03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وسوسے کے مریض کی طلاق کا حکم
87925طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

میں بعض اوقات اکیلے میں، نماز کے دوران، یا کوئی اور کام کرتے ہوئے ،نیز نزلہ و زکام کی حالت میں، جس کی وجہ سے میرا منہ اکثر کھلا رہتا ہے  اور کبھی کبھار بیوی کو دیکھتے ہوئے بھی دل میں "تم مجھ پر حرام ہو" یا "تمہیں طلاق" جیسے جملے سوچ لیتا ہوں، لیکن زبان سے ان کا تلفظ نہیں کرتا۔

ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ میں اور میری بیوی فلم دیکھتے ہوئے کھانا کھا رہے تھے۔ اس دوران ذہن میں وہی جملہ آیا اور کھانے کے دوران، ٹی وی کی طرف منہ کیے ہوئے، میری زبان بے اختیار معمولی سی ہل گئی، حالانکہ نہ میں نے جان بوجھ کر زبان ہلائی، نہ کوئی آواز منہ سے نکلی، نہ بیوی نے کچھ سنا، اور نہ ہی میں نے خود کوئی آواز محسوس کی۔

اُس وقت نہ میں بیوی سے مخاطب تھا، نہ طلاق کا کوئی ارادہ تھا اور الحمدللہ ہمارے تعلقات بھی بالکل خوشگوار ہیں۔

تو کیا ایسی صورت میں، جب بات صرف دل میں گزرے، آواز باہر نہ نکلے اور زبان محض بے ارادہ معمولی سی حرکت کرے، طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سائل کی کیفیت سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل وسوسہ کے مرض میں مبتلاء ہیں ۔وسوسے اور وہم کے مریض کا تخیلات کی دنیا میں گم ہوکر غیر ارادی طور پر  الفاظ طلاق ادا کرنے سے  شرعاً طلاق واقع نہیں ہوتی،اگر  واقعتاًغیر ارادی طورپر طلاق کے الفاظ آپ کے منہ سے نکلتے رہتے ہیں تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

نیز یہ بھی  واضح رہے کہ طلاق اس وقت واقع ہوتی ہے  شوہر کم ازکم اتنی زور سےطلاق کے الفاظ  کہے کہ وہ خود سن سکے اگر اس نے اس طرح کہا کہ اس نے خود نہیں سنا، یعنی الفاظ طلاق زبان پر جاری ہوئے کوئی ہلکی آواز بھی سنائی نہ دی تو اس سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں  طلاق واقع نہیں ہوئی۔

بلاوجہ کسی قسم کاوہم نہیں  کرنا چاہئے،ان وساوس اور خیالات کو ذہن میں جگہ نہ دیں، ورنہ یہ بڑھتے چلے جائیں گے۔ علماء کرام کے اصلاحی مجالس میں بیٹھنے کا اہتمام کریں اور وساوس سے بچنے کےلئے  معوذتین(سورة الفلق  اورسورة الناس ) پڑھا کریں۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (1/ 535):

«(و) أدنى (الجهر إسماع غيره و) أدنى المخافتة إسماع نفسه) ومن بقربه؛ فلو سمع رجل أو رجلان فليس بجهر، والجهر أن يسمع الكل خلاصة (ويجري ذلك) المذكور (في كل ما يتعلق بنطق، كتسمية على ذبيحة ووجوب سجدة تلاوة وعتاق وطلاق واستثناء) وغيرها؛ فلو طلق أو استثنى ولم يسمع نفسه لم يصح في الأصح؛»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (1/ 534):

«(قوله وأدنى الجهر إسماع غيره إلخ) اعلم أنهم اختلفوا في حد وجود القراءة على ثلاثة أقوال:

فشرط الهندواني والفضلي لوجودها خروج صوت يصل إلى أذنه، وبه قال الشافعي.

وشرط بشر المريسي وأحمد خروج الصوت من الفم وإن لم يصل إلى أذنه، لكن بشرط كونه مسموعا في الجملة، حتى لو أدنى أحد صماخه إلى فيه يسمع.

ولم يشترط الكرخي وأبو بكر البلخي السماع، واكتفيا بتصحيح الحروف. واختار شيخ الإسلام وقاضي خان وصاحب المحيط والحلواني قول الهندواني، وكذا في معراج الدراية. ونقل في المجتبى عن الهندواني أنه لا يجزيه ما لم تسمع أذناه ومن بقربه، وهذا لا يخالف ما مر عن الهندواني لأن ما كان مسموعا له يكون مسموعا لمن في قربه كما في الحلية والبحر. ثم إنه اختار في الفتح أن قول الهندواني وبشر متحدان بناء على أن الظاهر سماعه بعد وجود الصوت إذا لم يكن مانع. وذكر في البحر تبعا للحلية أنه خلاف الظاهر، بل الأقوال ثلاثة. وأيد العلامة خير الدين الرملي في فتاواه كلام الفتح بما لا مزيد عليه، فارجع إليه. وذكر أن كلا من قولي الهندواني والكرخي مصححان، وأن ما قاله الهندواني أصح وأرجح لاعتماد أكثر علمائنا عليه.۔۔۔۔۔ قال في النهر: أقول: ينبغي أن يكون الحكم كذلك في كل ما يتوقف تمامه على القبول ولو غير مبادلة كالنكاح اهـ

وبما قررناه ظهر لك أن ما ذكر هنا في تعريف الجهر والمخافتة، ومثله في سهو المنية وغيره مبني على قول الهندواني لأن أدنى الحد الذي توجد فيه القراءة عنده خروج صوت يصل إلى أذنه أي ولو حكما. كما لو كان هناك مانع من صمم أو جلبة أصوات أو نحو ذلك، وهذا معنى قوله أدنى المخافتة إسماع نفسه، وقوله ومن بقربه تصريح باللازم عادة كما مر.»

«حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح» (ص219):

«‌وقال ‌الهندواني :‌لا ‌تجزئه ما لم تسمع أذناه، ومن بقربه، بالسماع شرط فيما يتعلق بالنطق باللسان:التحريمة، والقراءة، السرية، والتشهد، والأذكار، والتسمية على الذبيحة، ووجوب سجود التلاوة، والعتاق ،والطلاق ، والاستثناء ، واليمين ، والنذر ، والإسلام،  والإيمان. حتى لو أجرى الطلاق على قلبه  ،وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع ،وإن صحح الحروف.»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

6/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب