03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فائل کی خرید وفروخت کا حکم
87926خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ایک شخص(علی ) دس روپے کے پلاٹ کی فائل دو روپے ڈاؤن پیمنٹ دے کر قسطوں پر خرید تا ہے، وہ شخص دس روپے میں سے پانچ روپے قسطوں کے طور پر جمع کروا چکا ہے۔

دوسرا شخص  (عمر )بھی پلاٹ کی فائل خرید تا ہے لیکن وہ  دور و پے ڈاؤن پیمنٹ کے بعد قسط جمع نہیں کرواتا۔

اب پہلا شخص(علی ) دوسرے شخص(عمر ) سے دس روپے مالیت کی فائل جس کی ڈاؤن پیمنٹ دوروپے ہے، مارکیٹ ویلیو کے حساب سے 1.5 روپے میں خرید لیتا ہے۔

اب پہلا شخص سوسائیٹی کے پاس اپنی دوسری خرید ی ہوئی فائل لے جا کر کہتا ہے کہ میری پہلی خریدی ہوئی فائل کی بقایا رقم میں دوسری فائل کی مد  میں جمع دو روپے ایڈ جسٹ کیے جائیں، جس کو سوسائیٹی ایڈ جسٹ کر دیتی ہے اور اب دوسری خریدی ہوئی فائل بمطابق سوسائیٹی ختم کر دی جا چکی ہے۔

اب پہلی فائل میں پانچ روپے پہلے پانچ روپے پہلے اور دو روپے دوسری فائل کو ایڈ جسٹ کر کہ مبلغ سات روپے جمع ہو گئے ہیں۔

سوال: کیا پہلے شخص(علی )  کا دوسرے شخص(عمر )  سے دوسری فائل مارکیٹ ویلیو کے حساب سے کم قیمت میں خریدنا اور پہلی فائل میں سوسائیٹی کی قیمت پر ایڈ جسٹ کرنا درست ہے یا نہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں عمر (مشتری اول)   اور علی (مشتری  ثانی ) کے درمیان فائل کی خرید و فروخت  کامعاملہ درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر شرعاً درست نہیں:

1۔دَین کا حوالہ عقد میں مشروط ہے:

عمر قسطوں والی فائل علی کو  فروخت کر رہا ہے،   بظاہر یہ قسطیں بھی مشتری ثانی(علی )  کی طرف منتقل ہو جائیں گی ،جب قسطیں مشتری ثانی (علی )کی طرف منتقل ہوئی، تو  یہ بیع میں حوالہ کی شرط لگاناہے،  یعنی  فروخت کنندہ ( عمر ) عقد میں اس بات کی شرط لگا رہا ہے کہ  خریدار(علی) ثمن تیسرے آدمی (سوسائیٹی جس کا فروخت کنندہ مدیون ہے  ) کو ادا کرے گا، ایسی شرط عقدِ بیع کے تقاضوں کے  خلاف ہے، جس کی وجہ  سے  یہ بیع فاسد ہے۔

البتہ  اگر قسطوں کی ادائیگی کی شرط عقد میں نہ ہو بلکہ بعد میں علی رضامندی سے قسطیں سوسائٹی کو ادا کرے اور سوسائٹی کو بھی  اعتراض نہ ہو، تو  یہ معاملہ درست ہو سکتا ہے۔(لیکن مذکورہ   معاملہ  درج ذیل دوسری   خرابی کی بنیاد پر  پھر بھی درست نہیں ۔)

2۔زمین کی جہالت:

فائل کی فروخت میں یہ بھی خرابی ہے کہ پلاٹ کی حدود، مقام اور خصوصیات متعین نہیں ہوتیں، جو کہ شرعی طور پر "مبیع میں جہالت" کہلاتی ہے۔ حنفیہ کے راجح قول کے  مطابق ایسی زمین کی خرید و فروخت ناجائز ہے۔

 صرف سوسائیٹی سے برا ه راست فائل  خریدنے کی صورت میں جواز کا فتوی دیا جاتا ہے،اس کی وجہ یہ ہوتی  ہے کہ آج کل  بڑی سوسائیٹیز کی تیاری کے لئے سرمائے کی   شدید ضرورت ہوتی ہے، لہذا ضرورت کے پیش ِنظر صاحبین کے قول کے مطابق صرف  سوسائیٹی اور خریدار کے درمیان ایسے پلاٹ   کی فائل کی   خرید و  فروخت درست ہے،لیکن فریقین کے درمیان (جیسے عمر  کا  علی کو فائل  بیچنا)  خرید و فروخت کے معاملے میں ایسی ضرورت نہیں، اس لیے یہ معاملے حنفیہ کے 

راجح  قول کے مطابق ناجائز ہی رہے گا۔

جب یہ خرید و فروخت ناجائز ہے،تو علی کا آگے اسی پلاٹ پر سوسائٹی سے مالی ایڈجسٹمنٹ کروانا    بھی درست نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 159):

وإذا باع إنسان من آخر متاعا على أن يحول البائع على المشتري من يقبض الثمن منه فالبيع فاسد.

