| 88403 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
ایک آدمی ایک کنوینشنل بینک جیسےHBL میں جاب کرتا ہے، اور وہ ہیڈ آفس میں کام کرتا ہے۔ اُس کا کام RPA یعنی روبوٹک پراسیس آٹومیشن سے متعلق ہے۔ اس ڈیپارٹمنٹ کا کام یہ ہوتا ہے کہ بینک کے مختلف ڈیپارٹمنٹس جہاں بہت سارے لوگ مختلف قسم کا کام کرتے ہیں (جیسے آڈٹ، انٹریز،یا ڈیٹا پروسیسنگ وغیرہ)، وہاں انسانی محنت کو کم کر کے اُن کاموں کو مشینوں یا سافٹ ویئر کے ذریعے خودکار (Automatic) بنا دیا جائے، تاکہ وہ کام بغیر کسی انسان کے از خود مکمل ہو جائے اور کم وقت اور کم پیسہ پر کام نمٹایا جا سکے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کنوینشنل (روایتی سودی) بینک کے اس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا ہے، تو کیا اس کے لیے وہاں نوکری کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ ہم بینک کے سارے شعبوں کے لیے کام کر رہے ہیں، ہمارا تعلق اسلامی اور سودی دونوں قسم کی برانچز سے تعلق ہے اور ہماری خدمات دونوں کو فراہم کی جاتی ہیں، البتہ ابھی تک چار سال کے دوران ہم نے کسی سودی لین دین والے ڈیپارٹمنٹ میں خدمات فراہم نہیں کیں، لیکن اگر بالفرض ہمیں مستقبل میں کسی ایسے شعبے میں کام کرنے کا کہا جائے تو ڈیوٹی کے تحت ہمیں اس شعبے کو بھی اپنی خدمات فراہم کرنا ہوں گی،تاکہ ان کا کام تیز کر دیں، آسان کر دیں، اس کو آیٹومیٹک کر کے ان کے کچھ اخراجات بچا دیں، مثلا اگر ان کا کام پہلے بارہ گھنٹے میں ہو رہا تھا تو ہم آیٹومیٹک کر کے اس کو دو تین گھنٹوں پر لا سکتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگرچہ آپ کی خدمات اور ڈیوٹی کا تعلق HBL کی اسلامی اور سودی دونوں کی برانچز سے متعلق ہے، لیکن سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق آپ نے گزشتہ چار سال میں کسی سودی لین دین والے ڈیپارٹمنٹ کے لیے کام نہیں کیا، اس لیے آپ کی گزشتہ تنخواہ حلال ہے۔ جہاں تک مستقبل کا تعلق ہے تو اگر آپ کے پاس سودی بینک کے سودی لین دین والے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کوئی پروجیکٹ آئے گا تو اپنی ڈیوٹی کے مطابق چونکہ اس پر بھی آپ کو کام کرنا ہو گا، جس میں سودی معاملات کے کام کو آسان، تیز اور آیٹومیٹک کرنا شامل ہو گا اور یہ واضح طور پر ان کی سودی کاموں میں معاونت ہے، جبکہ کسی بھی سودی لین دین والے ڈیپارٹمنٹ کی اس طرح کے کاموں میں معاونت کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے اور اتنے کام کی اجرت اور تنخواہ بھی آپ کے لیے حلال نہیں، اس لیے ایسا کام سپرد ہونے کی صورت میں آپ کا معذرت کرنا ضروری ہے ، ورنہ آپ سودی کاموں میں معاونت کی وجہ سے گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں گے اور اس کے برابرملنے والی تنخواہ بھی صدقہ کرنا واجب ہو گا۔
حوالہ جات
فقه البيوع للشيخ محمد تقي العثماني(1064/2) مكتبة معارف القرآن:
٥١٩ - السابع: أن يؤجر المرأ نفسه للبنك بأن يقبل فيه وظيفة. فإن كانت الوظيفة تتضمن مباشرة العمليات الربوية، أو العمليات المحرمة الأخرى، فقبولُ هذه الوظيفة حرام، وذلك مثل التعاقد بالربوا أخذاً أو عطاءً، أو خصم الكمبيالات، أو كتابة هذه العقود، أو التوقيع عليها، أو تقاضى الفوائد الربوية، أودفعُها، أوقيدها في الحساب بقصد المحافظة عليها، أو إدارة البنك، أو إدارة فرع من فروعه، فإن الإدارة مسئولة عن جميع تشاطات البنك التي غالبها حرام.
ومن كان موظفا في البنك بهذا الشكل، فإن راتبته الذي يأخذ من البنك كله من الأكساب المحرمة. فإن لم يكن له مال غيره، دخل في القسم الأول، فلا يجوز أخذ شيئ منه هبة أو بيعاً أو شراء أو إرثاً. ويجب عليه أن يتوب إلى الله تعالى ويتصدق بما كسب من البنك. وإن وفقه الله تعالى للتوبة، ولم يكن له مال غيره، يسعه بفتوى من مُفت موثوق به أن يصرفه في حاجة نفسه بطريق الاقتراض، ويتصدق بمثله متى وجد سعة حسب التفصيل الذي ذكرناه في القسم الرابع تحت عنوان "صرف الربح في حاجة نفسه."
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
21/صفرالخیر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


