03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حرمتِ مصاہرت کے دوران ہونے والے بچے کے نسب کا حکم
88284نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

اگر حرمتِ مصاہرت ثابت ہو چکی ہو، لیکن شوہر نے ابھی تک بیوی کو چھوڑا نہ ہو، تو اس دوران شوہراور بیوی کے درمیان جو بچہ پیدا ہوا، کیا وہ شرعاً حلالی شمار ہوگا؟ اور کیا اس کا نسب شوہر سے ثابت ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ حرمتِ مصاہرت کی بنا پر نکاح فاسد ہو جاتا ہے اور بیوی شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے، میاں بیوی کا  ازدواجی تعلق قائم کرنا شرعاً ناجائز اور سخت گناہ ہے۔ تاہم، اس دوران شوہر اور بیوی کے درمیان جو بچہ پیدا ہو، وہ شرعاً حلالی شمار ہوگا اور اس کا نسب شوہر سے ثابت ہوگا۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 37):

«(قوله: والوطء بها إلخ) أي الوطء الكائن في هذه الحرمة قبل التفريق والمتاركة لا يكون زنا قال في الحاوي والوطء فيها لا يكون زنا؛ لأنه مختلف فيه، وعليه مهر المثل بوطئها بعد الحرمة ولا حد عليه ويثبت النسب. اهـ.»

«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (2/ 153):

«قال رحمه الله (ويثبت النسب) أي نسب الولد المولود في النكاح الفاسد؛ لأن النسب يحتاط في ‌إثباته ‌إحياء ‌للولد فيترتب على الثابت من وجه ويعتبر مدة النسب من وقت الدخول عند محمد رحمه الله وعليه الفتوى قاله أبو الليث،»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 330):

«ويثبت ‌نسب ‌الولد ‌المولود ‌في ‌النكاح ‌الفاسد وتعتبر مدة النسب من وقت الدخول عند محمد - رحمه الله تعالى - وعليه الفتوى قاله أبو الليث كذا في التبيين»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 5/ صفر 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب