03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بیوہ، ایک بیٹی، چار بھائی اور ایک بہن کے درمیان ترکہ کی تقسیم
88199تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

میرا نام شگفتہ کفیل ہے۔ میرے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے، میرے شوہر نے میراث میں 15 لاکھ روپے کی رقم چھوڑی ہے۔ورثا میں ایک بیوہ، ایک بیٹی ہے ۔اس  کے علاوہ  میرے شوہر کے چار بھائی اور ایک بہن ہیں، اس کے علاوہ کوئی وارث نہیں ہے۔ برائے مہربانی شریعت کی رو سے حساب کر کے بتائیں کہ کس وارث کو کتنا حصہ ملے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ميت كے ترکہ میں سے  سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعد  مرحوم کے ذمہ واجب  قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (3/1) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ کل ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) مرحوم کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔

اگر انتقال کے وقت ورثاءصرف یہی لوگ ہوں جوسوال میں مذکورہیں ،تو کل ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ  بیوہ کوکل مال کا آٹھواں  حصہ ملے گا ، بیٹی کو کل مال کا نصف حصہ ملے ۔ باقی ماندہ ترکہ کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ ہر بھائی کو بہن کی بنسبت دوگنا حصہ ملے۔

کل مال کے  24 حصے بنائے جائیں گے،جس میں سے بیوہ کو3،بیٹی کو 12 ،ہر بھائی کو 2،جبکہ بہن کو1 حصہ ملے گا۔فیصدی لحاظ سے  بیوہ کو 12.50%،بیٹی کو 50فیصد،ہر بھائی کو 8.33% اور بہن کو 4.16%ملے گا۔

تقسیم درج ذیل  نقشہ میں ملاحظہ فرمائیں :

ورثاء

عددی حصہ

حصص

فیصد

بیوہ

3

187,500

12.5%

بیٹی

12

750,000

50%

بھائی

2

125,000

8.33%

بھائی

2

125,000

8.33%

بھائی

2

125,000

8.33%

بھائی

2

125,000

8.33%

بہن

1

62500

4.16%

حوالہ جات

سورة النسآء، آیت نمبر ۱۲ :

ﵟفَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ ﵞ 

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

28/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب