| 88821 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
مجھے عدالت سےخلع مل گئی، اور میرے شوہر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، حالانکہ ان کو سب نوٹس جاتے رہے۔ میں نے بھی کئی باران سے التجا کی کہ عدالت میں آ کر اپنا حق مہر لے جائیں، لیکن وہ نہیں آئے۔پھر کچھ مدت بعد انہوں نے رابطہ کیا کہ اب تم کیا چاہتی ہو؟میں نے کہا کہ "وہی جو عدالت نے فیصلہ کیا"، تو اب انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے اور حق مہر لینے پر راضی ہوگئے۔ نیز ان کے گھر والے حقِ مہر لے گئے۔
کیا اب شرعا خلع ہو گئی ہے یا نہیں؟ نیز میرے لیے رشتے آرہے ہیں، تو کیا اس صورت میں دوسری جگہ نکاح جائز ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعا خلع ہوگئی ۔ جس دن آپ کےشوہر نےخلع قبول کی اس دن سے آپ کی عدت شروع ہوگی۔ عدت (3حیض)گزارنےکےبعد دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔
حوالہ جات
سورۃ البقرۃ:(229)
"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افتَدَتْ بِهِ..."
الهداية (2/261):
" وإذا تشاقَّ الزوجان، وخافا أن لا يُقيما حدودَ الله، فلا بأس بأن تفتديَ نفسها منه بمالٍ يخلعها به؛ لقوله تعالى: {فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتدَتْ بِهِ} [البقرة: 229].فإذا فعلا ذلك، وقع بالخلع تطليقةٌ بائنةٌ، ولزمها المال؛ لقوله عليه الصلاة والسلام:الخلع تطليقة بائنة.ولأنه يحتمل الطلاق حتى صار من الكنايات، والواقع بالكنايات بائنٌ، إلا أن ذكر المال أغنى عن النية هنا، ولأنها لا تُسلِّم المال إلا لتَسلَمَ لها نفسها، وذلك بالبينونة."
المحيط البرهاني: (61/5)
"وإذا سالت المرأه من زوجها أن يخلعها...فإن قالت له اخلعني على كذا، وسمت له الف درهم مثلا، ففي
هذا الوجه اذا خلعها على ذلك، فالخلع يتم بقول الزوج...."
محمدشاہ جلال
دار الافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
05 /جماد الاولی/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


