03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدت ادائیگی  بڑھانے کے بدلے مزید نفع لینے کا حکم
88168سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

دوکاندار کسان کو ادھار سامان(جیسے:کھاد، اسپرے اور بیچ وغیرہ ) زیادہ قیمت (سامان کی اصل قیمت سے  20 فیصد زیادہ قیمت )پر متعین مدت کے لئے بیچتا ہے ۔مقررہ مدت آنے پر کسان دوکاندار کو قیمت کی ادائیگی کرتا ہے  ،لیکن بسا اوقات ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ کسان نے جو سامان خریدا ہوتا ہے، وہ مقرر کردہ مدت تک پیسے ادا نہیں کرپاتا ہے اور دوکاندار سے مزید مہلت مانگتا ہے ۔ دوکاندارواجب الاداء پیسوں میں کسان کو  مہلت تو دے دیتا ہے ، لیکن ساتھ وہ یہ شرط لگاتا ہے کہ اسی  ادھار سامان کی قیمت  20 فیصد کے اعتبار سے نہیں لوں گا، بلکہ کسان  اب مجھے (سابقہ ادھار کی ) 40 فیصد  کے حساب سے ادائیگی کرے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا دوکاندار  مدت بڑھانے  اور مہلت دینے پر ادھار سامان کی قیمت میں مزید اضافہ کرسکتا  ہے  یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ تنگ دست کو مہلت دینا  يا اس كا قرض معاف كرنا افضل عمل ہے۔متعدد احادیث میں اس کی فضیلت وارد ہوئی ہے، لہذا اگر کوئی شخص واقعی تنگ دست ہے اور وہ ٹال مٹول نہیں کررہا تو اس کو مہلت دینا باعث اجر و ثواب ہے۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ  جس شخص نے کسی تنگ دست کو قرض کی ادائیگی میں  مہلت  دی، یا اس کا قرض (پورا یا کچھ حصہ) معاف کیا،توقیامت کے دن اللہ اس کو عرش کے سایہ کے نیچے جگہ عطا کرے گا۔(مسند احمد)

سوال میں پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ جب کسان اور دکاندار کے درمیان ادھار چیز کی قیمت طے ہوگئی ، اس کے بعد کسان کے ذمے وہی قیمت ادا کرنا لازم ہے۔ اگر کسان بروقت ادائیگی نا کرسکے تو دکاندار کا مدتِ ادائیگی میں  مہلت دینے کے بدلے ادھار سامان کی قیمت میں اضافہ کرنا  بالکل ناجائز ہے ، یہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔ لہذا دکاندار کو چاہئے کہ  اس  سے توبہ کرے اور ادائیگی کی مدت بڑھانے کے بدلے قیمت میں اضافہ کرنے سے باز آجائے۔ کسان کو بھی چاہئے کہ ایسے دکان دار کے ساتھ عقد نہ کرے جو اسی طرح سودی معاملات کرتا ہو۔

حوالہ جات

مسند أحمد (14/ 329 ط الرسالة):عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ‌من ‌أنظر ‌معسرا، أو وضع له، أظله الله في ظل عرشه يوم القيامة.

الاختيار لتعليل المختار (3/ 9):

ولو صالحه على ألف مؤجلة بخمسمائة حالة لم يجز ; لأنه اعتياض عن الأجل، ولا يجوز ; لأن المعجلة خير من المؤجلة، فيكون التعجيل بإزاء ما حط عنه فلا يصح.

فتح باب العناية بشرح النقاية (3/ 191):

 (ولم يَصِح) الصلح (عن دراهم على دنانير مؤجلة) إِذْ لا وَجْه لصحَّة ذلك سوى المعاوضة، وبيع الدراهم بالدنانير نَسَاءً لا يجوز، ولا يمكنُ حَمْله على التأْخير لأن الدنانير غير مستحَقة بعقد المداينة (أَوْ عن أَلفٍ مؤجلٍ على نصفه حالاً) لأن الحالَّ خير من المؤجل، (والمستَحَقُّ هنا بعقد المداينة هو المؤجل) ، فيكون تعجيل الخمس مئة التي كانت مؤجلةً بمقابلة الخمس مئة المحطوطة، وذلك ‌اعتياض ‌عن ‌الأجل، وهو حرَام، أَلا ترى أَنْ ربا النَّساء حرام لشبهةِ مبادلةِ المال بالأجل، فلأَن يحرم حقيقته أَولى.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

26/محرم الحرام 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب