03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلع کے احکام
88821طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

      مجھے عدالت سےخلع مل گئی، اور میرے شوہر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، حالانکہ ان کو سب نوٹس جاتے رہے۔ میں نے بھی کئی باران سے التجا کی کہ عدالت میں آ کر اپنا حق مہر لے جائیں، لیکن وہ نہیں آئے۔پھر کچھ مدت بعد انہوں نے رابطہ کیا کہ اب تم کیا چاہتی ہو؟میں نے کہا کہ "وہی جو عدالت نے فیصلہ کیا"، تو اب انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے اور حق مہر لینے پر راضی ہوگئے۔ نیز ان کے گھر والے حقِ مہر لے گئے۔

کیا اب شرعا خلع ہو گئی ہے یا نہیں؟ نیز میرے لیے رشتے آرہے ہیں، تو کیا اس صورت میں دوسری جگہ نکاح جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   شرعا خلع ہوگئی ۔ جس دن آپ کےشوہر نےخلع قبول کی اس دن سے آپ کی عدت شروع ہوگی۔ عدت (3حیض)گزارنےکےبعد دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔

حوالہ جات

سورۃ البقرۃ:(229)

  "فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افتَدَتْ بِهِ..."

الهداية (2/261):
وإذا تشاقَّ الزوجان، وخافا أن لا يُقيما حدودَ الله، فلا بأس بأن تفتديَ نفسها منه بمالٍ يخلعها به؛ لقوله تعالى: {فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتدَتْ بِهِ} [البقرة: 229].فإذا فعلا ذلك، وقع بالخلع تطليقةٌ بائنةٌ، ولزمها المال؛ لقوله عليه الصلاة والسلام:الخلع تطليقة بائنة.ولأنه يحتمل الطلاق حتى صار من الكنايات، والواقع بالكنايات بائنٌ، إلا أن ذكر المال أغنى عن النية هنا، ولأنها لا تُسلِّم المال إلا لتَسلَمَ لها نفسها، وذلك بالبينونة."

 المحيط البرهاني:    (61/5)
  "وإذا سالت المرأه من زوجها أن يخلعها...فإن قالت له اخلعني على كذا، وسمت له الف درهم مثلا، ففي

 هذا الوجه اذا خلعها على ذلك، فالخلع يتم بقول الزوج...."

محمدشاہ جلال

  دار الافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

05 /جماد الاولی/1447ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب