| 89139 | علم کا بیان | علم کے متفرق مسائل کابیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔میرا سوال یہ ہے کہ میرے ایک دوست کے والد مزاج کے اعتبار سے بہت سخت ہیں۔ وہ اکثر مار پیٹ اور سخت کلامی کرتے ہیں۔ والد صاحب نے اپنے دو بڑے بیٹوں کی شادیاں کر دی ہیں لیکن دو چھوٹے بیٹے جو مدرسے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کی کفالت سے صاف انکار کر دیا ہے۔ نہ بڑے بھائی مدد کرتے ہیں اور نہ والد صاحب۔ بلکہ ان سے کہہ دیا ہے کہ اپنی شادی اور رہن سہن کا بندوبست خود کرو۔ اب ان مجبوریوں کی وجہ سے یہ دونوں بھائی مدرسہ چھوڑ کر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ،تاکہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ بعض علماء نے ان کو کہا ہے کہ مدرسہ چھوڑنا گناہ ہوگا۔ میرا سوال یہ ہے کہ :
1. اس صورت میں والد کی شرعی ذمہ داری کیا بنتی ہے؟
2. کیا ایسی مجبوری کی حالت میں مدرسہ چھوڑ کر کام کرنا شرعاً جائز ہے؟
3. کیا ان پر گناہ ہوگا اگر وہ تعلیم چھوڑ کر روزگار اختیار کریں؟
براہ کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1 . صورت مسئولہ میں دونوں بیٹے اگردینی تعلیم میں مشغولیت کی وجہ سے کمائی نہیں کرسکتے،تو والد صاحب پر ان کا نفقہ لازم ہے۔اور شرعی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان دونوں بیٹوں کی ضروریات بذات خود پوری کرے۔
2/3. اگر والد صاحب اپنی شرعی ذمہ داری ادا نہ کرے، تو ان بچوں کے لیے تعلیم چھوڑکر کاروبار کرنا شرعا جائز ہوگا،اس میں کسی قسم کا گناہ نہیں ہے۔ لیکن اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ کسب معاش کی ایسی شکل تلاش کی جائے، جس کی وجہ سے یہ حضرات علم دین کا تسلسل جاری رکھ سکیں۔ اور آج کل ایسے معیاری مدارس موجود ہیں جہاں جز وقتی پڑھائی ہوتی ہے۔ لہذا اگر ممکن ہو تو وہیں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ کر فارغ اوقات میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئی کام کیا جائے۔ اور اگر اس کی ہمت نہ ہو تو درس نظامی کی جگہ دو سالہ دراسات یا کسی بھی جگہ مختصر دورانیے کا دینی علوم پر مبنی کورس کیا جاسکتا ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية : (ج:1، ص:584، ط: العلمیة)
"طلبة العلم إذا كانوا عاجزين عن الكسب لا يهتدون إليه، لا تسقط نفقتهم عن آبائهم إذا كانوا مشتغلين بالعلوم الشرعية، لا بالخلافيات الركيكة وهذيان الفلاسفة، ولهم رشد وإلا لا تجب كذا في الوجيز للكردري".
رد المحتار : (ج: 3، ص: 614، ط: ايچ ايم سعيد)
"(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر... (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقاوزمن.
سید سمیع اللہ شاہ سید جلیل شاہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
25/ جمادی الاولی/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


