| 88551 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص کا والد فوت ہوا، اس کے بعد اس کی دادی کا انتقال ہوا، جبکہ جائیداد دادی کے نام تھی، سوال یہ ہے کیا اب یہ شخص یعنی پوتا اپنی دادی کی وراثت میں حصہ دار ہو گا؟ اگر یہ حق دار نہیں تو دیگر سب ورثاء مل کر اگر اس کو حصہ دینا چاہیں تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر دادی کے انتقال کے وقت اس کی نرینہ اولاد موجود تھی تو اس صورت میں یہ پوتا اپنی دادی کی وراثت میں سے کسی حصہ کا حق دار نہیں ہے، کیونکہ شریعت نے اصحاب الفرائض (جن کے وراثتی حصے شریعت نے مقرر فرما دیے ہیں)کے بعدوراثت کا مدار قربِ قرابت(رشتہ داری) پر رکھا ہے، یعنی جوشخص رشتہ داری میں زیادہ قریبی ہو گا وہی وفات پانے والے کی وراثت کا زیادہ حق دار ہو گا اور بیٹا چونکہ پوتے کی بنسبت زیادہ قریبی ہے اس لیے بیٹے کی موجودگی میں پوتا وراثت سے شرعاً محروم ہو گا۔
البتہ اگر عاقل بالغ ورثاء اپنی رضامندی سے پوتے کو اس کی مرحومہ دادی کی وراثت میں سے کچھ حصہ دینا چاہیں تو یہ ان ورثاء کی طرف سے ہبہ اور عطیہ شمار ہو گا، جس کا حکم یہ ہے کہ جب ان کی طرف سے یہ حصہ مالک اور قابض بنا کر اس پوتے یا اس کےنابالغ ہونے کی صورت میں اس کے ولی کےحوالےکر دیا جائے گا تو یہ پوتا اتنے حصے کا شرعاً مالک بن جائے گا۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (8/ 150) الناشر: دار طوق النجاة:
عن ابن عباس رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر»
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
24/ ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


