03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ميت والے گھر  کھانا بھیجنے کا حکم
88122جنازے کےمسائلتعزیت کے احکام

سوال

ہمارے علاقے میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے، جس میں شامل افراد ماہانہ یا وقتاً فوقتاً رقم جمع کرواتے ہیں۔ اس کمیٹی کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی رکن کے گھر فوتگی ہو جائے تو جنازے کے انتظامات، کھانے پینے اور قبر وغیرہ کے اخراجات اسی کمیٹی کے فنڈ سے ادا کیے جائیں۔کیا شریعت کی رو سے اس قسم کی کمیٹی قائم کرنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطورِ تمہید یہ واضح رہے کہ میت کے گھر کھانا پکا کر بھیجنا مستحب ہے، کیونکہ میت والا گھرانہ غم اور تکلیف میں ہوتا ہے، لہٰذا ان کی غمگساری اور دل جوئی کے لیے ایسا کرنا پسندیدہ عمل ہے۔

اگر اس کام کے لیے کوئی قبیلہ یا خاندان ایک رفاہی فنڈ قائم کرے، اور اس میں مخیر حضرات بغیر کسی جبر کے از خود رقم دیں، تاکہ  ضرورت کے وقت  اس سے مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کی جا سکے، تو اس کی گنجائش موجود ہے۔

البتہ ایسی کمیٹی یا فنڈ قائم کرنا جس میں تمام افراد پر مخصوص رقم دینا لازم ہو اور اس میں غریب کے لیے کوئی رعایت نہ ہو، یا کمیٹی کے ممبرز پر خرچ ان کی جمع کردہ رقم کے تناسب سے ہواور فنڈ کی زیادہ تر سہولیات ان لوگوں کو حاصل ہوں جو زیادہ چندہ دیتے ہیں، تو ایسی صورت میں اس قسم کی کمیٹی بنانا جائز نہیں ہے۔ اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:

الف۔ ممبران کو یکساں سہولت نہ دینا اور ان پر رقم کی تناسب سے فنڈ کی تقسیم اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کمیٹی باہمی تعاون کے لیے نہیں بنائی گئی، بلکہ اس کا مقصد ہر ممبر کو اس کی جمع کردہ رقم کے بدلے سہولیات فراہم کرنا ہے، جس کی وجہ سے کمیٹی کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے۔

ب۔ کمیٹی کے ممبرز کو فنڈ یا چندے کے تناسب سے سہولیات فراہم کرنے میں یہ احتمال ہوتا ہے کہ کسی کو زیادہ اور کسی کو کم فائدہ پہنچے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ قمار (جوے) کے مشابہ ہو جاتا ہے۔

ج۔ ہر قبیلے اور خاندان میں ہر شخص صاحب استطاعت نہیں ہوتا، کچھ حضرات ایسے بھی ہوتے ہیں ، جن کے پاس مالی گنجائش نہیں ہوتی ، ایسی صورت میں ہر حال میں ان  سے رقم لینا  شرعا درست نہیں ، کیونکہ اس طرح  وہ دلی رضامندی سے چندہ نہیں دیتا، بلکہ شرمندہ ہونے سے بچنے کے لئے دیتا ہے ،ورنہ اس کے بغیر وہ سہولیات کا مستحق نہیں ہوتا۔لہذا یہ بھی ناجائز ہونے کی ایک وجہ ہے۔

خلاصہ یہی ہے کہ اگر ایک ایسا  رفاہی فنڈ قائم کیا جائے، جس میں مخیر حضرات دلی رضامندی سے چندہ دیں اور پھر اسی فنڈ سے  ضرورت کے وقت میت کے گھر کھانا پکا کر بھیجا جائے ، یا  اسی فنڈ سے تجہیز وتکفین کے اخراجات  برداشت کئے جائیں اور سب کو یہ سہولت یکساں حاصل ہو  تو ایسی کمیٹی بنانے کی گنجائش ہے۔

یہ بات بھی واضح رہے کہ میت والے گھر کی طرف سے سب کو اس طور پر  کھانا کھلانے کی رسم کو عام کرنا  مذموم ہے ،جو کہ ایک اجتماعی دعوت کی شکل اختیار کرلے، کیونکہ  اجتماعی دعوت خوشی کے وقت ہوتی ہے ، نہ کہ غم اور مصیبت کے وقت  ۔ لہذا جو  قریب رہنے والے لوگ  ہیں، ان کو چاہئے کہ اپنے گھروں میں کھانا کھائیں اور میت والے گھرانہ پر بوجھ نہ بنیں ۔ البتہ دور دراز سے آئے ہوئے مہمانوں کوکھانا  کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

حوالہ جات

سنن الترمذي (2/ 486):

حدثنا أحمد بن منيع وعلي بن حجر، قالا: حدثنا سفيان بن عيينة، عن جعفر بن خالد، عن أبيه

عن عبد الله بن جعفر، قال: ‌لما ‌جاء ‌نعي ‌جعفر، قال النبي صلى الله عليه وسلم: "اصنعوا لأهل جعفر طعاما، فإنه قد جاءهم ما يشغلهم. هذا حديث حسن صحيح.

وقد كان بعض أهل العلم يستحب أن يوجه إلى أهل الميت بشيء، لشغلهم بالمصيبة.

منحة العلام في شرح بلوغ المرام (4/ 377):

الحديث دليل على استحباب تقديم الطعام لأهل الميت في يوم مصيبتهم رفقًا بهم مراعاة لحالهم، وهذا من محاسن الإسلام، ومؤكدات الإخوة بين المسلمين، ومشروعية المشاركات عند نزول الحاجات.

ولم يذكر في الحديث مدة الإطعام، فمن أهل العلم من قال: يوم وليلة؛ لأن الغالب أن الحزن الشاغل عن إعداد الطعام لا يستمر أكثر من يوم، ومنهم من قال: ثلاثة أيام..... ولا يجوز الإسراف في إعداد هذا الطعام، كما يفعله كثير من الناس اليوم، فإن الإسراف مذموم شرعًا، وليكن الطعام إلى أهل الميت بقدر حاجتهم، ويجوز لمن حضر أهل الميت أن يأكل معهم من هذا الطعام؛ لأنهم لم يصنعوه بأنفسهم وإنما صنع لهم.

أما أهل الميت فلا يجوز لهم صنع الطعام للناس؛ لأن هذا من البدع، وفيه مفاسد عظيمة.

فتح العلام في دراسة أحاديث بلوغ المرام ط ٤ (3/ 570 ط 4):

وَعَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ جَعْفَرٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ حِينَ قُتِلَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: «اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا، فَقَدْ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ». أَخْرَجَهُ الخَمْسَةُ إلَّا النَّسَائِيّ.

 استحبَّ أهل العلم أن يُصْنَعَ لأهل الميت طعامًا؛ لأنهم شُغِلوا بمصيبتهم، وقد قال تعالى: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى} [المائدة:2]، وقال النبي -صلى الله عليه وعلى آله وسلم-: «والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه».

وفي «الصحيحين» عن عائشة رضي الله عنها، أنها كانت إذا مات الميت من أهلها، فاجتمع لذلك النساء، ثم تفرقنَ إلا أهلها وخاصَّتها، أمرت ببرمة من تلبينة، فَطُبِخت، ثم صُنِع ثريد، فصبت التلبينة عليها، ثم قالت: كُلْنَ منها؛ فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: التلبينة مجمة لفؤاد المريض تذهب بعض الحزن.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 240):

قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم :(اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم)حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ. مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت

وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

22/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب