03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مطالبہ طلاق کے جواب میں “ہاں” کہنے کا حکم
88019طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

اشرف کی عادت ہے  کہ جب بھی کسی بولنے والے کی بات سنتا ہے، تو" ہاں" بولتا ہے، اشرف کو عمیر نے کہا:" کیا تم عابدہ کو طلاق دیتے ہو؟" اشرف کو ٹریک کے شور کی وجہ سے  آواز سنائی نہ دی، لیکن اشرف نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ اشرف عمیر کی بات سن رہا ہے لفظ" ہاں "بولا ۔کیا اشرف کی بیوی عابدہ مطلقہ بن گئی، جبکہ اشرف کی  طلاق کی  نیت نہ تھی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 صورتِ مسئولہ میں "ہاں" کہنے والے شخص (اشرف) نے نہ تو عمیر کے یہ الفاظ "کیا تم عابدہ کو طلاق دیتے ہو؟" سنے اور نہ ہی اس کی طلاق دینے کی نیت تھی، لہٰذا اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 402):

امرأة قالت لزوجها: ‌تريد ‌أن ‌أطلق ‌نفسي؟ فقال الزوج :نعم ،فقالت المرأة :طلقت ،إن كان الزوج نوى تفويض الطلاق إليها تطلق واحدة، وإن عنى بذلك طلقي نفسك إن استطعت لا تطلق.

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (1/ 436):

ولو قالت: طلقني فقال: نعم. لا، وإن نوى، قيل له: ألست ‌طلقت ‌امرأتك؟ قال: بلى، طلقت لأنه جواب الاستفهام بالإثبات، ولو قال: نعم. لا، لأنه جواب الاستفهام بالنفي، كأنه قال: نعم ما طلقت (انتهى).

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

14/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب