03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا حضرت معاویہ نے شہداء احد کی قبروں کو کھودکر لاشوں کو منتقل کرنے کا بے رحمانہ حکم دیا تھا؟
88721ایمان وعقائداسلامی فرقوں کابیان

سوال

 (انیسویں روایت پیش کرتے ہوئے کہا کہ) حضرت معاویہ نے سن پچاس میں حج سے واپسی پر مدینہ میں شہداء احد کی قبروں کو کھودنے اور لاشوں کو منتقل کرنے کا آرڈر دیا، اور ایک مزدور کاپھاؤڑا حضرت حمزہ کے پیر پر پڑا جس سے خون جاری ہوگیا، اور مدینہ والوں سےکھاگیا کہ وہ اپنے مردوں کی لاشیں یہاں سے ہٹائیں۔محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں اس کا ذکرکیا،امام عبدالرزاق صنعانی نے اپنی مصنف میں  اور امام ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں،امام ابن سعد نے طبقات میں ذکر کیا،امام ابن جوزی نے صفۃ الصفوۃ میں، امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں ذکر کیاج1،ص326۔سؤال کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جواب سے پہلےمصنف  عبد الرزاق کی روایت ملاھظہ ہو، تاکہ جواب سمجھنے میں  آسانی ہو۔

المصنف-الصنعاني - (ج 14 / ص 37):

عبد الرزاق عن ابن عيينة عن أبي الزبير قال : سمعت جابر بن عبدالله يقول : لما أراد معاوية أن يجري الكظامة ، قال : من كان له قتيل فليأت قتيله ، يعني قتلى أحد ، قال : فأخرجهم رطابا يتثنون ،قال : فأصابت المسحاة رجل رجل منهم ، فانفطرت دما ، قال : فقال أبوسعيد : لا ينكر بعد هذا منكر أبدا . ]

 اس واقعہ سے  حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ پر یہ اعتراض  پیش کیا جاتا ہے کہ  حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ عمل جان بوجھ کر کیا تاکہ جنگ  احد کے موقع پر  حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ  کےقبل از اسلام مسلمانوں پر ظلم کے نشانات  اور یدگار  مٹائے جاسکیں  اور اس  موقع پر   حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاؤں پر پھاؤڑا بھی جان بوجھ کر مارا گیا تھا۔لیکن یہ تمام باتیں خلاف حقیقت اور تعصب پر مبنی ہیں:جس کی درج ذیل وجوہ ہیں:

پہلی بات  یہ ہے کہ اس بارے میں جتنی روایات منقول میں ان میں سے کسی ایک میں بھی  اس  کا شارہ تک نہیں کہ یہ کام مردوں اور شہداء کی توہین یا بے ادبی کے ساتھ کیا گیا ،بلکہ  تقریبا تمام روایات میں اس کی تصریح ہے کہ  کھدائی سے قبل  باقاعدہ اعلان کروایا گیا کہ جن  کا کوئی رشتہ دار یا قریب اس جگہ مدفون ہو تو وہ انہیں یہاں سے لے جانے کے لیے حاضر ہوں، گو یا میت کے اولیاء اور ورثہ کو اس عمل میں باقاعدہ شامل کیا گیا۔

دوسری بات یہ کہ اس موقع پرصحابہ کرام میں سے کسی بھی ایک  شخصیت   یا شہداء میں سے کسی ایک کے اولیاء  یا ورثہ کی طرف سے بھی اس بارے میں کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا کہ یہ عمل کیوں کیا جارہا ہے؟ یا اس  عمل کے منفی مقاصد کا اظہار کیا ہو۔چنانچہ اس روایت کے راوی حضرت جابر  بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے والد کی  نعش بھی اس جگہ مدفون تھی ،لیکن ان کی طرف سے  کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔

تیسری بات یہ کہ   تمام  روایات میں اس کی تصریح ہے کہ یہ کام مجبوری میں کیا گیا ،چنانچہ  کظامہ   نامی ایک نہر کے کھدوانے کی ضرورت سے یہ عمل مجبور  ی میں کیا گیا،جس کے راستہ کے کھدائی  کے درمیان یہ قبریں آرہی تھیں اور بعض روایات میں  کام کرنے والےمزدوروں نے کہا تھا کہ ان قبروں کی کھدائی  ضروری  ہے اور اسکے بغیر  متبادل  ممکن نہیں۔

چوتھی بات یہ کہ یہ سارا عمل  مکمل انسانی   و اسلامی ادب اور احترام کی رعایت رکھتے ہوئے، عمل میں لایا گیا ،چنانچہ شہداء کے اجساد کو ان  کےمتعلقین اور لواحقین نے خود منتقل کیا  تاکہ کسی کو کوئی اعتراض نہ رہے  اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاؤں پر بیلچہ یا پھاؤڑا  لگنے سے خون نکلنے کا واقعہ بھی  روایات میں جس انداز سے ذکر ہے (کہ بیلچہ کسی مرد ے کے پاؤں کی انگلی پر لگا تو اس سے خون بہنے لگا۔) اس (یعنی انگلی پر لگنے)سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ  یہ ایک اتفاقی  غلطی  سے ہونے والا واقعہ تھا۔جان بوجھ کر زخمی کرنے کی صورت میں انگلی کے بجائے پاؤں کٹنے  یا زخمی ہونے کا ذکر ہوتا ۔لہذا متعلقہ اسکالر کا اس کو غلط انداز میں پیش کرنا یقینا ایک علمی خیانت اور تلبیس ابلیس ہے۔

واضح رہے کہ کھدائی کے بعد مردے کہاں دفن کئے گئے ؟اس کی  تفصیل کسی کتاب میں نہیں ملی ،لیکن یہ بات یقینی ہے کہ ان کو اس  علاقے میں کسی  قریبی جگہ دفن کیا گیا ہے،جیساکہ فحولا إلى مكان آخر، سے اشارہ ملتا ہے۔ لہذا جس جگہ اب شہداء احد مدفون  ہیں یہ ان کی دفن کی اصل جگہ نہیں۔

اس روایت کو البدایہ والنھایہ  میں علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی  نے تفصیل سے روایت کیا ہے،نیزروایات کےدیگرمتون بھی ملاحظہ ہوں۔

حوالہ جات

الجهاد لعبدالله المبارك - (ج 1 / ص 106):

حدثنا محمد قال حدثنا بن رحمة قال سمعت بن المبارك عن سفيان  بن عيينة قال حدثني أبو الزبير عن جابر بن عبد الله قال لما أراد معاوية أن يجري الكظامة قال قيل من كان له قتيل فليأت قتيله يعني قتلى أحد قال فأخرجناهم رطابا يتثنون قال فأصابت المسحاة أصبع رجل منهم فانفطرت دما قال أبو سعيد الخدري ولا ينكر بعد هذا منكر أبدا

عيون الأخبار لعبدالله الدينوري - (ج 1 / ص 430):

عن جابر في عين أبي زياد التي حفرها معاوية حدثني محمد بن عبيد قال: حدثنا سُفيان بن عُيَينة عن أبي الربير عن جابر قال: لما أراد معاوية أن تَجرِيَ العينُ التي حفرها - قال سفيان: تُسفَى عينَ أبي زياد - نادوْا بالمدينة: من كان له قتيل فليأتِ قتيلَه. قال جابر: فأتيناهم فأخرجناهم رِطَباً يتثَنون، وأصابت المِسحَاة رِجْلَ رجلٍ منهم فانفَطَرتْ دماً. قال أبو سعيد الخدري: لا يُنكِرُ بعدَ هذا مُنكِر أبداً.

سير أعلام النبلاء للذهبي - (ج 1 / ص 326):

قال جابر: فرأيت أبي في حفرته، كأنه نائم، وما تغير من حاله شئ، وبين ذلك ست وأربعون سنة، فحولا إلى مكان آخر، وأخرجوا رطابا يتثنون .

أبو الزبير: عن جابر قال: صرخ بنا إلى قتلانا، حين أجرى معاوية العين، فاخرجناهم لينة أجسادهم، تتثنى أطرافهم .

ابن أبي نجيح: عن عطاء، عن جابر قال: دفن رجل مع أبي، فلم تطب نفسي، حتى أخرجته، ودفنته وحده

سير أعلام النبلاء للذهبي - (ج 3 / ص 190):

وقد انكشف عنه قبره إذ أجرى معاوية عينا عند قبور شهداء أحد، فبادر جابر إلى أبيه بعد دهر، فوجده طريا لم يبل .وكان جابر قد أطاع أباه يوم أحد وقعد لاجل أخواته، ثم شهد الخندق وبيعة الشجرة.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

29 ربیع الاول1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب