03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مستقرض(Borrower) کی ضمانت کی بنیاد پر مقرض(Lender)کے ساتھ شرکت الذمم کا حکم
88365شرکت کے مسائلمعاصر کمپنیوں کے مسائل

سوال

ہم ایک اسلامی مالیاتی ادارے میں تمویل و سرمایہ کاری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ بینک کسی بھی کاروبار کو تمویل کی سہولت رہن کی شرط کے ساتھ دیتا ہے۔ ایک محدود حد ( فی زمانہ ایک کروڑ )تک بغیررہن/ضمانت کے بھی تمویل کی جاسکتی ہے۔ بہر صورت بینک کو یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ وقت مقرر پر مستقرض /مدیون ادائیگی نہ کرے یا ڈیفالٹ(Default) کر جائے۔ اس خطرے کے پیش نظر بینک عموما بڑے تجارتی اور صنعتی اداروں کو تو قرضے فراہم کرتے ہیں جو مضبوط مالی ساکھ کے سبب معاشی اتار چڑھاؤ کو برداشت کرنے کی زیادہ سکت رکھتے ہیں اور عموما قرضے واپس کرنے کا بہتر ریکارڈ رکھتے ہیں مگر چھوٹے کاروباری ادارے  اس حوالے سے زیادہ خطرے کے حامل ہوتے ہیں چنانچہ بینک ان کو تمویل کی فراہمی میں محتاط روی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

بینکوں کی یہ محتاط روی کچھ کاروباری اداروں کے لئے تجارتی ضمانت کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہ ادارے ایک مخصوص رقم کے عوض بینکوں کو یہ ضمانت فراہم کرتے ہیں کہ مستقرض کی نادہندگی کی صورت میں وہ مقرض یعنی، بینک کو قرض کی رقم ادا کر دینگے۔ چونکہ یہ کریڈٹ انشورنس(Credit Insurance) کی صورت ہے جو بہ شکل ِتکافل تو درست ہے وگرنہ جائز نہیں۔ تاہم تکافل کے لیے جن شرائط ( وقف فنڈ کا قیام و غیرہ ) کو پورا کرنا ضروری ہے وہ ہر ضمانت دہندہ پوری نہیں کرسکتا۔اس تناظر میں ایک بڑا مالیاتی ادارہ جو عالمی ساکھ رکھتا ہے ،نےہم سے رابطہ کیا ہے اور یہ منصوبہ پیش کیا ہے کہ  وہ ہمارے ساتھRisk Sharingکرےگا۔

تفصیل کچھ یوں ہے کہ ادارہ کسی تمویل (جو کہ سو فیصد بینک نے کی ہوگی) کے حوالے سے بینک سے معاہدہ کر ے گا کہ اس کے نفع کا ایک مخصوص حصہ مثلاً بیس  فیصد ادارے کا ہوگا اور بقیہ بینک کا ہوگا۔ اس نفع میں شرکت کے بدلے ادارہ اس تمویل میں ہونے والے نقصان میں شریک ہوگا مثلاً نقصان کا پچاس فیصد برداشت کرے گا۔ ہمیں یہ صورت شرکت المال اور شرکت الذمم کےاجتماع کی نظر آتی ہے،بالکل اسی طرح جس طرح خدمات کے کاروبار میں شرکت الاعمال اور شرکت المال کے اجتماع کی صورت کو عصر حاضر کے علماء ضرورت کی بنیاد پر جائز قرار دیتے ہیں۔ شرکت مال اور شرکت ذمم کی ایک عملی صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ مثلاً یہ طے پایا کہ دونوں فریق ایک ایک لاکھ روپے مشترک کا روبار میں لگائیں گے لیکن ابھی تک دونوں نے اپنا سرمایہ ملایا نہیں تو اس دوران ایک شریک اگر اپنے ایک لاکھ روپے سے شرکت کے لئےکوئی سامان خرید لے تو وہ سامان دونوں کا مشترک سمجھا جائے گا۔ چنانچہ نفع اور نقصان  دونوں میں فریقین (شرکاء) شریک ہونگے ( حوالہ: شرکت و مضاربت عصر حاضر میں: مولانامحمدعمران اشرف عثمانی) ۔اگر غور کیا جائے کہ نفع کی صورت میں وہ شریک کیسے  منافع میں شرکت کر سکتا ہے جس نے ابھی مال ملایا ہی نہیں، تو جواب یہی ہوگا کہ اس نے نقصان کی صورت میں اپنے حصے کے بقدر نقصان اٹھانا تھا۔ یعنی اسکے ذمے نقصان کا تحمل بقدرحصہ ہوتا۔

اب ہم اپنی بیان کر وہ صورت یعنی شرکت المال اور شرکت الذمم کے اجتماع کا موازنہ ضمانت اور انشورنس سے کرتے ہیں۔انشورنس سے تو یہ صورت اس طرح ممیز ہے کہ انشورنس میں نقصان میں شرکت نہیں ہوتی بلکہ پریمیم (Premium)کے عوض انشورر(Insurer) نقصان کی صورت میں ازالہ نقصان کرتا ہے ۔یہاں نقصان کی صورت میں دونوں فریق شریک ہیں اور نفع کی صورت میں بھی دونوں شریک ہیں۔ یعنی نفع کی صورت میں دونوں کا نفع ہے اور نقصان کی صورت میں دونوں کا نقصان ہے۔ یہ صورت جوہری طور پر شرکۃ کے مشابہ ہے نہ کہ انشورنس کے۔

ضمانت سے یہ صورت اس طرح یکسر مختلف ہے کہ ضمانت عموما مستقرض یا مدیون فراہم کرتا ہے۔ ضامن مستقرض سے سروس چارجز لیتا ہے۔ اب چاہے نقصان ہو یا نہ ہوضامن کو سروس چارجز لازمی ملتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ ضمانت پر اجرت  کی ممانعت کی علت یہاں نہیں پائی جاتی۔ ضمانت پر اجرت اس لیے ممنوع ہےکہ یہ ممکنہ قرض پر انتفاع ہے۔ یہاں مدیون شریک بالذمم کو کوئی نفع نہیں دے رہا۔ اگر یہ کہا جائے کہ قرض یادین پر نفع کے لئے لازم نہیں کے مستقرض یا مدیون کی طرف سے ہو، تو جواب یہ ہے کہ یہاں نفع کا روبار میں شرکت اور تحمل الخسائر کے عوض ہے جو شرکت کی روح ہے نہ کہ ضمانت کے عوض۔

آپ سے گزارش ہے کہ مذکورہ مسئلہ پر ہماری رہنمائی فرمائیں اور اسکے جواز یا عدم جواز کی صراحت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ  میں مذکورہ کمپنی جس ذمہ داری کی بناء پر  نفع میں شرکت کی حق دار ہو رہی ہے وہ  شرکت الذمم کے مثل نہیں ہے،بلکہ وہ ضمان تحمل الخسران یعنی خسارہ اور نقصان اٹھانے کی  ضمانت ہے اور وہ جائز نہیں ہے،لہٰذا صورت مسئولہ پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔

      سوال میں مذکور   دیگر استفسارات  اور مثالوں کے جوابات درج ذیل ہیں:

  1. صورت مسئولہ اورسوال میں ذکر کردہ انسورنش(Insurance) اور ضمانت (Guarantee) کی صوررتوں سے تو فرق واضح ہے، لیکن   جو بات در اصل محلِ نظر ہے وہ  یہ ہے کہ  مذکورہ کمپنی کو نفع میں استحقاق کس بنیاد پر حاصل ہو رہا ہے۔یقینا  یہ ادارہ محض نقصان کی ذمے داری(تحمل الخسارۃ) کی بنیاد پرنفع میں شریک ہو رہا ہے،جو کہ جائز نہیں۔(تفصیل آئندہ اجزاء میں)
  2. حضرات فقہائے کرامؒ  کی عبارات سے تین صورتوں کے ذریعے   استرباح یعنی نفع کمانے کی اجازت ملتی ہے؛مال،عمل اور ضمان۔مذکورہ صورت کی تکییف پہلی دو صورتوں پر تو نہیں ہوسکتی البتہ تیسری صورت  جو کہ ضمان کی بنیاد پر نفع کمانے کی ہے ،اس پر بھی اس کی تکییف کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے، کیوں  کہ ضمان  کی بنیاد پر استرباح یعنی نفع کمانے سے  حضرات فقہاء کرام کے یہاں مطلقا ضمان مقصود نہیں ہے ،بلکہ  ضمان المال و العمل  مقصود ہے۔چناں چہ  شرکت الذمم میں ہر شریک کاروبار کے لئے اس طرح مال کا ضامن بنتا ہے کہ کاروبار کے اثاثوں  کی ملکیت میں وہ بہر حال اپنے ضمان کی حد تک شریک ہوتا ہے اور شرکت الاعمال میں  ہر شریک لئے ہوئے کاموں میں اپنے ضمان کی حد تک عمل کا بہر حال ذمہ دار ہوتا ہے۔
  3. اگر محض ضمان کی بنیاد پر استرباح  یعنی نفع کمانے کو جائز قرار دے دیاجائے تو عصر حاضر کے کئی ناجائز معاملات جائز ہوجائیں گے۔مثلا عقد کفالت میں بھی ضمان کی بنیاد پر  اجرت جائز ہوجائے گی۔تکافل کےاداروں کے بہت سے  مسائل حل ہوجائیں گے۔یہاں یہ بھی واضح رہے کہ ضمانت پر اجرت مطلقا ممنوع ہے ،البتہ جو وجہ ’ممکنہ قرض پر ضمانت ‘کی سوال میں مذکور ہے ،وہ بھی ایک وجہ  ممانعت ہے۔
  4. بنیادی طور پرمذکورہ صورت  شرکت الذمم  سے مشابہت نہیں رکھتی۔شرکت الذمم میں  جو ضمان ہوتا ہے وہ در اصل ملک پر متفرع ہوتا ہے ،جبکہ صورت مسئولہ میں ضمان بغیر کسی ملک کے متصور کیا جا رہا ہے۔
  5. جہاں تک  کتاب’’شرکت و مضاربت عصر حاضر میں‘‘ کی  مذکورہ  مثال کی بات ہے تو اس کا مدار اس پر ہے کہ شرکت الاموال کا عقد ہونا کافی ہے اموال میں خلط ضروری نہیں۔لہٰذا یہ مثال صورت مسئولہ کے جواز میں مؤید نہیں ہوسکتی۔اسی کی ایک مشابہ صورت ذیل میں پیش کی جاتی ہے۔

مولانا عمران اشرف صاحب عثمانی اپنی کتاب’’شرکت و مضاربت عصر حاضر میں‘‘   :ص:257تا261  پررقم طراز ہیں:

کیا سرمائے کا مخلوط ہونا ضروری ہے؟

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کچھ افراد کسی کاروبار میں شرکت کرنا چاہتے ہوں تو کیا ان کے سرمائے کا مخلوط ہوتا ضروری ہے ؟ مثال کے طور پر اگر زید اور بکر یہ معاہدہ کریں کہ ہم دونوں ایک ایک ہز از روپے سے کپڑے کے کاروبار میں شرکت کرتے ہیں، پھر دونوں نے اپنے اپنے ہزار روپے اکٹھے نہیں کئے بلکہ زید کے پیسے زید کے پاس اور بکر کے پیسے بکر کے پاس رہے، پھر زید نے ایک ہز راروپے سے کپڑا خریدا، تو کیا وہ کپڑازید کا سمجھا جائے گا، یازید اور بکر دونوں کا سمجھا جائے گا، چنانچہ اگر اس کو آگے فروخت کیا تو اس سے جو نفع یا نقصان ہو گا وہ صرف زید کا ہوگا، یا بکر بھی اس میں حصہ دار ہو گا؟ اس مسئلہ کے جواب سے پیشتر یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا مذ کورہ بالا صورت میں زید اور بکر کے سرمایہ کے مخلوط ہوئے بغیر شرکت وجود میں آگئی تھی یا نہیں ؟ اگر شرکت صحیح ہو گئی تو نفع نقصان دونوں کا ہوگا، ورنہ صرف زید کا نقصان ہو گا، لہذا مسئلہ کا مدار اس پر ہوا کہ کیا شرکت کے انعقاد اور صحیح ہونے کے لئے سرمایہ کا مخلوط ہونا ضروری ہے یا نہیں ؟ ...اسکے بر عکس اگر ائمہ ثلاثہ کے مذہب کے مطابق شرکت کی صحت کے لئے سرمایہ کو مخلوط کرنا ضروری نہ سمجھا جائے تو اس صورت میں اگر چہ سرمایہ بعد میں فراہم کیا گیا، لیکن شرکت ابتدائے عقدہی سے وقوع پذیر ہو گئی، اور پھر اس صورت میں اس سامان کی ذمہ داری تمام کمپنیوں پر عائد ہو گی، لہذا تباہی کی صورت میں سامان کا سارا نقصان تمام کمپنیوں کوبرداشت کرنا ہو گا، لہذا اگر شرکت کی صحت کے لئے سرمایہ کو مخلوط کرنا لازمی قرار نہ دیا جائے تو دو اہم فائدے حاصل ہوتے ہیں...۔

حوالہ جات

البناية شرح الهداية (8/ 462):

«: (ثم قيل هذا ضمان) ش: أي قوله أن يتعين عليه ضمان م: (لما يخسر المشتري نظرا) ش: أي بالنظر م: (إلى قوله علي) ش: بالتشديد، لأن كلمة علي تعني الالتزام م: (وهو فاسد) ش: أي ‌الضمان ‌بالخسران فاسد، لأن الخسران ليس بمضمون على أحد لأن الكفالة والضمان إنما يصح بما هو مضمون فلا يصح ضمانه.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 326):

لأنه إما ضمان الخسران أو توكيل بمجهول وذلك باطل.

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 94):

قال: "ومن كفل عن رجل بألف عليه بأمره فأمره الأصيل أن يتعين عليه حريرا ففعل فالشراء للكفيل والربح الذي ربحه البائع فهو عليه" ومعناه الأمر ببيع العينة مثل أن يستقرض من تاجر عشرة فيتأبى عليه ويبيع منه ثوبا يساوي عشرة بخمسة عشر مثلا رغبة في نيل الزيادة ليبيعه المستقرض بعشرة ويتحمل عليه خمسة؛ سمي به لما فيه من الإعراض عن الدين إلى العين، وهو مكروه لما فيه من الإعراض عن مبرة الإقراض مطاوعة لمذموم البخل. ثم قيل: هذا ‌ضمان لما يخسر المشتري نظرا إلى قوله علي وهو فاسد .

)تبیین الحقائق 318/2):

ولأن الربح يستحق بأحد ثلاثة أمور بالمال والعمل والضمان.

شرح مختصر الطحاوي   للجصاص (3/ 228):

قال أحمد: الأصل في جواز الكفالة قول النبي صلى الله عليه وسلم: "‌الزعيم ‌غارم"، والزعيم الكفيل.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 93):

‌الكفالة تنعقد تبرعا حتى لا تصح إلا ممن هو أهل التبرع.

فقہ البیوع(1074/02):

والحالة الثانية ألا يقدم المكفول عنه مبلغ الكفالة إلى البنك، ففي هذه الحالة هو ضمان محض لا يجوز أخذ الأجرة عليه، إلا التكاليف الفعلية لإصدار خطاب الضمان ونص القرار ما يأتی... ولذلك فإن المجمع قرر ما يلي:أولاً: أن خطاب الضمان لا يجوز أخذ الأجر عليه لقاء عملية الضمان والتي يُراعى فيها عادةً مبلغ الضمان ومدته)، سواء أكان بغطاء أم بدونه.

ثانياً: أما النفقات الإدارية لإصدار خطاب الضمان بنوعيه فجائزة شرعاً، مع مراعاة عدم الزيادة على أجر المثل، وفي حالة تقديم غطاء كلي أو جزئي، يجوز أن يُراعى في تقدير النفقات لإصدار خطاب الضمان ما قد تتطلبه المهمة الفعلية لأداء ذلك الغطاء، والله أعلم.

وحاصل هذا القرار: أن خطاب الضمان بدون غطاء لا يجوز أخذ العمولة عليه، ويجوز تقاضي النفقات الفعلية.

)المعاییر الشرعیۃ: 328)

٤/٢/١/٣ لا يجوز أن تكون الديون وحدها حصة في رأس مال الشركة إلا في الحالات التي تكون فيها الديون تابعة لغيرها مما يصح جعله رأس مال للشركة مثل تقديم مصنع رأس مال للشركة بما له وما عليه.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 57):

(وأما) الشركة بالوجوه: فهو أن يشتركا وليس لهما مال، لكن لهما وجاهة عند الناس فيقولا: اشتركنا على أن نشتري بالنسيئة، ونبيع بالنقد، على أن ما رزق الله سبحانه وتعالى من ربح فهو بيننا على شرط كذا.

وسمي هذا النوع شركة الوجوه؛ لأنه لا يباع بالنسيئة إلا الوجيه من الناس عادة أنه سمي بذلك؛ لأن كل واحد منهما يواجه صاحبه ينتظران من يبيعها بالنسيئة ويدخل في كل واحد من الأنواع الثلاثة: العنان والمفاوضة ويفصل بينهما بشرائط تختص بالمفاوضة نذكرها في موضعها إن شاء الله تعالى.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 65):

(وأما) الشركة بالوجوه... شركة العنان منها فلا يشترط لها أهلية الكفالة ولا المساواة بينهما في ملك المشترى حتى لو اشتركا بوجوههما على أن يكون ما اشتريا أو أحدهما بينهما نصفين أو أثلاثا أو أرباعا وكيف ما شرطا على التساوي والتفاضل؛ كان جائزا، وضمان ثمن المشترى بينهما على قدر ملكيهما في المشترى والربح بينهما على قدر الضمان، فإن شرطا لأحدهما فضل ربح على حصته من الضمان فالشرط باطل، ويكون الربح بينهما على قدر ضمانهما ثمن المشترى، لأن الربح في هذه الشركة إنما يستحق بالضمان فيتقدر بقدر الضمان، فإذا شرط لأحدهما أكثر من حصته من الضمان ونصيبه من الملك فهو شرط ملك من غير ربح، ولا ضمان فلا يجوز، فإن قيل: الربح كما يستحق بالملك والضمان يستحق بالعمل فجاز أن يستحق زيادة الربح بزيادة العمل كالمضارب والشريك شركة العنان، فالجواب أن هذا مسلم إذا كان العمل في مال معلوم كما في المضاربة وشركة العنان، ولم يوجد هنا، فلا يستحق كمن قال لآخر: أدفع إليك ألفا مضاربة على أن تعمل فيها بالنصف ولم يعين الألف؛ أنه لا تجوز المضاربة؛ لأنه لم يشترط العمل في مال معين.

حماد الدین قریشی عفی عنہ

دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

16/صفر المظفر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب