| 87866 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
ہم کل چھے بہن بھائی ہیں اور ہمارے والدین وفات پا چکے ہیں ۔ہمیں وراثت میں ایک گھر ملا ہے جس کی قیمت ہم نے خود مقرر کی ہے اور وہ گھر ہمارے ایک بھائی نے رکھ لیا ہے۔ میرے حصے میں اٹھائیس لاکھ روپے آئے ہیں جس میں سے بائیس لاکھ روپے بھائی نے مجھے دے دیئے ، چھ لاکھ بقایاہیں۔بھائی کہتا ہے کہ جب میرا پلاٹ بکے گا تو پھر بقایا پیسے دوں گا۔ اب وہ پتہ نہیں کب بکے۔مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ زکاۃ کے لیے ان چھ لاکھ کو بھی شمار کیاجائے گایا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں آپ کے جو چھ لاکھ آپ کے بھائی کے ذمہ ہیں،ان پر زکاۃ واجب تو ہے ،لیکن فی الفور ادائیگی واجب نہیں۔ جب آپ ان پر قبضہ کرلیں گے تو حساب لگاکر گزشتہ سالوں سمیت ان کی زکاۃادا کرنی ہوگی۔تاہم بہتر یہی ہے کہ ابھی سے ہر سال ان چھ لاکھ کی زکاۃ ادا کرتے رہیں۔
حوالہ جات
وأما الدين الوسط فما وجب له بدلا عن مال ليس للتجارة كثمن عبد الخدمة، وثمن ثياب البذلة والمهنة وفيه روايتان عنه، ذكر في الأصل أنه تجب فيه الزكاة قبل القبض لكن لا يخاطب بالأداء ما لم يقبض مائتي درهم فإذا قبض مائتي درهم زكى لما مضى . ( بدائع الصنائع:2/10)
أما المتوسط ففيه روايتان :في رواية الأصل،تجب الزكاة فيه ولا يلزمه الأداء حتى يقبض مائتي درهم فيزكيها..والحاصل... فلو له ألف من دين متوسط مضى عليها حول ونصف فقبضها يزكيها عن الحول الماضي على رواية الأصل، فإذا مضى نصف حول بعد القبض زكاها أيضا.
(الدر المختار مع رد المحتار:2/305)
وفي المتوسط لا تجب ما لم يقبض نصابا وتعتبر لما مضى من الحول في صحيح الرواية، وفي الضعيف لا تجب ما لم يقبض نصابا ويحول الحول بعد القبض عليه. ( فتح القدير:2/167)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
5/محرم الحرام،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


