| 87731 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
مضاربت کی رقم سے مضارب کا اپنی دکان سے خریداری کاحکم
میں چاول کے کاروبار سے وابستہ ہوں اور بعض سرمایہ کار حضرات میرے ساتھ سرمایہ لگاتے ہیں۔ جب کوئی انویسٹر مجھے رقم دیتا ہے، تو میں اسی وقت بازار سے اس رقم کے عوض چاول خرید کر یا پہلے سے موجود اپنے گودام سے چاول اس کے لیے مختص کر دیتا ہوں، یعنی انویسٹر کو بتا دیا جاتا ہے کہ فلاں مقدار چاول آپ کی ملکیت میں آ گئی ہے، اور باقاعدہ اس کے نام کا بل بنا دیا جاتا ہے۔ میں ان چاولوں کو بطور وکیل اس کی طرف سے اپنے پاس رکھتا ہوں اور بعد میں مارکیٹ میں فروخت کرتا ہوں۔
وکالت کی بنیاد پر انویسٹرز کے چاول بیچنے کے بعد جو نفع یا نقصان ہوتا ہے، وہ انویسٹر کے ساتھ طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کر لیا جاتا ہے۔ یعنی اگر نفع ہو تو اس میں سے اس کا حصہ دیا جاتا ہے، اور اگر نقصان ہو تو وہ بھی سرمایہ کار برداشت کرتا ہے۔جب چاول انویسٹر کے نام پر مختص کر دیے جاتے ہیں اور وہ اس کی ملکیت میں آ جاتے ہیں، تو میں انویسٹمنٹ سے حاصل شدہ رقم کو اپنی ذاتی ضروریات (مثلاً قرض کی ادائیگی) کے لیے استعمال کر لیتا ہوں، کیونکہ رقم کے بدلے چاول انویسٹر کو منتقل ہو چکے ہوتے ہیں۔ بعد میں جب وہ چاول فروخت کیے جاتے ہیں، تو حاصل شدہ رقم اس شخص کو ادا کی جاتی ہے جس سے چاول ادھار پر لیے گئے تھے (یعنی سپلائر یا تھوک فروش)۔یہ عمل کچھ عرصے تک کامیابی سے چلتا رہا، لیکن بعد میں صورتحال یہ بنی کہ سرمایہ ختم ہو گیا اور چاول ادھار پر بھی ملنا بند ہو گئے، کیونکہ سابقہ ادائیگی ابھی باقی تھی۔ اب کاروبار وقتی طور پر رکا ہوا ہے کیونکہ نہ نئی سرمایہ کاری آ رہی ہے اور نہ چاول کی سپلائی میسر ہے۔ البتہ کاروبار مکمل بند نہیں ہوا، بلکہ جاری ہے اور انویسٹرز کے ساتھ طے ہے کہ سال کے آخر میں مکمل حساب کیا جائے گا، جس میں نفع و نقصان کا جائزہ لیا جائے گا۔
میرے کاروباری ماڈل میں چاول زیادہ تر ادھار فروخت ہوتے ہیں اور ہر گاہک کے ساتھ ادائیگی کی مدت اور مقدار مختلف ہوتی ہے۔ اسی بنا پر انویسٹرز کے ساتھ ایک ترتیب طے کی جاتی ہے کہ مثلاً اگر کسی نے 10 لاکھ روپے لگائے ہیں تو ہر ہفتے ایک لاکھ روپے گراہی کی رقم اس کے کھاتے میں جمع کر دی جائے گی، جس سے دوبارہ اس کے نام پر چاول خرید کر رکھ دیے جائیں گے، اور یہ عمل اسی طرح جاری رہے گا۔
یوں پورا سال یہ کاروباری سلسلہ چلتا ہے،سرمایہ آتا ہے، چاول خریدے جاتے ہیں، بیچے جاتے ہیں، گراہی آتی ہے، اور پھر اسی گراہی سے دوبارہ چاول خرید کر انویسٹر کے نام مختص کیے جاتے ہیں۔ سال کے اختتام پر مکمل حساب کیا جاتا ہے کہ کل
کتنے چاول انویسٹر کے نام خریدے گئے، ان کی فروخت پر کتنا نفع یا نقصان ہوا، دورانِ سال کتنا خرچ ہوا، اور پھر صافی نفع کو طے شدہ طریقے کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔
اس وقت انویسٹرز کو ان کی مکمل رقم یا منافع واپس نہیں ملا، لیکن کاروبار جاری ہے اور کوشش ہے کہ جیسے ہی حالات بہتر ہوں، کاروبار دوبارہ اپنی روانی پر آ جائے۔
کیا یہ کاروباری ماڈل شرعاً جائز ہے کہ انویسٹر کو اس کی رقم کے بدلے چاول کی ملکیت دی جائے، پھر بطور وکیل ان چاولوں کو فروخت کیا جائے، اور نفع و نقصان کو طے شدہ تناسب سے تقسیم کیا جائے؟ نیز اگر میں نے انویسٹر کو چاول کی ملکیت دینے کے بعد اُس کی رقم کو اپنی ذاتی ضروریات (جیسے قرض کی ادائیگی) میں استعمال کیا ہو، تو کیا یہ عمل شرعی طور پر درست تھا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مضارب رب المال کا وکیل ہوتا ہےاور وکیل اپنے آپ سے عقد نہیں کرسکتا ،لہذا صورت مسئولہ میں آپ مضارب ہو ، آپ کے لیے مال مضاربت سے اپنے گودام میں پہلے سے موجود چاول کو بطور وکیل رب المال کے لئے خرید کر اس کے لیے مختص کر کے آگے فروخت کرنا جائز نہیں۔ لہٰذا اگر آپ نے اس طرح کا معاملہ کرکے انویسٹر کی رقم اپنی ضروریات میں استعمال کی ہے تو آپ پر لازم ہے کہ اس کی رقم اسے واپس ادا کریں ۔
البتہ اگر آپ بازار سے چاول خرید کرپھر بطور مضارب آگے منافع رکھ کر فروخت کریں تو اس کی شرعا اجازت ہے۔
حوالہ جات
المجلة (ص: 289):
مادة 1488: لو باع الوكيل بالشراء ماله لموكله لايصح.
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (3/ 616):
شرح المادة 1488: ليس للوكيل بالشراء أن يشتري للموكل أربعة أنواع من الأموال :
ليس للوكيل بالشراء أن يشتري ماله لموكله، يعني لو اشترى الوكيل بالشراء مال نفسه لموكله لا يصح شراؤه ولو قال له : اشتر مال نفسك لي؛ لأن الشخص الواحد ليس له أن يتولى طرفي العقد.
جمیل الرحمن
دارالافتاء، جامعۃ الرشید کراچی
1 /ذی الحجۃ/6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


