| 87838 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
تحصیل کروڑ ضلع لیہ کے دیہات بستی پکی موہانہ اور بستی شہانی یہ دونوں بستیاں آپس میں متصل ہیں، درمیان میں کوئی فاصلہ نہیں ہے، البتہ نام الگ الگ ہیں، ان کی کل آبادی 3500 کے قریب ہے، زیادہ آبادی پکی موہانہ کی ہے، جو کہ 2500 افراد پر مشتمل ہے اور بستی شہانی کی آبادی تقریبا 1000 افراد پر مشتمل ہے،دونوں بستیوں میں کل دوکانیں 80 ہیں، بستی پکی موہانہ میں تقریبا 30 دوکانیں ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے:کریانہ سٹور 08 عدد۔ فروٹ سبزی 02 عدد۔ چکن شاپ 02 عدد۔ آٹا چکی 01 عدد۔ ڈاکٹر صاحبان 03 عدد۔ جانوروں کے ڈاکٹر 02 عدد۔ حجام 02 عدد ۔ درزی 02 عدد۔ موٹر سائیکل مستری 02 عدد۔ پلمبر 01 عدد۔ کوئلہ فیکٹری 04 عدد۔ ڈیزل ایجنسی 01 عدد۔
دوسری بستی شہانی کے دوکانوں کی تعدادیہ ہے:کریانہ سٹور 12 عدد۔ فروٹ سبزی 05 عدد۔ چکن شاپ 05 عدد۔ آٹا چکی 02 عدد۔ چاول چکی 02 عدد۔ ڈاکٹر 01 عدد۔ جانوروں کے ڈاکٹر 02عدد۔ حجام 03 عدد۔ موٹر سائیکل مستری 01 عدد۔ الیکٹریشن 01 عدد۔ ڈیزل ایجنسی 03 عدد۔ پٹرول پمپ03 عدد۔ آڑھت 04 عدد۔ گیس سیلنڈر دوکان 01 عدد۔ جوتا شاپ 01 عدد۔ کھاد بیج 05 عدد۔
نوٹ: بستی پکی موہانہ پرائمری سکول 01 عدد۔ مساجد 04 عدد۔
نوٹ: بستی شہانی پرائمری سکول 03 عدد۔ مساجد 06 عدد۔ مدرسے 02 عدد۔
بستی پکی موہانہ کے قریب 300 فٹ کے فاصلہ پر ایک بستی ہے ،جس کا نام بستی جھلار ہے، جس کی آبادی تقریبا 500 افراد پر مشتمل ہے، تقریبا 08 دوکانیں ہیں،بستی جھلار کے متصل بستی پتافی ہے، جس کی آبادی 500 افراد پر مشتمل ہے اور دوکانوں کی تعداد 40 کے قریب ہے، بستی شہانی کے متصل بستی شاہ والا ہے، جس کی آبادی 150 افراد پر مشتمل ہے، بستی شہانی کے قریب دوسری طرف بستی سونرا ہے، جس کا فاصلہ تقریبا 150 فٹ ہے، جس کی آبادی تقریبا 300 افراد پر مشتمل ہے، بستی سونرا کے متصل بستی نائی والا ہے، جس کی آبادی تقریبا 400 افراد پر مشتمل ہے۔ مسئلہ طلب بات یہ کہ بستی پکی موہانہ میں شرعا جمعہ جائز ہے یا نہیں؟
نوٹ۔ 2019 میں ضلع لیہ کے مفتیان کرام نے اس بستی میں جمعہ کے جواز کا فتوی دیا تو جن پر چند مقامی مفتیان کرام نے اختلاف کیا آپ وضاحت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔
سائلیں جملہ مفتیان کرام و علماء علاقہ۔ عبدالغفار۔۔ محمد رفیق۔۔۔ عبیداللہ۔۔ محمد عاطف۔۔۔ محمد کاشف۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید جاننا چاہیے کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے جمعہ کی ادائیگی کے لیے شہر اور قصبے کی شرط لگائی ہے اور شہر اور قصبہ کی علامات ہر زمانے اور علاقے کے حساب سے مختلف ہوتی ہیں،اسی لیے فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ سے مصر کی تعریف میں کئی روایات مروی ہیں، بعض حضرات نے قاضی اور امیر کے ہونے کو علامت بنایا، بعض نے کہا: مکلفین کی اتنی بڑی تعداد ہو کہ اس علاقے کی بڑی مسجد میں نہ سما سکیں، اسی قول کو بہت سے متاخرین نے مفتی بہ قرار دیا، چنانچہ فتاوی ولوالجیہ، الدرالمختار، شرح الوقایہ اور درر الحکام وغیرہ میں اسی قول کو لیا گیا ہے۔روایات کے اختلاف کی بناء پر ہمارے اکابر رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اصل مدار ضروریات زندگی کے میسر ہونے اور عرف میں قصبہ شمار ہونےپر ہے، چنانچہ علامہ انور شاہ صاحب کشمیری فرماتے ہیں:
" مصر کی تعریف میں ہمارے ائمہ احناف رحمہم اللہ سے جس قدر روایات مروی ہیں وہ سب متحد المعنی ہیں، اختلاف صرف لفظی و تعبیری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔حاصل یہ کہ مصر کی تعریف عرف اور لغت پر محمول ہے اور جس قدر بھی تعریفیں مذکور ہیں وہ اپنے اپنے عرف و زمانہ کے مطابق سے کی گئی ہیں۔"
