03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مجبوری کی حالت میں سودی قرض لینے کا حکم
88964سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اگر کوئی شخص ایزی پیسہ سے مجبوراً لون لے اور واپسی پر وہ اضافی رقم لیتے ہیں اس بارے میں پوچھنا یہ تھا کہ کیا  اس میں لینے والا بھی گناہ گار ہو گاَ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایزی پیسہ میں قرض لینے کا مطلب ہے  کہ  ایک آدمی  کو اس شرط پر قرض دیا جاتا ہے کہ  واپسی پر اس سے اضافی رقم وصول کی جاۓ گی ۔یہ سود   میں آتا ہے ،اور سود پر قرض    لینا جائز نہیں ہے،اگرچہ بظاہر مجبوری ہی کیوں نہ ہو  ۔ قرآن وحدیث  میں اس کی  شدید ممانعت آئی ہے ۔ سودی معاملہ کرنے والوں پر  اللہ  تعالی اور  اس کے رسول ﷺنے لعنت فر مائی ہے ۔   سود  لینے  والا اور دینے والا دونوں  گناہ گار ہیں ؛اس سے اجتناب کرنا لازم ہے ۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی:

﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ﴾ 

(صحيح مسلم كتاب المساقاة       الرقم : 1598)

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء".

حنبل اکرم

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

       16/جمادی الاولی ٰ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب