| 88106 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
مرحوم والد کے دو بیٹوں نے والد کی زندگی میں اپنے والد کے مکان کی تعمیر و تزئین کےلئے کچھ رقم خرچ کی تھی،لیکن اس کی حیثیت قرض کی نہیں تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ والد صاحب کے انتقال کے بعد جب میراث تقسیم کی جائے گی، تو اس رقم کو ترکہ میں سے منہا کر کے واپس کیاجائے گا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت ِمسئولہ میں مذکورہ رقم بیٹوں کی طرف اپنے مرحوم والد کے ساتھ احسان وتبرع ہے، لہذا مذکورہ رقم کو ترکہ میں سے منہا نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ جات
«العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية» (1/ 94):
«ذكر شيخ الإسلام جلال الدين في أب وابن اكتسبا ولم يكن لهما مال فاجتمع لهما من الكسب أموال الكل للأب لأن الابن إذا كان في عياله فهو معين له ألا ترى أنه لو غرس شجرة فهي للأب وكذا الحكم في الزوجين اهـ. وانظر إلى ما سنذكره في كتاب الدعوى عن الفتاوى الخيرية.»
«العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية» (2/ 226):
«المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره. اهـ.»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21/ محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


