03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنی کی ممبرشپ کے   ذریعے  آمدن حاصل کرنے اور  اس میں  ممبر  بنانے کے گناہ کی تلافی کا  حکم
88164خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اگر ایسی  (نیٹ ورک ) مارکیٹنگ کمپنی کی ممبر شپ حاصل کرکےکچھ  آمدن حاصل کی گئی ہوتو اس کا حکم کیا ہے؟ نیز اگر یہ ناجائز ہے اور ایسی کمپنی کی ممبر شپ حاصل کرنے کے بعد کوئی شخص ایسی  کمائی سے توبہ کرلے تو مزید ممبر بنانے کے گناہ سے تلافی کی صورت کیا ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نیٹ ورک  مارکیٹنگ کمپنی کی ممبر شپ حاصل  کرنے اور اس  کے ساتھ اکاؤنٹ بنانے پر جو رقم  اس کمپنی کو دی  جاتی ہے، وہ شرعی اعتبار سے رشوت کے زمرے میں آتی ہےاور کمپنی کے لیے اس کا لینا ناجائز ہے۔نیز کمپنی کی ممبر شپ حاصل  کرکےاس کے  ذریعےمزیدممبر سازی پرکمیشن در کمیشن آمدن حاصل کرنابھی  ناجائز ہے،کیونکہ یہ  صفقہ فی صفقہ کے تحت اور ربح مالم یضمن یعنی سرمایہ لگانےیا عمل کرنے یا ضمان وذمہ داری اٹھانےکے بغیر  نفع کے طور پر حاصل کی جاتی ہے، لہذاایسی کمپنی کے مالک کی طرح اس کی ممبر شپ حاصل کرنے والے افرادکی  بھی یہ  آمدن  حلال نہیں ،ان کو اپنی کمائی  کے  اس طریقے اوراس کے لیے  مزید ممبر بنانے کے عمل سے   توبہ کرکے ایسی کمپنی سے اپنااکاؤنٹ ختم کرنا اور آئندہ کے لیے  اس سے علیحدگی اختیار کرنا ضروری ہے۔

ایسی کمپنی کے ممبر کی  اس  ناجائز   آمدن  اورکمپنی میں مزیدممبر   بنانے کے گناہ سے توبہ کے طور پر تلافی کی صورت یہ  ہےکہ اگر اسے حاصل ہونے والی آمدن خالص  اُس کے ذیلی ممبران کی فیس سے ہو(جوکہ کمپنی کے لیے بھی ناجائز ہے)تو اس سے ملنے والا کمیشن یہ ممبر خود  نہیں رکھ سکتا،چاہے وہ ممبرشپ فیس اور اکاؤنٹ کھولنے کی فیس کے برابر یا اس سے زائدہو،بلکہ ایسی صورت میں اس  پر لازم ہے کہ وہ اپنےبراہ راست  ذیلی ممبران کے کمیشن سے ملنے والا کمیشن اُن  کو واپس کرے یا پھر ان سے معاف کروائے،اورانہیں اس کاروبار کے ناجائزہونے سے آگاہ کرکے آئندہ اس کاروبار کے ساتھ منسلک رہنے سے روک دے، پھراسی طرح وہ ممبران بھی  اپنے ذیلی ممبران سے معافی و تلافی  کا اہتمام کریں ۔

البتہ اگر اس ممبر کو حاصل ہونے والی  آمدن کمپنی کے ایسے اکاؤنٹ سے ہو،جس میں کمپنی کی اپنی رقوم بھی  ہوں  تو پھر یہ ممبرشپ فیس اور اکاؤنٹ کے نام پر جمع کی ہوئی   رقم   کی حد تک  تو اس آمدن سے اپنے لیے رکھ سکتا ہے،مگر اس سے زائدرقم کا  بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا ضروری ہےاور  اگر کسی نے ممبر  شپ  اختیار کرنے کے بعد ابھی تک مزید ممبر بناکرآمدن ہی حاصل نہ کی ہوتو اس کو کمپنی سے اپنااکاؤنٹ ختم کرکے اس  سے علیحدگی اختیار کرلینا ضروری ہے، اور اس نے کمپنی کو  ممبرشپ فیس اور   اکاؤنٹ  کھلوانے کے نام پر   جو    رقم جمع کی ہو،تو وہ اس کی واپسی کا کمپنی سے  مطالبہ بھی  کرسکتا ہے اور کمپنی پریہ رقم  اس کو  لوٹانا  واجب ہے۔    

حوالہ جات

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 205)

ألا ترى أن ربح ما لم يضمن مملوك لمن استفاده ،ومع ذلك لا يحل له. ألا ترى أن من ملك جارية وهي أخته من الرضاعة، أو بينهما مصاهرة فإنه يملكها ومع ذلك لا يحل له الاستمتاع بها .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:5/ 96)

وفي الأشباه: النقد لا يتعين في المعاوضات، وفي تعيينه في العقد الفاسد روايتان، ورجح بعضهم تفصيلا بأن ما فسد من أصله أي كما لو ظهر المبيع حرا أو أم ولد يتعين فيه لا فيما انتقض بعد صحته: أي كما لو هلك المبيع قبل التسليم والصحيح تعينه في الصرف بعد فساده وبعد هلاك المبيع، وفي الدين المشترك فيؤمر برد نصف ما قبض على شريكه.

 فقه البیوع ط مکتبۃ معارف القرآن کراتشی:(273/1)

من المقرر أن العاقد لايجوز له أن يطالب العاقد الآخر عوضاعن مجرد دخوله في العقد علاوةًعلي مايستحقه بالعقد؛فإنه رشوة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:6/ 423)

الرشوة لا تملك بالقبض...(قوله لا تملك بالقبض) فله الرجوع بها .وذكر في المجتبى بعد هذا :ولو دفع الرشوة بغير طلب المرتشي، فليس له أن يرجع قضاء، ويجب على المرتشي ردها.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:5/ 98،99 )

وفي حظر الأشباه: الحرمة تتعددمع العلم بها إلا في حق الوارث، وقيده في الظهيرية بأن لا يعلم أرباب الأموال، وسنحققه ثمة...مطلب الحرمة تتعدد (قوله الحرمة تتعدد إلخ) نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر، ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام اهـ.(قوله إلا في حق الوارث إلخ) أي فإنه إذا علم أن كسب مورثه حرام يحل له، لكن إذا علم المالك بعينه فلا شك في حرمته ووجوب رده عليه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:5/ 337)

وفي الهندية عن المحيط: كفل ثلاثة عن رجل بألف فأدى أحدهم برءوا جميعا ولا يرجع على صاحبيه بشيء ولو كان كل واحد كفيلا عن صاحبه رجع المؤدي عليهما بالثلثين، ولصاحب المال أن يطالب كل واحد منهم بالألف هذا إذا ظفر: أي المؤدي بالكفيلين، فإن ظفر بأحدهما رجع عليه بالنصف ثم رجعا على الثالث بالثلث ثم رجعوا جميعا على الأصيل بالألف، وإن ظفر بالأصيل قبل أن يظفر بصاحبه رجع عليه بجميع الألف اهـ.

  محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

  دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

     24  /محرم 1447ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب