03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گواہوں کے بغیرمحض دعوی سےحرمت رضاعت کا حکم
88479رضاعت کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

زبیدہ نامی خاتون نے اپنی بھانجی صائمہ کو پیدائش کے پہلے اور دوسرے دن دودھ پلایا، لیکن اس کا چشم دید گواہ کوئی نہیں اور صائمہ کے والدین وفات پاچکے ہیں پھر اسی صائمہ کی منگنی زبیدہ کے بیٹے سے کچھ عرصہ تک قائم رہی، بعد میں چند وجوہات کی بنا پر منگنی ٹوٹ گئی اور کچھ دن بعد زبیدہ خاتون کو ٹیلی ویژن کے ذریعے معلوم ہوا کہ رضاعت سے حرمت بھی ثابت ہوتی ہے، پھر اس نے صائمہ کے بھائی بہن خاوند چند عورتوں کو اطلاع دی میں نے صائمہ کو دودھ پلایا تھا اور اس سے حرمت بھی ثابت ہوتی ہے۔ اب اس زبیدہ کے داماد نے اس کی رضاعی بیٹی سے عقد نکاح کیا، زبیدہ کہتی ہے ،یہ آپ کی بیوی کی رضاعی بہن ہے ،لیکن وہ رضاعت کو تسلیم نہیں کرتے ،وجہ یہ بیان کرتے ہیں:

ا۔ چشم دید گواہ کوئی نہیں۔

۲۔ جب آپ کے بیٹے سے منگنی ہوئی تھی اس وقت رضاعت یاد نہیں تھی، لیکن زبیدہ خاتون کہتی ہیں رضا عت یاد تھی، حرمت کا علم نہیں تھا، اسی لیے میں ذکر نہ کر سکی

٣۔ وجہ آپ اس وقت آٹھ ماہ کی حاملہ تھی اور حمل کے دورانیہ میں  دودھ نہیں ہوتا لیکن وہ حلفاً کلمہ طیبہ پڑھ کر کہتی ہیں ،دودھ تھا، میں نے پلایا ہے گائنی کی ڈاکٹر سے رجوع کیا ،وہ بھی کہتے ہے ممکن ہے، دودھ ہوتا ہے۔ اب ایسی صورت میں رضاعت ثابت ہو گی یا نہیں۔؟ اگر رضاعت ثابت ہے تو زبیدہ کے داماد کا اپنی بیوی کی رضاعی بہن سے نکاح کا کیا حکم ہے؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مدت رضاعت میں بچہ کو دودھ پلانے سےدیانۃ یعنی عند اللہ رضاعت ثابت ہو جاتی ہے، خواہ موقع پر گواہ موجود ہوں یا نہ ہوں۔ البتہ اگر رضاعت کے ثبوت کا انکار کیا جائے ،تو حرمت رضاعت ثابت ہونے کے لیے شرعی شہادت یعنی دو عاقل بالغ دیندار مرد،یا ایک عاقل بالغ دیندار مرد اور دو عاقلہ بالغہ دیندار عورتوں کی گواہی کا ہونا ضروری ہے۔ صرف ایک عورت یا ایک سے زائد عورتوں کی گواہی کا فی نہیں ہے۔ البتہ اگر دودھ پلانے والی عورت نیک اور پر ہیز گار ہو، اور اس کی بات کے صحیح ہونے کا یقین یا غالب گمان ہو تو پھر احتیاط ضروری ہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ زبیدہ خاتون کے پاس اپنی بھانجی صائمہ کو دودھ پلانے پر دو گواہ موجود نہیں ہیں، اور صائمہ کا شوہر دودھ پلانے کو تسلیم نہیں کرتا، تو تنہا زبیدہ خاتون کے کہنے سے حرمت ثابت نہیں ہو گی۔ تاہم چونکہ معاملہ حلال و حرام کا ہے ، اس لیے اگر زبیدہ خاتون کی بات درست ہونے پر دل گواہی دے رہا ہو اور یہ اطمینان ہو کہ وہ غلط بیانی سے کام نہیں لے رہی ہے ، بلکہ خوف خدا کے تحت یہ بات کہہ رہی ہے، تو ایسی حالت میں احتیاط یہ ہے کہ صائمہ کا شوہر زبان سے ایک طلاق دے کراسے اپنے نکاح سے علیحدہ کر دے ؛تا کہ دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کا احتمال نہ رہے۔

حوالہ جات

(وأما الجمع بين ذوات الأرحام) فإنه لا يجمع بين أختين بنكاح ولا بوطء بملك يمين سواء كانتا أختين من النسب أو من الرضاع هكذا في السراج الوهاج.(الفتاوى الهندية:277/1)

(سئل) في شهادة النساء وحدهن على الرضاع هل تقبل؟ (الجواب) : حجة الرضاع حجة المال وهو شهادة عدلين أو عدل وعدلتين ولا يثبت بشهادة النساء وحدهن لكن إن وقع في قلبه صدق المخبر ترك قبل العقد أو بعده كما في البزازية. (أقول) : أي ترك احتياطا وذكر في البحر عن الكافي والنهاية أنه لا يثبت بخبر الواحد ولو رجلا قبل العقد أو بعده ثم ذكر عن محرمات الخانية أنه لو أخبر عدل ثقة يؤخذ بقوله ولا يجوز النكاح وإن أخبر بعد النكاح فالأحوط أن يفارقها. (العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 35)

ولا يجوز شهادة امرأة واحدة على الرضاع أجنبية كانت أو أم أحد الزوجين ولا يفرق بينهما بقولها ويسعه المقام معها حتى يشهد على ذلك رجلان أو رجل وامرأتان عدول وهذا عندنا.

(المبسوط للسرخسي:250/5)

انس رشید ولد ہارون رشید

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

3/ربیع الاول 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

انس رشید ولد ہارون رشید

مفتیان

فیصل احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب