| 88242 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میری بیوی حمل سے ہے ،گزشتہ پانچ ماہ کی تمام الٹرا ساونڈ رپورٹس نارمل آئی ہیں،چھٹے ماہ کے الٹراساونڈ کی رپورٹ میں بچے کا دماغ نہ بننے کی رپورٹ آئی ہے،جس کے نتیجے میں ڈاکٹر نے کہا کہ کسی بڑے ہسپتال میں الٹراساونڈ کروائیں،پھر ضیاء الدین ہسپتال میں الٹرا ساونڈ کروایا ہے،وہاں کی رپورٹ کے مطابق بھی بچے کے دماغ نہ بننے کی رپورٹ آئی ہے اور دماغ کی جگہ پانی جمع ہونے کی رپورٹ آئی ہے،رپورٹ مامجی ہسپتال کے بھی تین بڑے ڈاکٹرز کو دکھائی ہے۔
تمام ڈاکٹرز کی یہی رائے ہے کہ حمل کو جلد از جلد ضائع کروا یا جائے اور Dilation and Curettageکروائی جائے، تاخیر کی صورت میں ماں کی جان کیلئے نقصان کا سبب بن سکتا ہے،براہ مہربانی اس مسئلے میں میری رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ حمل کے اعضاء بن جانے اور اس میں جان پڑ جانے کے بعد (جس کی مدت تقریبا 120دن/چار مہینے ہے) حمل کو گرانا یا ضائع کرنا قتلِ ناحق اور گناہِ کبیرہ ہے، یہی وجہ ہے فقہاء کرام نے چار ماہ کے بعد حمل گرانے کو سختی سے منع کیا ہے ۔
تاہم صرف ایک استثنائی صورت میں چار ماہ کے بعد اسقاط ِ حمل کی گنجائش ہے :
جب کم از کم تین دیانتدار، ماہر ڈاکٹرز متفقہ طور پر اس بات کی تصدیق کریں کہ بچے کے زندہ رہنے کے امکانات نہیں ہیں اور حمل کی وجہ سے ماں کی جان کو یقینی خطرہ ہے، تو اس صورت میں بامر مجبوری حمل ضائع کرنے کی گنجائش ہے۔
اگر ماں کی جان کو کوئی یقینی خطرہ نہیں ،بلکہ محض اندیشہ یا ضعیف امکان ہو، تو اس بنیاد پر چھ ماہ کے حمل کو گرانا قطعاً جائز نہیں ہوگا۔
یاد رکھیں کہ بیماری سے شفاء صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا اس طرح کے نازک معاملے میں اللہ رب العزت پر بھروسہ رکھتے ہوئے صبر، دعا اور اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اور بلا شرعی مجبوری حمل ضائع کرانے سے سختی سے اجتناب کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
رد المحتار (3/ 176):
مطلب في حكم إسقاط الحمل:(قوله :وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج.
وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه.
ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟
اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهرح.
الفتاوى الهندية (5/ 356):
العلاج لإسقاط الولدإذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لايجوز، وإن كان غير مستبين الخلق يجوز، وأما في زماننا يجوز على كل حال، وعليه الفتوى، كذا في جواهر الأخلاطي. وفي اليتيمة: سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور؟ فقال: أما في الحرة فلايجوز قولاً واحداً، وأما في الأمة فقد اختلفوا فيه، والصحيح هو المنع، كذا في التتارخانية …. امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفةً أو مضغةً أو علقةً لم يخلق له عضو، وخلقه لايستبين إلا بعد مائة وعشرين يوماً: أربعون نطفةً وأربعون علقةً وأربعون مضغةً، كذا في خزانة المفتين. وهكذا في فتاوى قاضي خان۔
مجلة مجمع الفقه الإسلامي (9/ 2030 بترقيم الشاملة ):
قرر مجلس المجمع الفقهي الإسلامي لرابطة العالم الإسلامي... النظر في موضوع إسقاط الجنين (أي إجهاضه) المشوه خلقيا وأقر بالأغلبية ما يلي:
إذا كان الحمل قد بلغ مائة وعشرين يوما لا يجوز إسقاطه ولو كان التشخيص الطبي يفيد أنه مشوه الخلقة إلا إذا ثبت بتقرير لجنة طبية من الأطباء الثقات المختصين أن بقاء الحمل فيه خطر مؤكد على حياة الأم فعندئذ يجوز إسقاطه سواء أكان مشوها أم لا وذلك دفعا لأعظم الضررين.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
30/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