مثال ذلك: لو باع إنسان من آخر متاعا وشرط في البيع أن يقبض الثمن من المشتري إنسان غيره فالبيع فاسد؛ لأن حوالة البائع ليست للاستيثاق من ثمن المبيع وتأكيد مقتضى العقد بل لاستيفاء الثمن فقط بزازية " وهندية ".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 172):

‌ولو ‌شرط ‌المشتري ‌على ‌البائع ‌أن ‌يحيله ‌بالثمن على غريم من غرمائه أو على أن يضمن الثمن لغريم من غرماء البائع فالبيع فاسد؛ لأن شرط الحوالة والضمان شرط لا يقتضيه العقد والشرط الذي لا يقتضيه العقد مفسد في الأصل إلا إذا كان فيه تقرير موجب العقد وتأكيده۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 315):

(قوله ‌وفسد ‌بيع ‌عشرة ‌أذرع من دار لا أسهم) ، وهذا عند أبي حنيفة، وقالا هو جائز كما لو باع عشرة أسهم من دار ومبنى الخلاف في مؤدى التركيب فعندهما شائع كأنه باع عشر مائة وبيع الشائع جائز اتفاقا وعنده مؤداه قدر معين والجوانب مختلفة الجودة فتقع المنازعة في تعيين مكان العشرة فيفسد البيع فلو اتفقوا على مؤداه لم يختلفوا فهو نظير اختلافهم في نكاح الصابئة.

فالشأن في ترجيح المبنى هو يقول الذراع اسم لما يذرع به فاستعير لما يحله ومعين بخلاف عشرة أسهم؛ لأن السهم اسم للجزء الشائع فكان المبيع عشرة أجزاء شائعة من مائة سهم أطلقه فشمل ما إذا بين جملة الذرعان كأن يقول من مائة ذراع أو لم يبين وبه اندفع قول الخصاف إن محل الفساد عنده فيما إذا لم يبين جملتها وليس بصحيح، ولهذا صور المسألة في الهداية فيما إذا سمى جملتها لكن اختلف المشايخ على قولهما فيما إذا لم يسم جملتها والصحيح الجواز عندهما؛ لأنها جهالة بأيديهما إزالتها.

فقه البيوع 🙁ج١ ص ٣٧٧)

وقد تباع قطعة من الأرض مقدرة بالخطوات أو الأمتار، ولكن يترك تعيينها للمستقبل وهذا يكون عادة في أرض واسعة تشتريها شركة، ثم تبيع قطعاتها لعامة الناس تقدر بالخطوات أو الأمتار، فمثلا: كل قطعة منها بقدر خمس مائة متر، ولكن لا يتعين محل تلك الخمسمائة عند الشراء. وإنما يتعين حسب التصميم الذي تعمله الشركة فيما بعد.

فالسؤال: هل يصح هذا البيع على أنه بيع حصة مشاعة من تلك الأرض الواسعة؟ وهل يجوز لمن يشتريها أن يبيعها إلى آخر؟ وتخرج هذه المسئلة على ما ذكره الفقهاء الحنفية من أن من باع عشرة أذرع غير معينة من دار، فإن هذا البيع فاسد عند الإمام أبي حنيفة رحمه الله تعالى، لجهالة قدر المبيع،

فإن جوانب الدار مختلفةالجودة، فتقع مشاعة من الدار، وبيع المشاع جائز. ثم فسر بعض الفقهاء قولهما بأنه يصح البيع عندهم على أساس الشيوع بشرط أن يعلم مقدار جملة الدار، ولکن قال اخرون: قولهما لايقتصر علي تلك الصورة، بل الصحيح أنه يجوز البيع عندهما، وإن لم يكن مقدار الكل معلوما، لإن هذه جهالة بيدهما إزالتها.

وعلى هذا، فإن بيع قطعة غير معيّنة من جملة القطعات لايجوز عند الامام أبي حنيفة رحمه الله تعالى، ويجوز عند صاحبيه. والظاهر أنه إن كانت جهالة التعيين تفضي إلى المنازعة، فالإخذ بقول الإمام أبي حنيفة أولى، وإن لم تكن مفضية إلى المنازعة فقول الصاحبين أولى.

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

10/محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب