| 87887 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
اکثر بازاروں، گلیوں یا سڑکوں کے کنارے بعض افراد سرکاری زمین پر ریڑھی یا ٹھیلہ لگا کر سامان فروخت کرتے ہیں، چونکہ وہ جگہ حکومت کی ملکیت ہوتی ہے،ایسی جگہ ٹھیلہ لگانا کیسا ہے؟ کیا ایسے افراد سے خرید و فروخت شرعاًدرست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عام راستوں میں ٹھیلے وغیرہ لگانے کی دو صورتیں ہیں:
1۔ اگر ٹھیلہ لگانے سے راہگیروں کو تکلیف نہ ہوتی ہوتو ایسے جگہ پر ٹھیلہ لگانے کی گنجائش ہے۔
2۔ اگر ٹھیلہ وغیرہ لگانے سے عوام الناس کو آمد ورفت میں تکلیف ہوتی ہو تو ایسی جگہ ٹھیلہ لگانا جائز نہیں ، اس کی وجہ سے ٹھیلہ لگانےوالا گناہگار ہو گا ،لوگوں کو بھی ایسے شخص سے خریداری نہیں کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں خریدار اور بیچنے والے کے درمیان ہونے والے معاملے میں اس کے علاوہ کوئی شرعی خرابی نہ ہو ،تو دونوں کے لیےخریدا ہوا مال استعمال کرنااور حاصل شدہ آمدنی خرچ کرنا درست ہو گا۔
یہ بھی واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے کسی جگہ انتظامی نظم و نسق کی وجہ سے ٹھیہ وغیرہ لگانے کے لئے سرکاری اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہوتو اس صورت میں حکومتی حکم کی پیروی لازم ہو گی ،ایسی جگہ سرکاری اجازت نامے کے بغیر ٹھیہ لگانا شرعاً درست نہ ہو گا، خلاف ورزی کرنے والا گناہگار ہو گا،تاہم فروخت کنندہ اور خریدار کے درمیان ہونے والا خرید و فروخت کا معاملہ درست ہو گا۔
حوالہ جات
رد المحتار ط الحلبي» (6/ 592):
(أخرج إلى طريق العامة كنيفا) هو بيت الخلاء (أو ميزابا أو جرصنا كبرج وجذع وممر علو وحوض طاقة ونحوها أو دكانا جاز) إحداثه (إن لم يضر بالعامة) ولم يمنع منه، فإن ضر لم يحل ... (والقعود في الطريق لبيع وشراء) يجوز إن لم يضر بأحد وإلا لا.
الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 473):
قال: "ومن أخرج إلى الطريق الأعظم كنيفا أو ميزابا أو جرصنا أو بنى دكانا ...
قال: "ويسع للذي عمله أن ينتفع به ما لم يضر بالمسلمين" لأن له حق المرور ولا ضرر فيه فليلحق ما في معناه به، إذ المانع متعنت، فإذا أضر بالمسلمين كره له ذلك لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا ضرر ولا ضرار في الإسلام".
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (14/ 221):
عن نافع ،عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما ،عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم،قال:السمع والطاعة حق ، ما لم يؤمر بالمعصية ،فإذا أمر بمعصية ،فلا سمع ،ولا طاعة. قال العلامۃ العینی رحمہ اللہ تعالی فی شرحہ:" قوله: السمع أي إجابة قول الأمير، إذ طاعة أوامرهم واجبة ما لم يأمر بمعصية ،وإلا فلا طاعة لمخلوق في معصية الخالق. ويأتي من حديث علي رضی اللہ عنہ بلفظ:" لا طاعة في معصية ،وإنما الطاعة في المعروف ...وذكر عياض:أجمع العلماء على وجوب طاعة الإمام في غير معصية، وتحريمها في المعصية".
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (7/ 99):
وإذا أمر عليهم يكلفهم طاعة الأمير فيما يأمرهم به، وينهاهم عنه؛ لقول الله تبارك وتعالى {يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم} [النساء: 59] وقال عليه الصلاة والسلام: «اسمعوا وأطيعوا، ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع ما حكم فيكم بكتاب الله - تعالى» ولأنه نائب الإمام، وطاعة الإمام لازمة كذا طاعته؛ لأنها طاعة الإمام، إلا أن يأمرهم بمعصية فلا تجوز طاعتهم إياه فيها؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق» ولو أمرهم بشيء لا يدرون أينتفعون به أم لا، فينبغي لهم أن يطيعوه فيه إذا لم يعلموا كونه معصية؛ لأن اتباع الإمام في محل الاجتهاد واجب، كاتباع القضاة في مواضع الاجتهاد۔
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
03/محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


