| 87993 | غصب اورضمان”Liability” کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
ہمارے ملک میں رواج ہے کہ بروز قربانی طلبہ کو مدرسہ کی طرف سے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ قربانی کے جانوروں کی کھالیں جمع کریں ، کیا یہ جائز ہے ؟ اگر کوئی طالب کھالیں جمع کرنے میں شرکت نہ لے، تو اس پر رقم متعین کی جاتی ہے، جو فراہم کرنا لازمی ہوتی ہے، کیا یہ جائز ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چرم قربانی جمع کرنا فی نفسہ ایک جائز امر ہے بلکہ مدارس کی جانب سے سماج کیلئے عظیم خدمت ہے۔لیکن مدارس کے طلبہ کو اگر کہیں واقعی مجبور کیا جاتا ہے،اور شرکت نہ کرنے کی صورت میں ان سے تاوان وصول کیا جاتا ہے تو یہ عمل قطعا جائز نہیں۔
حوالہ جات
مسند أحمد (34/ 299 ط الرسالة):
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَلْ تَدْرُونَ فِي أَيِّ يَوْمٍ أَنْتُمْ؟ وفِي أَيِّ شَهْرٍ أَنْتُمْ (2)؟ وَفِي أَيِّ بَلَدٍ أَنْتُمْ؟ " قَالُوا: فِي يَوْمٍ حَرَامٍ، وَشَهْرٍ حَرَامٍ، وَبَلَدٍ حَرَامٍ. قَالَ: " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَهُ.
ثُمَّ قَالَ: " اسْمَعُوا مِنِّي تَعِيشُوا، أَلَا لَا تَظْلِمُوا، أَلَا لَا تَظْلِمُوا، أَلَا لَا تَظْلِمُوا، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ...
حماد الدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
11 /محرم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