(فتاوی دارالعلوم دیوبند:ج:1،ص:297)
اسی طرح مفتی عزیزالرحمن صاحب رحمہ اللہ اپنے ایک فتوی میں تحریر فرماتے ہیں:
"دوہزار آبادی جس بستی میں ہو وہ قریہ کبیرہ ہے یا نہیں؟ سو ظاہر یہ ہے کہ اگر اس میں بازار اور دکانیں ہوں تو جمعہ وہاں ادا ہوگا، ورنہ نہیں۔آدمیوں کی تعداد صحیح روایت سے ثابت نہیں، بلکہ عرفاً جس کو قریہ کبیرہ سمجھیں وہ قریہ کبیرہ ہے اور جس کو صغیرہ سمجھیں وہ قریہ صغیرہ ہے۔"
(فتاوی دارالعلوم دیوبند:ج:1،ص:292)
اس کے علاوہ حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی (فتاوی محمودیہ:ج:8،ص:44) اور مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمہم اللہ کی عبارات میں بھی عرف کو مدار ٹھہرایا گیا ہے۔ (کفایت المفتی:ج:3،ص:182)
اور ہمارے عرف میں جس گاؤں میں یہ شرائط ہوں کہ: اس كی دو تین ہزار آبادی ہو،پینتیس، چالیس، دکانوں پر مشتمل بازار ہو،جس میں ضروریاتِ زندگی، جیسے روٹی، کپڑا، گھی اور جوتا وغیرہ سب میسر ہوں، ڈاکخانہ ہو، ڈاکٹر اورمستری وغیرہ موجود ہو۔ایسے گاؤں کو قصبہ کہا جاتا ہے اور اس علاقے کے والے لوگوں پر جمعہ کی نماز ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
لہذا سوال میں ذکر کردہ تفصیل کی روشنی میں مذکورہ دونوں بستیاں چونکہ متصل ہیں، دونوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے، اس لیے ان دونوں بستیوں کو شرعی اعتبار سے ایک شمار کیا جائے گا اور مجموعی اعتبار سے ان بستیوں کی آبادی ساڑھے تین ہزار ہے اور ضروریاتِ زندگی جیسے خوردونوش، کپڑا، جوتے اور علاج معالجہ وغیرہ کی سہولتیں بھی موجود ہیں، اس لیے ہماری رائے کے مطابق یہ دونوں بستیاں مجموعی طور پر ایک قصبہ (بڑا گإؤں) کے حکم میں ہیں اور قصبہ میں حنفیہ کے نزدیک جمعہ كی نماز قائم کرنا واجب ہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 260) دار الكتب العلمية:
وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح. وأما تفسير توابع المصر فقد اختلفوا فيها روي عن أبي يوسف أن المعتبر فيه سماع النداء إن كان موضعا يسمع فيه النداء من المصر فهو من توابع المصر وإلا فلا.
الدر المختار مع ردالمحتار(2/ 137)
( ويشترط لصحتها ) سبعة أشياء الأول ( المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها ) وعليه فتوى أكثر الفقهاء مجتبى لظهور التواني في الأحكام وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى.
حاشية ابن عابدين (2/ 137):
قوله ( ما لا يسع إلخ ) هذا يصدق على كثير من القرى ط قوله ( المكلفين بها ) احترز به عن أصحاب الأعذار مثل النساء والصبيان والمسافرين ط عن القهستاني قوله ( وعليه فتوى أكثر الفقهاء إلخ ) وقال أبو شجاع هذا أحسن ما قيل فيه وفي الولوالجية وهو صحيح بحر ۔ وعليه مشى في الوقاية و متن المختار وشرحه وقدمه في متن الدرر على القول الآخر وظاهره ترجيحه وأيده صدر الشريعة بقوله لظهور التواني في أحكام الشرع سيما في إقامة الحدود في الأمصار۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 139):
اعلم أن بعض المحققين أهل الترجيح أطلق الفناء عن تقديره بمسافة ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والتعريف أحسن من التحديد لأنه لا يوجد ذلك في كل مصر وإنما هو بحسب كبر المصر وصغره. بيانه أن التقدير بغلوة أو ميل لا يصح في مثل مصر۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
5/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


