| 88442 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
والد صاحب مالدار ہیں، لیکن لڑ کا غریب ہے، کام تو کرتا ہے ،لیکن شادی کا خرچہ ، مہر اور نفقہ کی ادائیگی سے قاصر ہے ، شادی نہ کرنے کی صورت میں گناہ میں پڑنے کا خطرہ ہے تو کیا اس صورت میں والد پر لازم ہے کہ وہ لڑکے کا نکاح اپنے خرچے پر کروائے ؟ اگر لازم ہے تو کس قدر خرچ کر ناضروری ہوگا؟ مہر کتنا اداکرنا ہوگا اور کتنے عرصے تک والد نفقہ برداشت کرے گا؟ ا گر والد یہ نکاح نہ کروائے توکیا گناہ گار ہو گا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیٹے کے بالغ ہونے کے بعد( اگر وہ معذور نہ ہو اور کمانے کے قابل ہو تو) اس کا کسی بھی قسم کا خرچہ شرعاً والدین کے ذمہ لازم نہیں رہتا، لہذا بیٹے کے بالغ ہونے کے بعد اس کی مناسب جگہ پر شادی کی فکر وکوشش کرنا تو والدین کی ذمہ داری بنتی ہے، لیکن شادی کا خرچہ اور اس کی بیوی کا نان و نفقہ والدین کے ذمہ واجب نہیں ہے، بلکہ اس کا انتظام لڑکے کو خود کرنا ہوگا، اور اگر شادی کی فضول و غیر ضروری رسموں اور فضول خرچی سے بچاجائے تو شادی کا خرچہ اتنا زیادہ اور مشکل نہیں ہے جتنا آج کل سمجھ لیا گیا ہے، اس لیے اگر والدین کی استطاعت ہو تو ان کو بطورِ تبرع یہ خرچہ اٹھانا چاہیے، خصوصاً جبکہ سوال میں تصریح کے مطابق والد مالدار ہے، اوریہ ان کے لیے بہت بڑےاجر و ثواب کا باعث ہوگا، لیکن اگر والدکسی وجہ سے بیٹے کی شادی کا خرچہ نہ اٹھائے تو بیٹے کے گناہ میں مبتلا ہونے کا وبال ان پر نہیں ہوگا، ایسی صورت میں بیٹا خود کوشش کر کے حلال مال کمانے کی کوشش کرے؛ تاکہ شادی کا خرچہ اور بیوی کا نفقہ اٹھاسکے، اور جب تک اس کا انتظام نہ ہوسکے تو گناہ سے بچنے کے لیے حدیث میں روزہ رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔
البتہ بیٹی کی شادی سے پہلے کے تمام اخراجات والد کے ذمہ ہیں،کیونکہ شرعا مال کمانا اس کے ذمہ لازم نہیں ہے، بلکہ عورت کی شرعی ذمہ داری محض گھریلو امور کی دیکھ بھال ہے، اس لیے لڑکی کے بالغ ہونے کے بعد اس کی شادی کروانا اور شادی کے ضروری اخراجات اٹھانا عرفاً والدین کے ذمہ ہے۔
حوالہ جات
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (10/ 279) دار إحياء التراث العربي – بيروت:
الأمر بالنكاح لمن استطاع وتاقت نفسه، وهو إجماع، لكنه عند الجمهور أمر ندب لا إيجاب، وإن خاف العنت كذا قالوا.
قلت: النكاح على ثلاثة أنواع: الأول: سنة وهو في حال الاعتدال لقوله صلى الله عليه وسلم: (تناكحوا توالدوا تكثروا، فإني أباهي بكم الأمم يوم القيامة) . الثاني: واجب وهو عند التوقان وهو غلبة الشهوة. الثالث: مكروه وهو إذا خاف الجور، لأنه إنما شرع لمصالح كثيرة فإذا خاف الجور لم تظهر تلك المصالح ثم في هذه الحالة تشتغل بالصوم، وذلك أن الله تعالى أحل النكاح وندب نبيه صلى الله عليه وسلم إليه ليكونوا على كمال من دينهم وصيانة لأنفسهم من غض أبصارهم وحفظ فروجهم لما يخشى على من جبله الله على حب أعظم الشهوات، ثم أعلم أن الناس كلهم لا يجدون طولا إلى النساء، وربما خافوا العنت بعقد النكاح، فعوضهم منه ما يدافعون به سورة شهواتهم وهو الصيام، فإنه وجاء، وهو مقطع للانتشار وحركة العروق التي تتحرك عند شهوة الجماع.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 612)دارالفكر بيروت:
"(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر ... (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقاً وزمن.
(قوله: لطفله) هو الولد حين يسقط من بطن أمه إلى أن يحتلم، ويقال: جارية، طفل، وطفلة، كذا في المغرب. وقيل: أول ما يولد صبي ثم طفل ح عن النهر (قوله: يعم الأنثى والجمع) أي يطلق على الأنثى كما علمته، وعلى الجمع كما في قوله تعالى: {أو الطفل الذين لم يظهروا} [النور: 31] فهو مما يستوي فيه المفرد والجمع كالجنب والفلك والإمام - {واجعلنا للمتقين إماما} [الفرقان: 74]- ولاينافيه جمعه على أطفال أيضاً كما جمع إمام على أئمة أيضاً فافهم.... (قوله: كأنثى مطلقاً) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة ... (قوله: وزمن) أي من به مرض مزمن، والمراد هنا من به ما يمنعه عن الكسب كعمى وشلل، ولو قدر على اكتساب ما لايكفيه فعلى أبيه تكميل الكفاية"
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
22/صفرالخیر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


