| 87877 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والد ایک سرکاری ملازم تھے اور دورانِ ڈیوٹی ان کا انتقال ہو گیا۔ ہمارے خاندان میں تین افراد ہیں: میں، میری والدہ اور میرے دادا۔ اب سوال یہ ہے کہ والد کی جائیداد میں دادا کا کتنا حصہ بنتا ہے؟ نیز، حکومت کی جانب سے جو مراعات( (Benefitsمیری والدہ کو ملیں گی ،کیا ان میں دادا کا بھی کوئی حصہ بنتا ہے؟ کیونکہ میرے والد نے پہلے ہی ان مراعات کے لیے اپنی اہلیہ (میری والدہ) کو نامزد کر رکھا تھا، اور وہ نامزدگی فارم میرے پاس موجود ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں سونا، چاندی ،نقدی ، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے۔اس سے متعلق حکم یہ ہے کہ سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا ۔اس کے بعد اگر ان کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے اس کے کل (24) حصوں میں تقسیم کرکے 4حصے والد (آپ کے دادا) کو،3 حصے بیوی (آپ کی والدہ)کو اور 17حصے بیٹا ( آپ کو ) ملیں گے ۔
|
نمبر شمار |
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
دادا |
4 |
16.66% |
|
2 |
بیوی |
3 |
12.5% |
|
3 |
بیٹا |
17 |
70.833 |
|
کل |
|
24 |
100% |
حکومت کی طرف سے جو مراعات دی جاتی ہیں، ان کی دو قسمیں ہوتی ہیں:
۔بعض مراعات وہ ہوتی ہیں جن کی رقم ملازم کی تنخواہ سے کٹوتی کر کے جمع کی جاتی ہے، جیسے جی پی فنڈ۔ چونکہ یہ رقم ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے، اس لیے وہ اپنی زندگی میں ہی اس کا مالک بن جاتا ہے، اگرچہ وہ رقم بعد میں ملتی ہے۔ لہٰذا جی پی فنڈ کی رقم میں وراثت جاری ہوگی اور اس میں سے آپ کے دادا کو بھی حصہ ملے گا۔
۲۔بعض مراعات ایسی ہوتی ہیں جو ملازم کی تنخواہ سے نہیں کاٹی جاتیں، بلکہ ادارہ کی طرف سے لواحقین کو بطور تحفہ یا عطیہ دی جاتی ہیں، جیسے پنشن کی رقم یا ماہانہ تنخواہ جاری رکھنا وغیرہ۔ یہ رقم جس کے نام پر جاری کی جائے، وہی اس کا مالک ہوتا ہےاور اس میں میراث جاری نہیں ہوتی ۔
لہٰذا حکومت کی طرف سے جو مراعات آپ کی والدہ کے نام پر دی جاتی ہیں، وہ صرف آپ کی والدہ کی ملکیت ہیں، کسی اور کا اس میں کوئی حق نہیں۔ البتہ اگر آپ کی والدہ اپنی خوشی سے کسی کو کچھ دینا چاہیں، تو انہیں اس کا اختیار حاصل ہے۔
حوالہ جات
سورۃ النساء : ١٢:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ .....
حاشية ابن عابدين 🙁 7/ 350):
قال ابن عابدین رحمه الله:لان التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 55):
المادة (2 9 0 1) - (كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم، كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم). كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم الإرثية بموجب علم الفرائض، أو بين الموصى لهم بموجب أحكام المسائل المتعلقة بالوصية، كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين ورثته على حسب حصصهم الإرثية، أو بين الموصى لهم بموجب الوصية، لأن هذا الدين ناشئ عن سبب واحد، الذي هو الإرث أو الوصية.
جمیل الرحمن
دارالافتاء، جامعۃ الرشید کراچی
/4 محرم الحرام/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


