03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
 مزاحیہ کارٹون وغیرہ کی آمدن کا حکم
88147جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

کیا ایسے مواد سے یوٹیوب یا دیگر پلیٹ فارمز پر کمائی کرنا حلال ہو گا یا حرام؟ اگر نیت صرف تفریح یا مزاح ہو، تب بھی کیا یہ ویڈیوز بنانا اور ان سے آمدنی لینا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جو کارٹون انسانی شکل کے مسخ اور بگاڑ وغیرہ پر مشتمل ہوں،اس کے ذریعے حاصل کی جانے والی آمدنی جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر آپ  اے آئی سے  ایسے کارٹون بنوائیں، جس میں بے حیائی اور موسیقی نہ ہو تو اس  کےذریعے حاصل ہونے والی کمائی بھی حلال ہے۔

مزاحیہ کارٹون اگر صرف مزاح کی حد تک ہو اور اس میں کوئی سبق آموز  مواد نہ ہو اور نہ ہی تعلیم اور تربیت کا پہلو موجود ہو تب ایسے کارٹون کو ذریعہ آمدن بنانا پسندیدہ نہیں ہے۔

حوالہ جات

موطأ مالك - رواية يحيى (2/ 903 ت عبد الباقي):

وحدثني عن مالك، عن ابن شهاب، عن علي بن حسين بن علي بن أبي طالب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:‌من ‌حسن ‌إسلام المرء تركه ما لا يعنيه.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

22/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب