| 88508 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میرے شوہر نے اس سے پہلے مجھے ایک طلاقِ رجعی دی تھی۔ اس کے بعد بھی ہمارے درمیان جھگڑے جاری رہے۔ پھر ایک دن میرے گھر والوں نے ان سے طلاق کا مطالبہ کیا تو انہوں نے سب کے سامنے یہ تحریر لکھ کر دی کہ میں اپنے ہوش و حواس میں بنتِ احمد کو اس کی اپنی خوشی کے مطابق آزاد کرتا ہوں، اور سب سے معافی مانگتا ہوں کیونکہ سب کو تکلیف میں عرفان علی نے ڈالا ہے۔ آج سے بنتِ احمد میری طرف سے آزاد ہے۔یہ تحریر دینے کے بعد چار سال سے ہم دونوں الگ رہ رہے ہیں۔ ہاں، اس تحریر کے ایک ہفتے بعد میرے شوہر نے فون پر مجھ سے رجوع کیا تھا، لیکن اس کے بعد سے اب تک (چار سال) ہم الگ ہیں۔ انہوں نے نہ شراب نوشی چھوڑی اور نہ ہی میری اور میرے بچوں کی کوئی ذمہ داری اٹھائی۔ میری ساری ذمہ داری میرے والدین اور گھر والے اٹھا رہے ہیں۔اب میرا سوال یہ ہے:کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟میرے لیے عدت کا کیا حکم ہے؟براہِ کرم رہنمائی فرمائیں تاکہ میں اپنی آئندہ زندگی کا فیصلہ کر سکوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کردہ صورت میں آپ کے گھر والوں کی جانب سے طلاق کے مطالبے پر شوہر نے تحریری طور پر یہ الفاظ لکھے: "میری طرف سے آزاد ہو"۔ اس سے آپ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی۔ اور عدتِ طلاق بھی مکمل ہو چکی ہے۔ لہٰذا اب آپ کسی دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے۔
حوالہ جات
(الدر المختار :3/246)
(ويقع الطلاق بلفظ العتق بنية) أو دلالة حال، (لا عكسه)؛ لأن إزالة الملك أقوى من إزالة القيد.
(رد المحتار (10/495)
(قوله: ويقع الطلاق إلخ) يعني: إذا قال لامرأته: أعتقتك، تطلق إذا نوى أو دل عليه الحال.
(الدر المختار:3/296)
( كنايته [الطلاق]) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق، ( واحتمله وغيره. (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء، (إلا بنية أو دلالة الحال)، وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب. فالحالات ثلاث: رضا، وغضب، ومذاكرة، والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد، أو ما يصلح للسب، أو لا ولا ... ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال، والقول له. (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع، وإلا لا. (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو؛ لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية؛ لأنها أقوى، لكونها ظاهرة، والنية باطنة.
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
2ربیع الاول 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


