| 87715 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
اے آر وائی جیولرز کراچی کی سہولت سونا کمیٹی کی ایک اسکیم ہے، جس میں آپ ان کو آن لائن پیسے بھیجتے ہیں۔ وہ اس کے عوض آپ کے اکاؤنٹ (والٹ )میں سونا جمع کر تے ہیں ،جو کہ رقم کے حساب سے ہوتا ہے۔ ضرورت پڑنےآپ پر سونا لے بھی سکتے ہیں۔سونا وصول کرنے کے لئے آپ کو اے آر وائی جیولرز کو کال کرنی ہوتی ہے، وہ پھر اپ کو کچھ ٹائم ، مثلا ہفتہ، یا دو ہفتے کے اندر اپ کا جمع شدہ سونا ادا کردیتے ہیں اور اگر آپ چاہیں تو سونے کی بجائے واپس رقم بھی وصول کرسکتے ہیں۔ تو کیا یہ سونا کمیٹی شرعی لحاظ سے ٹھیک ہے کہ نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ قسط وار چیزیں خریدنا شرعا جائز ہے ، بشرطیکہ قیمت ابتداء سےمتعین ہو اور احد البدلین پر مجلس میں قبضہ ہو ا۔
ہماری معلومات کے مطابق اے آر وائی جیولرز کی سہولت سونا کمیٹی ایک اسکیم ہے،جس میں صارف ان سے قسط وار سونا خریدتا ہے اور مخصوص مقدار میں سونا جمع ہونے کے بعد وہ سونا لے سکتا ہے ، اس شرط کے ساتھ کہ پہلی بار سونا نکالوانے کے لئے کم از کم چھ ماہ کا وقت گزرا ہو اور مخصوص مقدار(۵۰۰ ملی گرام ) سونا والٹ میں جمع ہو، جیسا کہ ان کی شرائط میں واضح طور پر لکھا گیا ہے۔
(62): The Member becomes eligible to take over the Gold after reaching to the minimum disbursable denomination e.g., 500 Milligram (or as specified in Schedule of Charge) provided 6 months period from initiation of Comiti is elapsed. The disbursable denomination can be changed if the market trading rules/practice or the minimum denomination are changed.
General Terms and Conditions: ARY Sahulat Wallet / Card / Products [Comitis, Online & other Services]
مذکورہ اسکیم کی سہولت کمیٹی سے سونا خریدنا جائز نہیں ہے ۔ اس کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:
الف: معمولی مقدار میں سونا خریدنے کے بعد آپ سونا اپنے والٹ سے نکلوا نہیں سکتے یہاں تک کہ وہ ۵۰۰ ملی گرام تک نہ پہنچے، نیز اس میں مزید تبدیلی کا اختیار بھی کمیٹی نے اپنے پاس رکھا ہے۔جبکہ جو چیز آپ خرید لیں، تو ملکیت آنے کے بعد آپ کو اس پر قبضہ کرنے کا حق ہے۔جبکہ مذکورہ اسکیم میں بائع (اے آر وائی جیولرز ) مخصوص مقدار تک سونا جمع ہونے تک سونا روکے رکھتا ہے۔
ب:جب سونا آپ نے خرید لیا، اس کے بعد بائع کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ سونا مخصوص مدت تک روک لے، بلکہ خریدنے والے کی ملکیت آنےکے بعدایسی شرط لگانا کہ اتنی مدت تک خریدار اس کو نکلوانہیں سکتا ،اس سے معاملہ فاسد ہوجاتا ہے۔
لہذا شرائط فاسد ہ کی وجہ سے مذکورہ اسکیم سے سونا خریدنا جائز نہیں ہے۔سونا خریدنے کا جو معاملہ آپ نے اے آر وائی جیولرز والوں کے ساتھ کیا ہے ، اس کا فسخ کرنا آپ پر ضروری ہے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 82):
(ولو) (باع مطلقا عنها) أي عن هذه الآجال (ثم أجل الثمن) الدين، أما تأجيل المبيع أو الثمن العيني فمفسد ولو إلى معلوم شمني (إليها صح) التأجيل (كما لو كفل إلى هذه الأوقات) ؛ لأن الجهالة اليسيرة متحملة في الدين والكفالة لا الفاحشة (أو أسقط) المشتري (الأجل) في الصور المذكورة (قبل حلوله) وقبل فسخه (و) قبل (الافتراق) حتى لو تفرقا قبل الإسقاط تأكد الفساد ولا ينقلب جائزا اتفاقا.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 49):
قال: "ومن باع عينا على أن لا يسلمه إلى رأس الشهر فالبيع فاسد"؛ لأن الأجل في المبيع العين باطل فيكون شرطا فاسدا، وهذا؛ لأن الأجل شرع ترفيها فيليق بالديون دون الأعيان.
درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 173):
(أو) كشرط (أن يستخدمه) أي المبيع وهو عبد هذا نظير شرط لا يقتضيه العقد وفيه نفع للبائع.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 51):
وإنما لا يثبت الملك قبل القبض كي لا يؤدي إلى تقرير الفساد المجاور إذ هو واجب الرفع بالاسترداد.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
3/ذی الحج/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


