| 88356 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
ایک شخص نے آپس میں ناچاکی کے دوران اپنی بیوی سے کہا کہ اب ہمارے راستے جدا جدا ہیں، اس کے بعد اس نے بیوی کا نمبر بلاک کر دیا، پھر لڑکے کے والدین نے لڑکی کے والدین کو نکاح کے ختم ہونے کی خبر دی، اب لڑکی والوں کا مطالبہ ہے کہ نکاح چونکہ تقریباً سو سے ڈیڑھ سو افراد کے مجمع میں ہوا تھا اور نکاح نامہ پر باقاعدہ دستخط بھی ہوئے تھے، اور اب ہمیں چونکہ اپنی بچی کا آگے نکاح کرنا ہے، اس لیے لڑکا ہمیں تحریری طور پر طلاق نامہ کا نوٹس بھیجے، تاکہ ہمارے لیے آگے بچی کا کسی اور جگہ نکاح کرنا آسان ہو جائے، کیا ہمارا یہ مطالبہ درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں لڑکے کی طرف سے کہے گئے الفاظ"اب ہمارے راستے جدا جدا ہیں" کنایاتِ طلاق کی اس قسم سے تعلق رکھتے ہیں جن میں بغیر نیت کے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا اگر لڑکے نے مذکورہ الفاظ سے طلاق کی نیت نہ کی ہو تو ایسی صورت میں لڑکی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ البتہ اگر شوہر نے طلاق کی نیت سے یہ الفاظ کہے ہیں تو ایسی صورت میں عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے اور عدت گزارنے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرے میں آزاد ہے، البتہ سابقہ شوہر سے عدت کے دوران بھی نکاح ہو سکتا ہے۔
جہاں تک تحریری طلاق نامہ کے مطالبے کا تعلق ہے تو چونکہ نکاح لوگوں کے مجمع میں ہوا تھا اور ایسی صورت میں عام طور پر لوگوں میں نکاح کی شہرت بھی ہو جاتی ہے، اور شرعی اعتبار سے جب تک سابقہ نکاح کو ختم نہ کیا جائے اس وقت تک دوسرا نکاح درست نہیں ہوتا، لہذا مذکورہ صورت میں اگر واقعتاًلڑکا لڑکی کو طلاق دے چکا ہے تو اب اس کی ذمہ داری ہے کہ لڑکی کو مروجہ طریقے کے مطابق تحریری طلاق نامہ بھی ارسال کر دے، تاکہ لڑکے والوں کے پاس سابقہ نکاح کے ختم ہونے کا ثبوت باقی رہے اور ان کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا آسان ہو۔اس لیے مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق طلاق واقع ہونے کی صورت میں لڑکی والوں کا تحریری طلاق نامہ کا مطالبہ کرنا درست ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى الھندیۃ : ( الفصل الخامس فی الکنیات ، ج ، 1 ص ، 376):
ولو قال أنا بريء من نكاحك يقع الطلاق إذا نوى ولو قال ابعدي عني ونوى الطلاق يقع كذا في فتاوى قاضي خان. ومن الكنايات تنحي عني ونجوت مني كذا في فتح القدير.
رجل قال لامرأته أربعة طرق عليك مفتوحة لا يقع بهذا شيء و إن نوى إلا إذا قال خذي أي طريق شئت و قال نويت الطلاق و لو قال ما نويت صدق و لو قال لها اذهبي أي طريق شئت لا يقع بدون النية و إن كان في حال مذاكرة الطلاق الخ.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
17/صفرالخیر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


