03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چہرے کے دانوں سے نکلنے والے خون کا حکم
88376پاکی کے مسائلنجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان

سوال

بعض اوقات چہرے پرچھوٹے چھوٹے دانے ہوتے ہیں اور پھر دانے پھوٹ جاتے ہیں تو کافی خون نکلتا ہے جو بہنے کے قابل ہوتا ہے، اس صورت میں بھی چہرے کو پاک کرنے کا طریقہ واضح کردیں، کیونکہ خون یا زخم دھونے سے ناپاک پانی داڑھی تک پہنچ جاتا ہے اور پھر داڑھی کیسے پاک کی جائے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چہرے پر نکلنے والے دانوں کے پھٹنے کا بھی یہی حکم ہے کہ جب دانے سے خون نکلنے کے بعد آپ نےوضو کے دوران چہرے کو تین مرتبہ دھو لیا تو وہ جگہ پاک ہو گئی، اسی طرح یہ ناپاک پانی جب داڑھی تک پہنچا اور اس کے بعد آپ نے داڑھی کو تین مرتبہ دھو لیا تو داڑھی بھی پاک ہو گئی، لہذا ایسی صورت میں بھی پڑھی گئی تمام نمازیں بھی درست شمار ہوں گے اور اس سلسلہ میں کسی وہم اور شک میں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

حوالہ جات

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (1/ 128) الناشر: دار الرسالة العالمية:

حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، أخبرنا سهيل بن أبي صالح، عن أبيه عن أبي هريرة، أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "إذا كان أحدكم في الصلاة فوجد حركة في دبره أحدث أو لم يحدث، فأشكل عليه، فلا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا"

فتح القدير للكمال ابن الهمام (1/ 185) دار الفكر، بيروت:

في عينه رمد يسيل دمعها يؤمر بالوضوء لكل وقت لاحتمال كونه صديدا. وأقول: هذا التعليل يقتضي أنه أمر استحباب، فإن الشك والاحتمال في كونه ناقضا لا يوجب الحكم بالنقض إذا اليقين لا يزول بالشك والله أعلم. نعم إذا علم من طريق غلبة الظن بإخبار الأطباء أو علامات تغلب ظن المبتلى يجب.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

16/صفرالخیر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب