03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کاروبار ی شرکت میں نفع و نقصان کی تقسیم اور ایک شریک کی علیحدگی  کا حکم
87854شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

زید نے بکر کو 2021ء میں کاروبار میں شرکت کی غرض سے 10 لاکھ روپے دے کرکہا کہ  میری  یہ رقم اپنے کاروبار میں لگا ئیں،اورجونفع یا  نقصان  ہوگا وہ ہم آپس میں تقسیم  کریں گے۔بکر پہلے سے مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر لین دین کر رہے تھے، پلاٹوں اور مکانوں کی خریداری  میں ان کا  اچھا خاصا کاروبارتھا۔2021 سے 2023ء  تک بکرجب کو ئی خریدوفروخت کرتا تو  زید کو اس کا نفع وقتا فوقتابھیجتا رہتا ، اس کا ثبوت بھی موجود ہے اور زید بھی اس بات کی تصدیق کر رہا ہےکہ بکر نے مجھے نفع بھیجا ہے۔

2023ء میں جب کاروبار ی  حالات خراب ہوئےاور  پراپرٹی کی مارکیٹ بیٹھ گئی تو خریدو فروخت کافی متاثر ہوکر  بند ہو گئی۔اس وقت  زید نے بکر سے مطالبہ کیا کہ میری رقم مجھے واپس کر دو ۔چنانچہ بکر نے زید کو 2023ء میں چھ لاکھ روپے کی رقم واپس کر دی اور اصل  رقم میں سے چار لاکھ روپےبکر کے پاس رہ گئے۔اب زید مطالبہ کرتا ہے کہ مجھے چار لاکھ روپے کی رقم اور کچھ نفع دے دو،رقم کے علاوہ   نہ کوئی اورچیز چاہیے اور  نہ ہی مَیں نقصان برداشت کرتا ہوں۔بکر کے پاس اس وقت مختلف جگہوں پر پلاٹ اور مکان وغیرہ ہیں، مگر زید ان میں سے کچھ لینے یا مارکیٹ میں فروخت کرنے کی صورت میں نقصان میں شریک ہونے سے انکار کرتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ زید کا صرف اور صرف نفع کی رقم لینا اور نقصان میں شریک ہونے سے انکار کرنا کیا جائز ہے،حالانکہ اگر بکر  مارکیٹ میں ان پلاٹ وغیرہ  میں سے کوئی چیز فروخت کرتا ہے تو اس میں بہت نقصان ہے؟تفصیلی جواب دیں ۔واجرکم علی اللہ  

وضاحت: موبائل فون   کے ذریعے استفسار پر سائل نے یہ وضاحت کی کہ شروع میں زید اور بکر دو شریک تھے ، جبکہ اب اس  کاروبار میں کل چھ شریک ہیں اور یہ مل کر خریدوفروخت کے معاملات کرتے ہیں۔نفع کی تقسیم کے حوالے سے یہ طریقہ طے کیا گیا ہے کہ جس کی رقم زیادہ ہوگی تو نفع میں بھی اسی حساب سے اس کا فیصدی حصہ زیادہ ہوگا، اورکم رقم والے کا نفع اس کی رقم کے حساب سے کم فیصد  ہوگا۔اسی طرح  یہ بھی واضح کیا کہ جب بکر نے زید کو 2023ء میں چھ لاکھ روپے کی رقم واپس کی تو زید نے باقی چار لاکھ روپےکی اصل  رقم    کاروبار میں شریک رہنے کے لیے چھوڑی تھی۔                                                                                  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کاروباری شرکت میں نفع اور نقصان کی تقسیم کے حوالے سے شرعی اصول یہ ہے کہ شراکت داری کے معاہدہ کے وقت  ہی شرکاء یہ بات طے کریں کہ کاروبار کے آخر میں اس سے ہونے والےحقیقی نفع میں سے ہر شریک کواس نفع کا  ایک معلوم فیصدی حصہ دیا جائےگا،جوکہ  باہمی رضامندی سے وہ ہر شریک کے لیے برابر یا کم و بیش طے کر سکتے ہیں،تاہم غیر عامل شریک /Sleeping Partnerیعنی جس نے کاروبار میں اپنے  عملا کام نہ کرنے کی صراحت کردی  ہوتو اس کے لیےاس کی سرمایہ کاری کے تناسب سے زیادہ منافع کی شرح طے نہیں کی جاسکتی، جبکہ نقصان کی صورت میں ہر شریک  کو  کاروبار میں اس  کی طرف سے شامل کی گئی رقم کے اعتبار سے ہی خسارہ برداشت کرناہوگا،نیز اگر کاروبار ختم ہونے سے پہلےکسی متعین دورانیےیا مختلف مالی لین دین کے آخرمیں نفع و نقصان کی عارضی تقسیم کی جائے تو وہ کاروبارکے ختم ہونے پر حتمی تقسیم کے تابع ہوگی،لہذا کاروبار کے آخر میں خدانخواستہ نقصان   ہوجائے تو  اس نقصان کو پورا کرنے کے لیے پہلے تقسیم کیے گئے نفع کو واپس لوٹا یا جائے گا۔(نیز یہ مستحب ہے کہ شروع سے ہی  شراکت کے معاہدے کی ضروری تفصیلات کوبطورثبوت اور ریکارڈ کے دستاویزی شکل دے دی جائے۔)  

اس شرعی اصول سے ہٹ کرکل سرمایہ میں ہر شریک کےسرمائے کے فیصدی حصہ کے مطابق  اس کے لیے متعین نفع مقرر کرنے سے شرکت کا  کاروبار  فاسد ہوجاتا ہے،جبکہ  کسی شریک کا  خود کو  نقصان سے بری قرار دینا یا کاروبار میں اپنےسرمائے کی حد تک نقصان برداشت نہ کرنے کی شرط لگانا باطل ہے،لہذا مذکورہ بالا سوال اوراس سے متعلق سائل کی وضاحت کے مطابق  زید کا کاروبارسے صرف اور صرف اپنا سرمایہ اور کچھ نفع  لینے کا مطالبہ کرنا،جبکہ   کاروباری نقصان میں اپنی لگائی ہوئی  رقم کی حد تک    نقصان برداشت کرنے سے انکار کرنا جائز نہیں ہے۔   

اور اگرزید اس کاروبار سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہے تو اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ کل سرمائے یعنی ان پلاٹوں اور گھروں وغیرہ کی قیمت لگائی جائے،اس کے بعد دیکھا جائے کہ اگر کاروبار میں ابھی بھی کچھ منافع ہورہا ہے تو ہر شریک کی طرح زید کو بھی اس کی لگائی ہوئی رقم کے حساب سے نفع   کا فیصدی حصہ دیا جائے ،لیکن اگر کاروبار میں نقصان ہورہا ہواور وہ  اب تک عارضی طور پر تقسیم کیے گئے نفع سے بھی پورا نہ ہورہا ہوتو زید کو بھی اپنے سرمایہ کی حد تک نقصان برداشت کرنا ہوگا،نیز اس نفع یا نقصان کا حساب کرنے کے بعد زید کے باقی اصل سرمایہ یعنی چار لاکھ روپے کے بقدر کاروبار کا جتناحصہ اس کے حق میں آتا ہو، وہ حصہ دیگر شرکاء میں سے کوئی ایک یا باہمی رضامندی سے سب مل کرخرید لیں ،اگر ان شرکاء سے اس حصہ کی فروخت کا  معاملہ طے نہ پائے تو زید اپناحصہ الگ کروا کرکاروبار سے علیحدہ ہوسکتا ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:4/ 305،316):

مطلب: اشتراط الربح متفاوتا صحيح، بخلاف اشتراط الخسران [تنبيه] ويندب الإشهاد عليها، وذكر محمد كيفية كتابتهم فقال: هذا ما اشترك عليه فلان وفلان اشتركا على تقوى الله تعالى وأداء الأمانة، ثم يبين قدر رأس مال كل منهما ويقول: ذلك كله في أيهما يشتريان به ويبيعان جميعا وشتى، ويعمل كل منهما برأيه ويبيع بالنقد والنسيئة، وهذا وإن ملكه كل بمطلق عقد الشركة إلا أن بعض العلماء يقول لا يملكه إلا بالتصريح به، ثم يقول: فما كان من ربح فهو بينهما على قدر رءوس أموالهما، وما كان من وضيعة أو تبعة فكذلك، ولا خلاف أن اشتراط الوضيعة بخلاف قدر رأس المال باطل واشتراط الربح متفاوتا عندنا صحيح فيما سيذكر، فإن اشترطا التفاوت فيه كتباه كذلك، ويكتب التاريخ كي لا يدعي أحدهما لنفسه حقا فيما اشتراه الآخر قبل التاريخ فتح...(وتفسد باشتراط دراهم مسماة من الربح لأحدهما) ؛لقطع الشركة كما مر، لا لأنه شرط؛ لعدم فسادها بالشرط، وظاهره بطلان الشرط لا الشركة بحر ومصنف. قلت: صرح صدر الشريعة وابن الكمال بفساد الشركة ويكون الربح على قدر المال.  

المبسوط للسرخسي (11/ 158):

قال: (وإن جاء أحدهما بألف درهم، والآخر بألفي درهم فاشتركا على أن الربح والوضيعة نصفان: فهذه شركة فاسدة) ، ومراده أن شرط الوضيعة هلاك جزء من المال، فكأن صاحب الألفين شرط ضمان شيء مما يهلك من ماله على صاحبه، وشرط الضمان على الألفين فاسد، ولكن لا يبطل بهذا أصل العقد؛ لأن جواز الشركة باعتبار الوكالة، والوكالة لا تبطل بالشروط الفاسدة، وإنما تفسد الشروط وتبقى الوكالة، فكذا هذا.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 63،77):

وإن شرطا العمل على أحدهما، فإن شرطاه على الذي شرطا له فضل الربح؛ جاز، والربح بينهما على الشرط فيستحق ربح رأس ماله بماله والفضل بعمله، وإن شرطاه على أقلهما ربحا لم يجز؛ لأن الذي شرطا له الزيادة ليس له في الزيادة مال.ولا عمل ولا ضمان؛ وقد بينا أن الربح لا يستحق إلا بأحد هذه الأشياء الثلاثة...وأما صفة عقد الشركة.فهي أنها عقد جائز غير لازم حتى ينفرد كل واحد منهما بالفسخ، إلا أن من شرط جواز الفسخ أن يكون بحضرة صاحبه، أي بعلمه، حتى لو فسخ بمحضر من صاحبه جاز الفسخ، وكذا لو كان صاحبه غائبا، وعلم بالفسخ...وهل يشترط أن يكون مال الشركة عينا وقت الشركة لصحة الفسخ، وهي أن يكون دراهم أو دنانير.ذكر الطحاوي أنه شرط حتى لو كان مال الشركة عروضا وقت الفسخ، لا يصح الفسخ، ولا تنفسخ الشركة ،ولا رواية عن أصحابنا في الشركةوفي المضاربةرواية...فجعل الطحاوي الشركة بمنزلة المضاربة، وبعض مشايخنا فرق بين الشركة والمضاربة فقال :يجوز فسخ الشركة وإن كان رأس المال عروضا ولا يجوز فسخ المضاربة ؛لأن مال الشركة في يد الشريكين جميعا، ولهما جميعا ولاية التصرف،  فيملك كل واحد منهما نهي صاحبه عينا كان المال أو عروضا.

 محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

      دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

         29 /ذوالحجہ/1446ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب