| 88104 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
میرے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے اور میرا شوہر بھی حیات ہیں۔ میں گزشتہ 25 سال سے ملازمت کر رہی ہوں۔ ہم کراچی کے علاقے "اللہ بخش گوٹھ" میں 120 گز کے ایک مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ میرے پانچ بیٹوں میں سے تین شادی شدہ ہیں اور تمام بیٹے اسی مکان میں ہمارے ساتھ اکٹھے رہتے ہیں۔
یہ مکان میں نے اور میرے بیٹوں نے آپس میں مل کر تعمیر کیا ہے۔ ہر بیٹے نے حسبِ استطاعت اپنی کمائی سے مجھے رقم دی، جنہیں میں نے جمع کر کے کمیٹیوں میں شامل کیااور ساتھ ہی گھر کے روزمرہ اخراجات بھی چلاتی رہی۔ انہی جمع شدہ رقوم سے، تھوڑا تھوڑا کر کے یہ مکان تعمیر کیا گیا۔ اس مکان کی تعمیر میں میری بھی کمائی شامل ہے اور میرے بیٹوں کی بھی۔ اگرچہ یہ واضح طور پر معلوم نہیں کہ کس بیٹے نے کتنا حصہ ڈالا، تاہم حقیقت یہی ہے کہ کسی نے زیادہ دیا، کسی نے کم، مگر سب نے حصہ لیا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ میری بیٹی کی شادی کو چودہ سال گزر چکے ہیں اور ان کی شادی مکان کی تعمیر سے پہلے ہو چکی تھی۔ مکان کی قانونی دستاویزات میں اسے میرے شوہر کے نام پر درج کیا گیا، لیکن یہ صرف اس نیت سے کہ کل کو کوئی بیٹا اسے اپنی ذاتی ملکیت نہ سمجھ لے،جبکہ شوہر کا اس مکان کی تعمیر میں کوئی مالی کردار نہیں ہے،وہ کافی عرصے سے بے روزگار ہیں ۔اب میرا ایک بیٹا، افضل لیاقت، الگ رہنا چاہتا ہے اور گھر سے علیحدہ ہونے کی خواہش رکھتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہشرعی لحاظ سے اس مکان میں کس کس کا اور کتنا کتنا حصہ بنتا ہے؟اور جو بیٹا (افضل لیاقت) علیحدہ ہونا چاہتا ہے، اسے شرعاً اس مکان سے کتنا حصہ دیا جانا چاہیے؟
مکان کی موجودہ مالیت معلوم کرنے کے لیے دو مختلف اسٹیٹ ایجنٹس سے رابطہ کیا گیا، جنہوں نے اس کی قیمت 35 لاکھ سے 40 لاکھ روپے کے درمیان بتائی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شرعی اصول کے مطابق جس شخص نے کسی جائیداد کی تعمیر یا خرید میں مالی طور پر حصہ لیا ہو، وہی اس جائیداد کی ملکیت میں شریک شمار ہوتا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی طور پر آپ (یعنی والدہ) اور آپ کے بیٹوں نے مل کر اس مکان کی تعمیر اپنی اپنی کمائی سے مالی تعاون کے ذریعے کی ہےاور آپ کے شوہر نے اس میں کوئی مالی حصہ نہیں دیا، تو اس مکان کی شرعی ملکیت صرف آپ اور آپ کے بیٹوں کے درمیان مشترک ہوگی۔ اس میں نہ آپ کے شوہر کا کوئی شرعی حق بنتا ہے اور نہ ہی آپ کی بیٹی کا، کیونکہ بیٹی کی شادی مکان کی تعمیر سے قبل ہو چکی تھی اور اس نے مالی طور پر اس میں کوئی حصہ نہیں لیا۔
چونکہ مکان کی تعمیر میں آپ اور آپ کے تمام بیٹوں کی مشترکہ محنت اور کمائی شامل رہی ہے، لیکن یہ طے نہیں کہ کس نے کتنا حصہ دیا اور نہ ہی کوئی تحریری یا حسابی ریکارڈ موجود ہے، اس لیے ایسی صورت میں شرعی لحاظ سے آپ اور آپ کے پانچوں بیٹے اس مکان میں برابر کے شریک تصور کیے جائیں گے۔ دوران شرکت کسی شریک کا زیادہ یا کم کام کرنے یا خرچ کرنے سے حصص پر فرق نہیں پڑتا۔
اگر ہم دونوں اسٹیٹ ایجنٹس کی دی گئی مکان کی مالیت (35 لاکھ سے 40 لاکھ) کا اوسط نکالیں، تو"سینتیس لاکھ پچاس ہزار" روپے ((37,50,000مکان کی متوسط قیمت بنتی ہے۔اب اس قیمت "سینتیس لاکھ پچاس ہزارروپے"(37,50,000 ) کو 6 حصوں میں تقسیم کریں تو فی حصہ "چھ لاکھ پچیس ہزار"روپے (6,25,000 ) بنتے ہیں۔
لہٰذا، اگر بیٹا افضل لیاقت علیحدہ ہونا چاہتا ہے، تو اسے مکان کے چھ مساوی حصوں میں سے ایک حصہ" چھ لاکھ پچیس ہزار"روپےدیا جائے۔ یہ حصہ نقد رقم کی صورت میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔نیز اگر کوئی دوسرا بھائی یا فرد اس کےحصہ میں سے جتنا حصہ ادا کرے گا تو وہ مکان میں افضل لیاقت کے سابقہ حصے سے اسی کے بقدر مالک شمار ہوگا۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 327):
«قلت: والمراد أن شركة الملك لا تبطل: أي لا يبطل الاشتراك فيها، بل يبقى المال مشتركا بين الحي وورثة الميت كما كان وإلا فلا يخفى أن شركة الميت مع الحي بطلت بموته تأمل.»
«العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية» (1/ 92):
«(سئل) في إخوة خمسة تلقوا تركة عن أبيهم فأخذوا في الاكتساب والعمل فيها جملة كل على قدر استطاعته في مدة معلومة وحصل ربح في المدة وورد على الشركة غرامة دفعوها من المال فهل تكون الشركة وما حصلوا بالاكتساب بينهم سوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا؟
(الجواب) : نعم إذ كل واحد منهم يعمل لنفسه وإخوته على وجه الشركة وأجاب الخير الرملي بقوله هو بينهما سوية حيث لا يميز كسب هذا من كسب هذا ولا يختص أحدهما به ولا بزيادة على الآخر إذ التفاوت ساقط كملتقطي السنابل إذا خلطا ما التقطا وحيث كان كل منهما صاحب يد لا يكون القول قول واحد منهما بقدر حصة الآخر فلو كان أحدهما صاحب يد والآخر خارجا واختلفا فالقول لذي اليد والبينة بينة الخارج اهـ..... والواقع في السؤال شركة ملك فيما يظهر إذ لم يذكر فيه أنهم عقدوا شركة فيما بينهم ولا أن التركة نقود أو عروض بيع بعضها ببعض فالظاهر أنها شركة ملك لا يجري فيها تفاوت في الربح بل يكون ما في أيديهم بينهم سوية كما مر وهذه المسألة تقع كثيرا خصوصا في أهل القرى حيث يموت الميت منهم وتبقى تركته بين أيدي ورثته بلا قسمة يعملون فيها وربما تعددت الأموات.»
«العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية» (1/ 94):
«(سئل) في إخوة خمسة سعيهم وكسبهم واحد وعائلتهم واحدة حصلوا بسعيهم وكسبهم أموالا فهل تكون الأموال المذكورة مشتركة بينهم أخماسا؟
(الجواب) : ما حصله الإخوة الخمسة بسعيهم وكسبهم يكون بينهم أخماسا (أقول) هذا في غير الأب مع ابنه والزوج مع زوجته لما نقله المؤلف في غير هذا المحل عن دعوى البزازية ونصه ذكر شيخ الإسلام جلال الدين في أب وابن اكتسبا ولم يكن لهما مال فاجتمع لهما من الكسب أموال الكل للأب لأن الابن إذا كان في عياله فهو معين له ألا ترى أنه لو غرس شجرة فهي للأب وكذا الحكم في الزوجين اهـ. وانظر إلى ما سنذكره في كتاب الدعوى عن الفتاوى الخيرية.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 325):
«مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية [تنبيه] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز.
فأجاب بأنه بينهما سوية، وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي اهـ»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21/ محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


