| 88734 | شرکت کے مسائل | شرکت متناقصہ کا بیان |
سوال
کیا مشارکہ کار فنانسنگ جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ذکرکردہ صورت سے معلوم ہوا کہ یہاں تین عقود(contracts) منعقد ہوتے ہیں: سب سے پہلے شرکت ، اس کے بعد اجارہ، آخر میں بیع۔
پس اگر تینوں عقود کا انعقاد علیحدہ علیحدہ طور پر کیا جائے اور ایک کو دوسرے کے ساتھ مشروط نہ کیاجائے، نیز ان تینوں عقود کے صحیح ہونے کی باقی تمام شرائط موجود ہوں تو کار فنانسنگ میں شرکت متناقصہ جائز ہے ۔
اسلامی بنکوں میں ان شرائط کے پورے کرنے کا اہتمام ہوتا ہے ؛ لہذا ان سے مشارکہ فنانسنگ کی بنیاد پر گاڑی لینا درست ہے ۔ تاہم عقد کے وقت بنک کے عملے سے تمام تفصیلات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے تاکہ دلی اطمینان ہو اور دوران ادائیگی یا ڈیفالٹ ہونے کی صورت میں ممکنہ نتائج سامنے رہیں اور کسی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حوالہ جات
الدر المختار مع رد المحتار(4/ 299) ، كتاب الشركة
قال الحصكفي رحمه الله : شركة ملك: (وهي أن يملك متعدد )اثنان فأكثر (عينا) أو حفظا كثوب هبه الريح في دارهما فإنهما شريكان في الحفظ قهستاني (أو دينا) على ما هو الحق.
الدرالمختار مع ردالمحتار:(9/65)، باب الإجارة الفاسدة، دارالكتب العلمية
قال الحصكفي رحمه الله : وتفسد -الإجارة- بالشيوع إلا إذا آجر من شريكه.
رد المحتار مع الدر المختار:( 6/468)، كتاب الشركة ،دارالكتب العلمية
قال العلامة ابن عابدين الشامي رحمه الله تعالى : لوباع أحد الشركين في البناء حصته لأجنبي لايجوز ولشريكه جاز.
محمد امداد اللہ بن مفتی شہید اللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
22/ربیع الآخر / 1447 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


