، و) شركة (التقبل، و) شركة (الأبدان) ووجه التسمية ظاهر.
المبسوط للسرخسي (18/ 105):
فإن الديون تقضى بأمثالها،
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص429):
فصل في القرض
(هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا، ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه،
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
27 /ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


