| 88271 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
میرے ماموں مرحوم نے مکان خریدہ کر اپنی بیوی کی ملکیت اور قبضہ میں دے دیا تھا اور رجسٹری بھی بھی بیوی کے نام سے کرائی تھی۔ میرے ماموں چونکہ وفات ہوگئے ہے ۔ورثاء میں اب ایک بیوہ ، دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ۔سوال یہ ہے کہ یہ گھر بیوہ کی ملکیت میں ہے ، یا اس میں میراث جاری ہوگی؟ کیا وہ اپنی زندگی میں یہ گھر بیٹوں اور بیٹیوں کو دےسکتی ہے؟اس کے علاوہ میراث میں میرے ماموں مرحوم نے ایک دکان چھوڑی ہے، جس کو اس کے دوبیٹے اب چلاتے ہیں۔ اب یہ دوکان ورثاء کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ميت كے ترکہ میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعد مرحوم کے ذمہ واجب قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (3/1) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ کل ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) مرحوم کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔
سوال میں پوچھی گئی صورتوں کا حکم درج ذیل ہے:
الف: جو گھر مرحوم کی بیوہ کی ملکیت میں ہے، اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، بلکہ وہ بدستور اس کی ملکیت میں برقرار رہے گا۔
ب۔ اگر ماں اپنا گھر اپنی زندگی ہی میں اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتی ہے ،تو اس کی اجازت ہے۔ اس صورت میں بہتر یہی ہے کہ ماں بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان گھر برابر تقسیم کرے، کیونکہ زندگی میں جو جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کی جاتی ہے وہ ہبہ (گفٹ) کے حکم میں ہے۔لہذا ماں کو چاہئے کہ گھر اولاد کے درمیان برابر تقسیم کرے۔
ج۔اگر انتقال کے وقت ورثاءصرف یہی لوگ ہوں جوسوال میں مذکورہیں ،تومرحوم کا کل ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ بیوہ کوکل مال کا آٹھواں حصہ ملے گا ، باقی ماندہ سات حصوں کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ ہر بھائی کو بہن کی بنسبت دوگنا حصہ ملے۔
مرحوم کے کل مال کے 64 حصے بنائے جائیں گے،جس میں سے مرحوم کی بیوہ کو8، ہر بیٹی کو 7 ،جبکہ ہر بیٹے کو 14 حصے ملیں گے۔
فیصدی لحاظ سے بیوہ کو 12.50%، ہر بیٹی کو% 10.93،جبکہ ہر بھائی کو 21.87%ملے گا۔
دکان کی تقسیم کچھ یوں ہوگی کہ دکان اور اس میں موجود سامان کی آج کے حساب سے قیمت لگائی جائے گی، اور یہ قیمت مرحوم کے ورثاء میں ان کے ذکر کردہ حصے کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔ اگر دکان کاروبار کر رہی ہے(جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو اس سے حاصل ہونے والا منافع بھی اسی تناسب سے تقسیم ہوگا۔ اسی طرح دکان کے اخراجات بھی تمام ورثاء پر ان کے حصے کے مطابق تقسیم کیے جائیں گے۔
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصے |
|
بیوہ |
8 |
12.50 |
|
بیٹی |
7 |
10.93% |
|
بیٹی |
7 |
10.93% |
|
بیٹی |
7 |
10.93% |
|
بیٹی |
7 |
10.93% |
|
بیٹا |
14 |
21.87% |
|
بیٹا |
14 |
21.87% |
|
مجموعہ |
64 |
10p0% |
حوالہ جات
سورة النسآء، آیت نمبر 12 :
ﵟفَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ ﵞ
صحيح البخاري (2/ 913):
عن النعمان بن بشير:أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما، فقال: (أكل ولدك نحلت مثله). قال: لا، قال: (فارجعه).
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (4/ 444):
وقال على الفريضة الشرعية قسم على ذكورهم وإناثهم بالسوية هو المختار المنقول.
أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم.
(الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، ج:4،ص:14، الْمَادَّةُ :1073):
الأموال المشترکة شرکة الملک تقسم حاصلاتها بین أصحابها علی قدر حصصهم.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
2/صفر المظفر/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


