| 88201 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
میرے والد سید محمد عثمان کا انتقال فروری 2009 میں ہوا تھا۔ ہمارے والد کی تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ ایک بیٹے کا انتقال والد کی زندگی میں سن 2003 میں ہو گیا تھا۔ اس مرحوم بیٹے کی دو بیٹیاں ہیں۔ والد کی جائیداد میں ایک فلیٹ تھا۔جب والد کا انتقال سن 2009 میں ہوا،تو اس وقت ماں کے علاوہ دو بیٹے اور ایک بیٹی حیات تھے۔ والد نے زبانی کہا کہ یہ فلیٹ میں اپنی بیٹی کو وراثت میں دے رہا ہوں۔
اب اس وراثت کی تقسیم شرعی طور کیسے کی جائے گی؟جو بیٹا والد صاحب کی زندگی میں انتقال کرگیا تھا،اس مرحوم کی بیٹیوں کا اس وراثت میں شرعا حصہ ہوگا یا نہیں؟
نوٹ: والدہ کی وفات سن ۲۰۱۴ میں ہوئی ہے۔ والدہ کی وفات کے وقت یہی ورثاء (دو بھائی، ایک بہن )موجود تھے۔ اس کے علاوہ کوئی وارث (والدہ کے والد یا والدہ زندہ )نہیں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں پوچھی گئی صورتوں کے حکم کا ترتیب وار جواب درج ذیل ہے:
۱۔جس بیٹے کا انتقال والد مرحوم کی زندگی میں ہوا تھااس کی بیٹیوں کا میراث میں شرعا کوئی حصہ نہیں بنتا، البتہ اگر ورثا میں سے کوئی وارث ازخود دلی رضامندی کے ساتھ کچھ دینا چاہے، تو نہ صرف دے سکتا ہے، بلکہ یہ پسندیدہ بھی ہے،خاص طور پر اگر وہ لوگ محتاج ہوں ۔
۲۔والد کا اپنے زندگی میں زبانی صرف یہ کہنا کہ:" یہ فلیٹ میں اپنی بیٹی کو وراثت میں دے رہا ہوں "،اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، کیونکہ یہ والد کی طرف سے بیٹی کے لئے ہبہ(گفٹ) تھا اور شریعت کا اصول یہ ہے جب تک ہبہ(گفٹ)دینے والا شخص وہ چیز واقعی طور پر دوسرے کو مالک بنا کر اس کے قبضے میں نہ دے، اُس وقت تک اس(گفٹ) کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔لہذا سید محمد عثمان نے جو فلیٹ وراثت میں چھوڑا ہے اس میں ہر وارث کا شرعا حصہ بنتا ہے۔
میراث کی تقسیم سے پہلے ان باتوں کا لحاظ ضروری ہے کہ ميت كے ترکہ میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعد مرحوم کے ذمہ واجب قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (1/3)تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ کل ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) مرحوم کےانتقال کے وقت موجودورثاء (ایک بیوہ ، ایک بیٹی، دو بیٹے)میں تقسیم کیا جائے گا۔چونکہ اس تقسیم سے پہلے بیوہ کا بھی انتقال ہوچکا، لہذا اس کا حصہ بھی میراث شامل کرکے والدین کی میراث ان دونوں انتقال کے وقت موجودورثاء (ایک بیٹی، دو بیٹے) میں تقسیم کی جائے گی۔
اگر انتقال کے وقت ورثاءصرف یہی لوگ ہوں جوسوال میں مذکورہیں ،تو کل ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ کے کل مال کے۵ حصے بنائے جائیں گے اور وہ حصے بہن بھائیوں میں اس طرح تقسیم کئے جائیں گےکہ ہر بھائی کو بہن کی بنسبت دوگنا حصہ ملے۔
فلیٹ کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ اس کی مارکیٹ ریٹ آج کے حساب سے معلوم کی جائے گی۔ جتنی مارکیٹ ریٹ ہوگی، اس کے کل 5حصے بنائے جائیں گے،جس میں ہر بھائی کو 2 حصے ملیں گے ،جبکہ بہن کو ۱حصہ ملےگا۔فیصدی لحاظ سے کو ہر بھائی کو 40% اور بہن کو 20%ملے گا۔
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصے |
|
بھائی |
2 |
40% |
|
بھائی |
2 |
40% |
|
بہن |
1 |
20% |
حوالہ جات
سورة النسآء، آیت نمبر 12 :
ﵟفَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ ﵞ
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 688):
وشرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح.
(وركنها) هو (الإيجاب والقبول) كما سيجيء.(وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) فله الرجوع والفسخ (وعدم صحة خيار الشرط فيها) فلو شرطه صحت إن اختارها قبل تفرقهما، وكذا لو أبرأه صح الإبراء، وبطل الشرط خلاصة.
(و) حكمها (أنها لا تبطل بالشروط الفاسدة) فهبة عبد على أن يعتقه تصح ويبطل الشرط.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
28/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


