| 88603 | روزے کا بیان | رمضان کا چاند دیکھنے اور اختلاف مطالع کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ یومِ عرفہ کے روزے کے متعلق بعض لوگ سعودی عرب کے مطابق روزہ رکھتے ہیں، حالانکہ پاکستان میں اس دن 8 ذوالحجہ ہوتی ہے؟ تو کیا عرفہ کا روزہ سعودی عرب کے مطابق رکھنا درست ہے، یا ہر ملک کو اپنی مقامی تاریخ کے مطابق 9 ذوالحجہ کو روزہ رکھنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یومِ عرفہ اسلامی تقویم کے مطابق 9 ذوالحجہ کو کہا جاتا ہے، اور اسلامی مہینوں کی تعیین چاند دیکھنے (رؤیت ہلال) پر موقوف ہوتی ہے۔ رؤیت ہر ملک میں الگ الگ ہو سکتی ہے؛ چنانچہ ضروری نہیں کہ تمام دنیا میں ایک ہی دن 9 ذوالحجہ ہو۔لہٰذا عرفہ کا روزہ ہر ملک میں اس کی مقامی رؤیت کے اعتبار سے 9 ذوالحجہ کو رکھنا چاہیے، خواہ وہ سعودی عرب یا کسی اور ملک کی تاریخ سے مختلف کیوں نہ ہو۔ سعودی عرب کے مطابق روزہ رکھنا اگر اپنے ملک کی 9 ذوالحجہ سے مختلف ہو تو وہ شرعاً درست نہیں۔
نیز کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ حج سعودی عرب میں ہوتا ہے، اس لیے ہم بھی انہی کی تاریخ پر روزہ رکھیں، مگر یہ قیاس درست نہیں۔ عبادات کی تاریخیں چاند سے وابستہ ہیں، نہ کہ کسی مخصوص مقام سے۔
جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "صُوموا لِرُؤيتِه وأفطِروا لِرُؤيتِه"
(یعنی چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ملک کی اپنی رؤیتِ ہلال معتبر ہوتی ہے۔
حوالہ جات
أخرج الامام البخاري رحمہ اللہ: مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رضي الله عنه يَقُولُ:قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، أَوْ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم: (صوموا لرؤيته، وأفطروا لرؤيته ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ). ( صحيح البخاري: 2/ 674) ،(رقم الحدیث: 1810)
وفی السنن الكبرى - البيهقي :عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " صومكم يوم تصومون، وأضحاكم يوم تضحون۔ ( السنن الكبرى : 4/ 422) ،( رقم الحدیث: 8208)
وفی توضيح الأحكام من بلوغ المرام:
جاء في "جامع الترمذي" (633) من حديث أبي هريرة؛ أنَّ النَّبىَّ صلى الله عليه وسلم قال: "صومكم يوم تصومون، وفطركم يوم تفطرون".
قال الشيخ: من رأى وحده هلال رمضان، فلا يلزمه الصوم، ولا جميع أحكام الشهر، وإنما يصوم مع الناس، ويفطر مع الناس، وهذا أظهر الأقوال.
وأصل المسألة: أنَّ الله علَّق أحكامًا شرعية بمسمى الهلال والشهر، كالصوم والفطر والنحر، فشرط كونه هلالاً وشهرًا، فلو طلع في السماء، ولم يعرفه الناس لم يكن هلالاً، فلا يسمى هلالاً إلَاّ بالظهور والاشتهار، كما دلَّ عليه الكتاب والسنة.
أما المشهور من مذهب الإمام أحمد والأئمة الثلاثة-: فإنَّ من رأى الهلال وحده، فإنَّه يلزمه الصوم، وجميع أحكام الشهر المتعلقة به. لعلمه أنَّ هذا اليوم من رمضان.
* الفائدة الثالثة:
خلاصة الأقوال في الصوم والفطر ثلاثة:
الأول: أنَّه إذا رؤي في بلد، لزم الناس كلهم الصوم ة نظرًا إلى أنَّ الخطاب لكل المسلمين، بقوله: "إذا رأيتموه".
الثاني: اعتبار اختلاف المطالع، وتقدم تحديده بالكيلومترات، وهذا ملاحظ فيه أنَّ الخطاب خاص لمن يمكن رؤيته في قطرهم.
الثالث: لزوم الصوم والفطر إذا كانوا تحت ولاية واحدة، فالصحيح من حيث الدليل هو الثاني، والعمل الآن على الثالث.
( توضيح الأحكام: 3/ 458)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
/5ربیع الثانی ،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | سعید احمد حسن صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


