03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد او تایا میں کون زیادہ اطاعت کا مستحق ہے
89128معاشرت کے آداب و حقوق کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

السلام علیکم    ورحمۃ اللہ  گزارش ہے کہ بچپن میں، میرے تایا اور دادا مجھے امریکہ لے گئے تھے جہاں میری پرورش ہوئی۔ اس وقت میرے والدین پاکستان میں مقیم تھے۔ میری شادی بھی وہیں امریکہ میں ہوئی۔

تقریباً 18 سے 20 سال بعد میرے والدین بھی امریکہ آ گئے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ خاندان کے کچھ معاملات میں میرے والدین اور تایا کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ چونکہ میری پرورش تایا کی زیر نگرانی ہوئی ہے، اس لیے وہ مجھ سے ایک طرح کا مطالبہ کرتے ہیں، جبکہ میرے والدین دوسری بات کا حکم دیتے ہیں۔

ان حالات میں میں سمجھ نہیں پا رہا کہ مجھے کس کی بات ماننی چاہیے؟ والدین کی یا تایا کی؟ براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے تایا جان اور والد صاحب دونوں آپ کے لیے    احترام کے مستحق  ہیں ۔تایا جان کے آپ پر بہت زیادہ احسانات ہیں اور والد صاحب بحیثیت والد اطاعت و فرمانبرداری کے  حق دار ہیں۔آپ کوشش کریں  کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔اگر ان میں اختلاف ہوجائےاور کوئی ایک واضح غلطی پر ہو تو اس کی بات نہ مانیں اور اگر دونوں کی بات ماننے کی گنجائش ہو تو قرآن و سنت کی روشنی میں آپ کے والد صاحب اطاعت وفرمانبرداری کے زیادہ حق دار ہیں۔

حوالہ جات

روح البيان (5/ 149):

«قال الامام العزالي رحمة الله اكثر العلماء على ان ‌طاعة ‌الوالدين واجبة فى الشبهات ولم تجب فى الحرام المحض لان ترك الشبهة ورع ورضى ‌الوالدين حتم اى واجب»

تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (25/ 120):

[سورة لقمان (31) : آية 15]:وإن جاهداك على أن تشرك بي ما ليس لك به علم فلا تطعهما وصاحبهما في الدنيا معروفا واتبع سبيل من أناب إلي ثم إلي مرجعكم فأنبئكم بما كنتم تعملون  .يعني أن خدمتهما واجبة وطاعتهما لازمة ما لم يكن فيها ترك طاعة الله، أما إذا أفضى إليه فلا تطعهما.

تفسير ابن كثير - ط أولاد الشيخ (9/ 243):

{وبرا بوالدتي} أي: و أمرني ببر والدتي، ذكره بعد ‌طاعة الله ربه، لأن الله تعالى كثيرا ما يقرن بين الأمر بعبادته وطاعة ‌الوالدين، كما قال تعالى: {وقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه وبالوالدين إحسانا} وقال: {أن اشكر لي ولوالديك إلي المصير}.

وقوله: {ولم يجعلني جبارا شقيا} أي: ولم يجعلني جبارا مستكبرا عن عبادته وطاعته، وبر والدتي، فأشقى بذلك.قال سفيان الثوري: الجبار الشقي: الذي يقبل على الغضب.

وقال بعض السلف: لا تجد أحدا عاقا لوالديه إلا وجدته جبارا شقيا.

صحيح مسلم (1/ 91 ت عبد الباقي):

وحدثني يحيى بن حبيب الحارثي. حدثنا خالد (وهو ابن الحارث) حدثنا شعبة. أخبرنا عبيد الله بن أبي بكر، عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، في الكبائر قال:

الشرك بالله. وعقوق ‌الوالدين. وقتل النفس. وقول الزور.

سنن الترمذي (4/ 32):

عن أبي عمرو الشيباني عن ابن مسعود، قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله أي الأعمال أفضل؟ قال: "الصلاة لميقاتها". قلت: ثم ماذا يا رسول الله؟ قال: "بر الوالدين". قال: قلت: ثم ماذا يا رسول الله؟ قال: "الجهاد في سبيل الله"، ثم سكت عني رسول الله صلى الله عليه وسلم ولو استزدته لزادني.

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

06/جمادی   الآخرۃ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب