| 88276 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ہمارے علاقے میں یہ معمول ہے کہ جب کسانوں کی گندم کی فصل تیار ہوتی ہے تو وہ اسے قریبی دکان کو دےدیتے ہیں ،دوکاندار اس کو آگے فروخت کردیتا ہے،البتہ جب کسان کو نقد ی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو وہ دوکاندار سے اس موجودہ دن کے حساب سے قیمت وصول کر لیتا ہے۔اس معاملے سے دکاندار کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اسے گندم بلا معاوضہ زیادہ مقدار میں مل جاتی ہے، جبکہ کسان فصل کے وقت کم قیمت والی گندم دے کر بعد میں قیمت بڑھنے پر اس کی قیمت وصول کر لیتا ہے۔کیا یہ معاملہ شرعا درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مذکورہ معاملے کی فقہی تکییف بیع مؤجل(ادھار پر خرید و فروخت) کی ہے ،مگر اس کی یہ صورت شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ اس میں معاملہ کرتے وقت قیمت معلوم نہیں اور ادائیگی کا وقت بھی مقررنہیں ہے۔لہٰذا یہ معاملہ شرعاً فاسد اور ناجائز ہے،البتہ اس کی متبادل صورت یہ ہے کہ جب کسان دکاندار کو گندم دےتو اس وقت کسان قیمت کی ادائیگی کی ایک تاریخ پہلے سے طے کردے اور ساتھ ہی گندم کی قیمت میں جس قدر بڑھنے کا امکان ہو اس کے مطابق قیمت زیادہ مقرر کرد ے۔
حوالہ جات
المبسوط» للسرخسي (13/ 7):
وجهالة الثمن مفسدة للبيع.
بحوث في قضايا فقهية معاصرة» (ص12):
أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد.
عمار بن عبد الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
28 /محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عماربن عبدالحق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


