| 87833 | رضاعت کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
ایک چار ماہ کی بچی رو رہی تھی اور آس پاس اس کی والدہ موجود نہ تھیں، اس لیے اس کی خالہ نے اسے دودھ پلا دیا۔ تھوڑی دیر بعد والدہ بھی وہاں آ گئیں اور انہیں اس واقعے کا علم ہو گیا۔ اس کے علاوہ کوئی اور گواہ موجود نہیں تھا، بعد میں والدہ اور خالہ کے ذریعے یہ بات سب کو معلوم ہوئی۔
تو اب خالہ کی اولاد کے ساتھ اس بچی کا نکاح اورشرعی پردے کا کیا حکم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ رضاعت کی صورت میں ویسے ہی رشتے بنتے ہیں جیسے نسب سے بنتے ہیں،لہذا خالہ کی تمام اولاد اس بچی کی رضاعی بھائی اور رضاعی بہن بن چکے ہیں،بچی کا ان سے نکاح حرام ہے اور ان سے شرعی پردہ بھی واجب نہیں ہے ،تاہم اگر فتنے کا اندیشہ ہوجیسا کہ آج کل فتنے عام ہیں تو دور رہنا چاہئے۔
حوالہ جات
«سنن الترمذي» (3/ 444):
عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله حرم من الرضاع ما حرم من النسب» وفي الباب عن عائشة، وابن عباس، وأم حبيبة.: «حديث علي صحيح»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 343):
«يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة .وتثبت حرمة المصاهرة في الرضاع حتى أن امرأة الرجل حرام على الرضيع وامرأة الرضيع حرام على الرجل وعلى هذا القياس»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 217):
«(وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 369):
«(قوله إلا الأخت رضاعا) قال في القنية: وفي استحسان القاضي الصدر الشهيد، وينبغي للأخ من الرضاع أن لا يخلو بأخته من الرضاع، لأن الغالب هناك الوقوع في الجماع اهـ.»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
6/ محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


