03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہبہ کی ہوئی  چیز کو آپس  میں  تقسیم کرنے کا طریقہ
87598ہبہ اور صدقہ کے مسائلکئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان

سوال

بندہ کے دادا نے دو شادیاں کیں ،پہلی شادی سے میرے والد صاحب کی پیدائش ہوئی اور دوسری شادی سے سات بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں ۔میرے والد صاحب دادا  کے ساتھ پندرہ سال  کاروبار میں شریک  رہے، لیکن دادا کی زندگی میں والد  کا انتقال ہو گیا  اور دو سال بعد دادا  کے انتقال کے بعد جب وراثت کی تقسیم کا مسئلہ آیا تو چچوں میں اختلاف ہو گیا کہ ہمیں وراثت ملنی چاہیے یا نہیں؟ کیونکہ ہمارے والد صاحب دادا سے قبل انتقال کر گئے تھے ، اس کے باوجود انہوں نے ہمیں ایک دکان ،گھر اور کچھ سرمایہ دے دیا جو بطور وراثت نہیں تھا ۔میرے والد صاحب کی بھی دو شادیاں تھیں ،ہماری والدہ سے تین بھائی ہیں اور دوسری والدہ  سے دو بہنیں ہیں   اور وہ دونوں بھی حصہ مانگ رہی ہیں اور دونوں والدہ انتقال کر چکی ہیں ۔

اب صورتحال یہ ہے کہ ایک مفتی صاحب سے استفسار کیا تو انہوں نے فرمایا کہ چونکہ آپ کو والد صاحب کی وراثت سے حصہ نہیں ملا تو آگے بھی وراثت تقسیم نہیں ہو گی ،بلکہ آپ سب بھائی کسی بڑے  کو بٹھا کر  آپس میں حصے تقسیم کر لیں۔ہمارے ایک بڑے نے پینتالیس فیصد حصہ میرے لیے طے کیا ،ایک بھائی جو چھوٹی دکان چلاتا ہے اس کے لیے تیس فیصد اور ایک بھائی جو  دکان میں وقت بھی نہیں دیتا اس کے لیے پچیس فیصد طے کیا ،مگر وہ بھائی کہتا ہے کہ مجھے برابر حصہ ملنا چاہیے۔

اب سوال یہ ہے کہ دکانیں اور گھر کس طرح تقسیم کئے جائیں اور بہنوں کو حصہ ملے گا یا نہیں؟ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  صورت مذکورہ میں چچوں کا بھتیجوں کو   دکان ، گھر اور کچھ سرمایہ دینا   شرعا ہبہ ہے ۔ دکان ، گھر    اورسرمایہ پانچ بندوں کو قبضہ کرانے سے  ہبہ درست ہوجائے گا  ،     چونکہ چچوں نے جائیداد  کا یہ حصہ تمام بھتیجیاں اور   بھتیجوں کو مشترک طور پر ہبہ کیا ہے، لہذا ہر ایک کو دکان ، گھر اور سرمایہ کی تقسیم کی صورت میں    برابر کا  حصہ دینا ضروری ہے  ،کسی ایک کے حصے میں اس کی رضامندی کے بغیر کمی کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (5/ 692):

«قوله: ولو سلمه شائعا إلخ) قال في الفتاوى الخيرية: ولا تفيد الملك في ظاهر الرواية قال الزيلعي: ولو سلمه شائعا لا يملكه حتى لا ينفد تصرفه فيه فيكون مضمونا عليه، وينفذ فيه تصرف الواهب ذكره الطحاوي وقاضي خان وروي عن ابن رستم مثله، وذكر عصام أنها تفيد الملك وبه أخذ بعض المشايخ اهـ.

 زاہد خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

          21 /ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب